جاوید بیگ کے مطالبے کے جواب میں انجینئر رشید کا جواب،کہا صلاح الدین دہشت گرد نہیں ہے

حقِ خود ارادیت کا مطالبہ کرتے ہوئے پھانسی بھی چڑھایا جاؤں تو غم نہیں

سرینگر// ریاستی اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن آج ایوان میں اسوقت زبردست ہنگامہ ہوا کہ جب حکمران اتحاد کے ممبران نے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔اس دوران پی ڈی پی کے جاوید بیگ نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے انجینئر رشید کو بیچ چوراہے پر پھانسی دینے کی دھمکی دیکر شرکاءِ اجلاس کو حیران کردیا۔ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی انجینئر رشید نے دیگر اپوزیشن ممبروں کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ایوان میں آنے سے روکنے کے خلاف احتجاج شروع کیا۔اس دوران انجینئر رشید ایوان کے بیچوں بیچ آگئے اور انہوں نے وزیر خزانہ سے انکی مائیک کے علاوہ انکی تقریر کی تحریر چھین لی۔اس دوران نیشنل کانفرنس کے محمد شفیع اوڑی نے ایک ادھوراشعر،نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے۔۔۔،پڑھا تاہم انجینئر رشید نے انہیں شرمائے اور ڈرے بغیر شعر مکمل کرنے کے لئے کہا تاہم وہ تو چپ رہے البتہ جاوید بیگ نے انجینئر رشید سے جرأت کرکے خود ہی شعر مکمل کرنے کے لئے کہا جسکے جواب میں انجینئر رشید نے گرجدار آواز میں مکمل شعر پڑھا اور کہا کہ اگر ہندوستان جموں کشمیر کے حالات کو سمجھنے سے قاصر رہا تو مٹ کے رہے گا۔ممبر اسمبلی لنگیٹ کی اس جرأت سے بوکھلا کر بھاجپا کے ریاستی صدر ست شرما کے ساتھ ساتھ جاوید بیگ انتہائی حد تک تلملا اٹھے اور بدکلامی پر اتر آئے۔جاوید بیگ نے اس موقعہ پر کہا کہ انجینئر رشید کو انکے ’’ہند مخالف موقف‘‘کے لئے بیچ چوراہے پر پھانسی دی جانی چاہیئے۔انجینئر رشید نے جاوید بیگ کے اس اشتعال انگیز اور ہتک آمیز جملے کے جواب میں کہا کہ اسطرح کی ذہنیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اصل دہشت گرد کون ہیں اور کہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔حکمران اتحاد کے ممبران کی دھمکیوں کے جاری رہتے ہوئے انجینئر رشید نے بہ آواز بلند کہا’’آپ لوگ سید صلاح الدین اور ذاکر موسیٰ جیسے لوگوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہو لیکن دنیا کو جان لینا چاہیئے کہ اصل دہشت گردجموں کشمیر اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔آپ لوگ صرف کشمیریوں کا ہی قتل عام نہیں کرتے ہو بلکہ گائے کے نام پر خود بھارتیوں کو بھی ہلاک کرتے جارہے ہو‘‘۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو کمزور کئے جانے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے اسے ناکام بنادیا جائے گا۔ریاست میں جاری جی ایس ٹی کے نفاذ کے تنازے کا ذکر کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ اس معاملے نے بھارت کو بری طرح ننگا کردیا ہے اور اسکی یہ دعویداری ایک بار پھر مذاق ثابت ہوئی ہے کہ جموں کشمیر اسکا اٹوٹ انگ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا ہوتا تو پھر بھارت کی دیگر ریاستوں کی ہی طرح جموں کشمیر میں بھی جی ایس ٹی کا نفاذ آسانی سے عمل میں آگیا ہوتا۔انجینئر رشید نے کہا’’جموں کشمیر میں جی ایس ٹی نافذ نہ ہو پانے سے واضح ہوگیا ہے کہ بھارت کشمیر نہیں ہے اور کشمیر بھارت نہیں ہے اور نہ ہی جموں کشمیر بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت سب کو تسلیم کر لینی چاہیئے کہ جموں کشمیر کسی کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ کسی کی شہ رگ بلکہ حدبندی لکیر کے دونوں جانب کا کشمیر، مع گلگت بلتستان کے، ایک متنازعہ علاقہ ہے اور کھوکھلے دعوؤں سے یہ کسی کا اٹوٹ انگ نہیں بن جاتا ہے۔جاوید بیگ کی ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر سچ بولنے کے لئے سولی چڑھنا ہی سزا قرار پایا ہے تو پھر وہ اپنے لوگوں کے حق کی بات کرنے کے لئے خوشی خوشی یہ سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے اپنے ضمیر کا سودا کرکے لوگوں کے بھروسے کو توڑا ہے اور انکے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ سبھی طرح کے مظالم اور غیر قانونی اقدامات جو یہ پارٹی کرتی جارہی ہے در اصل مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے میں اور جموں کشمیر کو بھارتی وفاق سے مزید دور کرنے میں مدد گار ثابت ہورہے ہیں۔

Comments are closed.