سیاحتی استقبالیہ مرکز کو ”فری وائی فائی“زون کیا جائیگا،جھیل ڈل کے اندر اور باہر ’بائیلو ٹائیلٹس‘کی تعمیر ہوگی
شوکت ساحل
سرینگر ::ماحول دوست سیاحت کےلئے ہر سیاحتی مقام کےلئے” ماسٹر پلان “کو ناگزیر قرار دےتے ہوئے محکمہ سیاحت کے ناظم تصدق جیلانی نے کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میںامسال سیاحتی سیزن مجموعی طور پر عمدہ رہا ۔
انہوں نے کہا کہ ہر دن اوسطاً200غیر ملکی سیاح وارد ِریاست ہوتے ہیں اوریہاں کے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ ملکی اور مقامی سیاحوں کی تعداد امسال گزشتہ برس کی تعداد کو عبور کرچکی ہے۔
تعمیل ارشاد ملٹی میڈیا گروپ کے ساتھ ایک خاص انٹر ویو کے دوران محکمہ سیاحت کے نومنتخب ناظم تصدق جیلانی نے کہا کہ اُنکی پہلی ترجیح شعبہ سیاحت کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچانا ہے جبکہ سیاحوں کو اعلیٰ طرز کی سہولیت فراہم کرنے پر خاص توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ سیاحتی استقبالیہ مرکز (ٹی آر سی ) کو سیاحوں کے نام مکمل طور پر وقف کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ سیاحتی استقبالیہ مرکز کی توسیع کی جارہی ہے ،جسکے تحت اس مرکز کو بین الاقوامی طرز پر ترقی دی جائیگی ،تاکہ یہاں پر سیاحوں کو قیام سے لیکر کھانے پینے تک معیاری اور اعلیٰ سہولیت بہم رہے ۔
انہوں نے کہا کہ سیاحتی استقبالیہ مرکز کو عنقریب ”فری وائی فائی“زون میں تبدیل کیا جائیگا اور اسکے لئے ایک جامع منصوبہ مرتب کیا گیا ہے ۔محکمہ سیاحت کے ناظم نے کہا کہ سیاحوں کو کشمیر وادی میں مواصلاتی رابطے کی سہولیت فراہم کرنے کےلئے رسمی لوازمات پُر کرنے کے بعد عارضی بنیادوں پر’ موبائیل سم ‘ بھی فراہم کئے جائیں گے اور اسکے لئے تمام مواصلاتی کمپنیوں کے ساتھ محکمہ سیاحت قریبی رابطے میں ہے ۔ایک سوال جواب میں محکمہ سیاحت کے ناظم تصدق جیلانی نے کہا’سیاحت ضرور مگر ماحول دوست،دنیا میں جہاں بھی سیاحت میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں پرماحولیاتی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی لئے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ سیاحت کو ماحول دوست ہونا چاہئے‘۔
انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں سیاحتی شعبہ کوفروغ دےنے کےلئے ماحول دوست پالیسی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ان کا کہناتھا ’ہر سیاحتی مقام کےلئے ماسٹر پلان ہونا چاہئے ،اور ہر سیاحتی مقام کو ماسٹر پلان کے تحت ترقی ،توسیع اور وسعت دی جائیگی ‘۔ان کا کہناتھا کہ اس کےلئے اُس سیاحتی مقام کے گرد ونواح یا گاﺅں کو ماسٹر پلان کے زمرے میں لایا جائیگا ،تاکہ ماحول دوست سیاحت کا منصوبہ پروان چڑھ سکے ۔انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کو آلودگی سے پاک رکھنے کےلئے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی ،تب جاکر ہم یہاں شعبہ سیاحت کو فروغ دےنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔
ان کا کہناتھا کہ شہرہ آفا ق ڈل جھیل کے اندر اور باہر سیاحوں اور سیلانیوں کو بنیادی سہولیت فراہم کرنے کےلئے توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے تحت قریب ایک ہزار ہاﺅس بوٹوں کےلئے ”بائیو ٹائیلٹس ‘ کی تعمیر کا منصوبہ زیر غور ہے جس پر عنقریب ہی عملی جامع پہنچایا جائیگا ۔ایک اور سوال کے جواب میں محکمہ سیاحت کے ناظم نے بتایا ’بنگس ،دودوھ پتھری جیسے یہاں کئی ایسے سیاحتی مقامات ہیں ،جہاں سیاحوں کو جاننے میں کوئی قباحت نہیں ،تاہم کچھ مقامات ایسے جہاں زمینی رابطوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے سیاح نہیں پہنچ پائیں گے ‘۔