سرینگر//کشمیر دشمن عناصر ریاست اور ریاستی عوام کو خطوں اور ذیلی خطوں میں تقسیم کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں اور اس کام میں آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں بھاجپا اور پی ڈی پی نے مخلوط دورِ حکومت میں تن دہی سے کام کیا اور اس دوران جموں وکشمیر کی انفرادیت، اجتماعیت، مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ان گنت سازشیں رچائی گئیں۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقعے پر پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، شمالی زون صدر ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، سینئر نائب صدر محمد سعید آخون، سینئر لیڈران ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، پیر آفاق احمد، ایڈوکیٹ شبیر احمد کلے، غلام قادر پردیسی، صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار، اقلیتی سیل کے آرگنائزر جگدیش سنگھ آزاد ، غلام نبی بٹ ، غلام نبی تیل بلی ،کے علاوہ کئی لیڈران اور عہدیداران موجود تھے۔ ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر کے عوام کی ہر نازک موڑ پر صحیح رہنمائی کی اور اس جماعت نے عوام کی خوشحالی اور فارغبالی کیلئے مالی اور جانی قربانیاں دینے سے کبھی گریز نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ35Aپر اس وقت جو غیر یقینیت پائی جارہی ہے پی ڈی پی اُس سے اپنا پلو نہیں جھاڑ سکتی۔ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کیلئے جو کچھ اس وقت ہورہا ہے اس سب کیلئے پی ڈی پی براہ راست ذمہ دار ہے کیونکہ اس جماعت نے اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے کیلئے کشمیر دشمن کاموں کیلئے بھاجپا اور آر ایس ایس کو محفوظ راہ داری فراہم کی۔ بھاجپا ریاست سے باہر اور ریاست کے اندر خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کیلئے مختلف حربے اپنا رہی تھی لیکن پی ڈی پی والے ان حربوں کو اَن دیکھا اور اَن سنا کرتے رہے۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کی دفعہ35Aسپریم کورٹ میں سماعت کیلئے بھی منظور ہوگیا اور آج ریاست کے تینوں خطوں کے لوگ اس دفعہ کو لیکر تشویش میں مبتلا ہیں۔
علی محمد ساگر نے کہا کہ جب تک ریاست میں نیشنل کانفرنس کا جھنڈا لہراتا رہے گا تب تک دفعہ 35اے آئین ہند کا ناقابل تنسیخ حصہ رہے گا۔ان کاکہناتھاکہ یہ دفعہ ہماری شناخت ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی پی نے اقتدار کی خاطر بھاجپا کے سامنے ہر ایک معاملے پر سمجھوتہ کرکے عوامی اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچائی۔ ساگر نے کہاکہ پی ڈی پی نے بھاجپا کی ہر ہاں میں ہاں ملائی ۔جی ایس ٹی ہو ،نیشنل فوڈ سیفٹی ایکٹ ہو یا پھر سرفیسی ایکٹ ،ہر ایک قانون کو نافذ کرانے میں پی ڈی پی نے بھاجپا کو محفوظ اور آسان راہ داری فراہم کی۔
Comments are closed.