بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانافاروق عبداللہ کی مرضی:محبوبہ مفتی

میں کبھی یہ نعرہ نہیں لگاو ¿ں گی،واجپائی کی پالیسی سے منہ موڑناکشمیرکی موجودہ صورتحال کانتیجہ

سری نگر:۵۲،اگست:کے این این /پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ’میں اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے کبھی بھی یہ نعرہ نہیں لگاو ¿ں گی‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک بھارتی شہری کو اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانا پڑے۔ محبوبہ مفتی نے نجی ٹی وی نیوز چینل ’آج تک‘ سے بات چیت کے دوران نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ پیش آئے حالیہ ہزیمت آمیز واقعہ پر کہا ’(بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانا ) ان کی مرضی ہے۔ وہ کیوں نہیں لگا سکتے ہیں؟ اگر ان کو لگتا ہے کہ ایسا موقع ہے تو وہ لگا سکتے ہیں، اس میں کیا ہے؟ یہ ضروری نہیں کہ ایک بھارتی شہری کو اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانا پڑے۔خبررساں ایجنسی یواین آئی کے مطابق محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ میں اس کو بالکل عجیب سمجھتی ہوں۔ آپ قومی ترانے پر کھڑے نہیں ہوئے تو شام کے وقت ٹیلی ویڑن چینلوں پر بحث شروع ہو جاتی ہے‘۔محبوبہ مفتی نے کہا ’ہندوستان زندہ باد کون نہیں کہتا ہے۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا کون نہیں کہتا۔ یا اے ماں تجھے سلام۔ نعروں کو ایشو بنانا صحیح نہیں۔ جو یہ نعرے لگائے وہ بہت اچھا ہوگیا۔ چاہے اس کے سیاسی بیانات کتنے ہی الٹے سیدھے کیوں نہ رہے ہوں۔ مگر جو نہیں بولے وہ ب ±را ہوجاتا ہے، اینٹی نیشنل کہلاتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ میں اپنی قوم پرستی کا ثبوت دینے کے لئے کبھی بھارت ماتا کی جے کا نعرہ نہیں لگا سکتی‘۔ انہوں نے کہا ’مجھے کسی چیز سے اعتراض نہیں ہے لیکن اپنی قوم پرستی ثابت کرنے کےلئے ہندوستان زندہ باد کا نعرہ بھی نہیں لگاو ¿ں گی‘۔ محبوبہ مفتی نے فاروق عبداللہ کے ساتھ پیش آئے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’وہ کبھی کبھی ایسا (ایسے نعرے لگاتے ہیں) کہتے ہیں۔ وہ ہمارے جموں وکشمیر کے بہت بڑے لیڈر ہیں۔ اعتراض جتانے کےلئے کوئی مہذب طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔انہوں نے فاروق عبداللہ کیساتھ یکجہتی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ایک بزرگ لیڈر کے ساتھ اس طرح کا رویہ میرے حساب سے صحیح نہیں ہے‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت میں عدم برداشت روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے ملک میں عدم برداشت روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ ابھی سدھو جی پاکستان چلے گئے۔ وہاں وہ عمران خان سے ملے اور انہیں گلے لگایا تو پورے ملک (بھارت) کا میڈیا بھڑک اٹھا۔خیال رہے کہ فاروق عبداللہ کوعیدالاضحی کے موقع پر سری نگر کے درگاہ حضرت بل میں اس وقت شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب نماز عید کے اجتماع کے شرکاءنے ان کی موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے ’کشمیر کی آزادی‘ اور ’پاکستان کے حق میں‘ شدید نعرے بازی کی۔ فاروق عبداللہ نے گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے ہند‘ کے نعرے لگائے تھے۔ اس دوران پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے انگریزی نجی نیوزچینل انڈیاٹوڈے پرسینئرصحافی سرراجدیپ ڈیسائی کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے پاس جموں وکشمیرمیں مفاہمت ومذاکرات کے حوالے سے واجپائی جی کی پالیسی ایک میراث کی طرح ہے اورہمیں کسی اورپالیسی سے کوئی سرکارنہیں ۔انہو ں نے کہاکہ واجپائی جی نے کشمیرمیں اعتمادکی بحالی اورپاکستان کیساتھ تعلقات کوبہتربنانے کیلئے جوپالیسی اورحکمت عملی اپنائی ،وہ کامیاب رہی ،اوریہ اسی کامیاب پالیسی کانتیجہ تھاکہ پاکستان کے سابق فوجی صدرپرویزمشرف نے اقوام متحدہ قراردادوں سے ہٹ کرآوٹ آف بوکس کشمیرحل پررضامندی ظاہرکی ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ واجپائی دورمیں سرحدوں پرجنگ بندی رہی اوردراندازی کاسلسلہ بھی رُک گیا۔کشمیر میں امن کیساتھ ساتھ اعتمادبھی بحال ہوگیا۔آرپارتجارتی سرگرمیوں اورآواجاہی کوہری جھنڈی دکھائی گئی ۔انہوں نے کہاکہ واجپائی اورمشرف کشمیرمسئلے کے کسی قابل قبول حل کی جانب کامیابی کیساتھ آگے بڑھ رہے تھے لیکن بقول محبوبہ مفتی پھریوپی اے اول اوریوپی اے دوم کی سرکاروں نے اس عمل کوآگے نہیں بڑھایاجبکہ موجود ہ مرکزی سرکاربھی اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت نہیں کرسکی۔سابق زیراعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیاکہ کشمیرایک سیاسی معاملہ ہے جسکوحل کرنے کیلئے سیاسی عمل کی ضرورت ہے ،جیسے کہ واجپائی کے دورمیں ہوا۔ایک جانب بھارت اورپاکستان کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوئے اوردوسری جانب کشمیرکی حریت لڈرشپ نے نئی دہلی میں اُسوقت کے نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی کیساتھ مذاکرات کئے۔انہوں نے کہاکہ کشمیرمیں تعمیراتی یاترقیاتی اقدامات سے صورتحال بہترنہیں بنائی جاسکتی ہے بلکہ اس کیلئے واحدراستہ سیاسی عمل ہے جسکافقدا ن رہاہے۔

Comments are closed.