انہوں نے کہا کہ نئے سیاحتی مقامات کو سیاحتی نقشے پر لانے کےلئے ایک جامع منصوبے کے تحت کام کیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان سیاحتی مقامات تک پہنچنے کےلئے ’پردھان منتری گرام سڑک یوجنا‘ جیسی اسکیموں کے تحت رابط سڑک کو بحال کیا جائیگا ،جو محکمہ اور حکومت کی ترجیح ہے جبکہ ایسے مقامات پر سیاحوں اور سیلانیوں کےلئے سہولیت بہم رکھنے پر بھی توجہ مرکوز کی جائیگی تاکہ اُنہیں (سیاحوں اور سیلانیوں ) کو مشکلات ومسائل کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔ تصدق جیلانی نے کہا کہ مشہور ومعروف سیاحتی مقامات کی طرف جانے والے راستوں پر ”سڑک کنارے سیاحتی مقامات“ پر سیاحوں کولیجانے کےلئے ایک منظم مہم چلائی جائیگی ۔ایک اور سوال کے جواب میں تصدق جیلانی نے کہا کہ شعبہ سیاحت کی ترقی کےلئے ”فروغ ِ مہم “لازمی ہے ۔
ان کاکہناتھا سیاحوں کو کشمیر کی طرف راغب کرنے کےلئے کشمیر کے بارے میں اُنہیں جانکاری دینا عصر حاضر کا اہم تقاضا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملکی سیاحوں تک پہنچنے کےلئے ”علاقائی زبانوں “ میں مہم چلائی جائیگی ۔ محکمہ سیاحت کے ناظم تصدق جیلانی نے کہا کہ شعبہ سیاحت کی ترقی کےلئے متعلقین کا تعاﺅن لازمی ہے ۔کشمیر کی غیر یقینی صورتحال اور اس شعبہ سیاحت پر پڑنے والے منفی اثرارت کے بارے میں تصدق جیلانی کا کہنا ہے کہ میڈیا کو کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے منفی پروپگنڈا سے گریز کرنا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ حالات کا اثر صرف ایک شعبہ پر نہیں بلکہ ہر شعبہ پر پڑتا ہے ،لیکن صرف یہ کہنا کہ شعبہ سیاحت متاثر ہوتا ہے وہ صحیح نہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنت بے نظیر یہاں ہر آنے والے مہمان کے محفوظ ہے لہٰذا کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ان کا کہناتھا ’جس نے کشمیر نہیں دیکھا ،گویا اُس نے کچھ نہیں دیکھا ،ایسا ہم نہیں یہاں آنے والے سیاح کہتے ہیں ،لہٰذا یہ کہنا کہ کشمیر سیاحوں کےلئے غیر محفوظ ہے ،میں اس سے اتفاق نہیں کرتا ‘،کہیں ایک واقعہ ہوتا ہے ،تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پورا کشمیر جل رہا ہے ،یہ صحیح نہیں ہوگا ‘۔
انہوں نے کہا کہ جہاں محکمہ سیاحت شعبہ سیاحت کے فروغ اور ترقی کےلئے بنیادی ڈھانچے کی طرف خاص توجہ مرکوز کررہا ہے ،وہیں جموں وکشمیر کی اقتصادیا ت میں کلیدی اہمیت کے حامل اِس شعبے میں کشمیری روایات کو بھی ضم کیا جارہا ہے ۔انہوں نے اس ضمن میں مثال پیش کرتے ہوئے کہا ’جہاں ہم روایتی پکوانوں کو شعبہ سیاحت میں شامل کرنے جارہے ہیں ،وہیں ہم کشمیر کی قدیم دستکاری صنعت جس میں وﺅڈ کارونگ ،پیپر ماشی ،وغیر ہ شامل ہیں ،کو بھی اس شامل کیا جائیگا ،تاکہ اس شعبہ کی ترقی سے روزگار کے نئے نئے وسائل بھی پیدا ہو‘۔
ان کا کہناتھا کہ محکمہ سیاحت اس شعبے میں روزگار کے وسائل پیدا کرنے کےلئے خاص توجہ مرکوز کررہا ہے اور نوجوانوں کو شامل کرنا پہلی ترجیح ہوگی۔مقامی سیلانیوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال جواب میں محکمہ سیاحت کے ناظم تصدق جیلانی نے کہا ’ہم اپنی تفریحی روایات بھول چکے ہیں ،ہم اپنی روایات کے تحت ہی تفریحی کرنی چاہئے جبکہ مقامی سیلانیوں کو سہولیت فراہم کرنے میں محکمہ دقیقہ فروگزاشت نہیںکیا جائیگا ،وہ ہمارے لئے سرمایہ ہے‘۔
تصدق جیلانی نے کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میںامسال سیاحتی سیزن مجموعی طور پر عمدہ رہا ۔انہوں نے کہا کہ ہر دن اوسطاً200غیر ملکی سیاح وارد ریاست ہوتے ہیں اوریہاں کے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ ملکی اور مقامی سیاحوں کی تعداد امسال گزشتہ برس کی تعداد کو عبور کرچکی ہے۔ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر آنے کی دعوت دےتے ہوئے محکمہ سیاحت کے نومنتخب ناظم تصدق جیلانی نے کہا کہ کشمیر محفوظ تفریحی مقام ہے ۔
Comments are closed.