وزیر دفاع نے غصہ میں اپنا کنٹرول کھویا

مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے کرناٹک کے انچارج وزیر سا را رمیش کو ایک چھوٹی سی بات پر جس طرح ذلیل کیا اسے دیکھ کر وہاں موجود صحافی طبقہ حیران رہ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 اگست کو جب مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتارمن کرناٹک سیلاب سے متاثر علاقے کوڈاگو میں راحت رسانی کے کاموں کا جائزہ لینے کے بعد پریس کانفرنس کے لیے پہنچیں تو ان کا حیران کرنے والا چہرہ لوگوں کے سامنے آیا۔ وہ کرناٹک کے انچارج وزیر سا را رمیش پر اس قدر ناراض نظر آ رہی تھیں جیسے انھوں نے کوئی گناہ کیا ہو۔ حالانکہ رمیش نے ان سے صرف اتنا کہا تھا کہ وقت کم ہے اس لیے پریس کانفرنس جلدی ختم کر دیں۔ اس کے بعد جو رد عمل انھوں نے پیش کیا اسے دیکھ کر وہاں موجود صحافی حضرات بھی ششدر رہ گئے۔

پریس کانفرنس میں موجود لوگوں کے مطابق وقت کی کمی کے سبب مہیش نے سیتارمن کو پریس کانفرنس جلد ختم کرنے کی بات جیسے ہی کہی، سیتا رمن ناراض ہو گئیں اور کہا کہ وہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے بنائے گئے پروگرام پر عمل کر رہی ہیں اور وقت کی کمی ان کی غلطی نہیں ہے۔ سیتا رمن اس بات سے بھی برہم نظر آئیں کہ وہ ایک انچارج وزیر کے ذریعہ طے شدہ پروگرام پر عمل کر رہی ہیں۔ انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ "حیرانی کی بات ہے کہ میں مرکزی وزیر ہوں اور ایک انچارج وزیر کی ہدایت پر عمل کر رہی ہوں۔”

اس درمیان جب کسی نے پیچھے سے سیتارمن سے کہا کہ مائک آن ہے اور سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے تو انھوں نے لاپروائی سے کہا کہ مائک آن رہنے دیجئے۔ اتنا ہی نہیں، جب ایک صحافی نے کہا کہ کیمرے کے سامنے زور سے بولیے، تو انھوں نے غصے کی حالت میں ہی کہا کہ مائک آن ہے جو کچھ ریکارڈ کرنا ہے کر لو۔ مرکزی وزیر دفاع کا یہ چہرہ وہاں موجود سبھی کے لیے حیران کرنے والا تھا۔

پریس کانفرنس کے بعد ایک نیوز ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے سا را رمیش نے سیتارمن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ "جو لوگ راجیہ سبھا میں چنے جاتے ہیں ان کا اصلی رویہ یہی ہوتا ہے۔ سیتا رمن نے بلاوجہ ایک چھوٹی سی بات پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ انھیں ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا اور عوام و فوجی افسران کے سامنے اپنے وقار کو قائم رکھنا چاہیے تھا۔”

Comments are closed.