کشمیر مسئلہ کے فوری حل کیلئے سفارتکاری کو مزید متحرک کیا جائے گا /نواز شریف
وزیر اعظم پاکستان کی سربراہی میں میٹنگ منعقد ، بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے خواہاں
سرینگر؍30؍جون؍ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت دفترخارجہ میں اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملکی سلامتی کویقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے بتایا کہ کشمیر کے نہتے عوام کی جدوجہد کی بھر پور حمایت جاری رکھی جائے گی ۔ جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت دفتر خارجہ میں اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی جب کہ اجلاس میں وزیراعظم کو افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کے کردار، کشمیر کی موجودہ صورتحال اور ٹرمپ مودی ملاقات سمیت پاک بھارت تعلقات سے متعلق معاملات پر بریفنگ دی گئی، اجلاس میں وزیراعظم نے بدلتی صورتحال پر وزارت خارجہ کو گائیڈلائن بھی دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملکی سلامتی کویقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے جب کہ پاکستان خلیج میں کشیدگی کے خاتمیاورمفاہمتی کوششوں کوجاری رکھے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے کشمیر ، افغانستان ، خیلجی ممالک کے تنازعے اور مودی ٹرمپ گٹھ جوڑ پر اہم فیصلے کئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایوں سے پرامن تعلقات چاہتا ہے مگر اپنی سیکورٹی کیلئے ہرممکن اقدامات کرے گا۔ انہوں نے خارجہ پالیسی پر اہم فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے پرامن ہمسائیگی کے اصول پر کاربند رہے گا۔ افغانستان میں امن کیلئے چین کی سفارتکاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اتحاد کی کوششیں جاری رکھنے اور سعودی قطر تنازعے میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے دفتر خارجہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیر کے نہتے عوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا ، ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ، افغانستان میں امن کے لئے چین کی مصالحتی کاوشوں کا خیر مقدم کرتے ہیں ، خلیج کی صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے پاکستان بدستور اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ مودی مشترکہ اعلامیہ میں امریکہ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش عملاً واپس لے لی ہے ، امریکہ نے خطے میں قیام امن میں کردار ادا کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے سفارتکاری کو مزید متحرک کیا جائے گا۔
Comments are closed.