قومی و ملی شناخت پر حملہ نا قابل قبول:جے آر ایل

خطہچناب ، خطہ ¿ پیر پنجال ،وادی¿ کشمیر اور کرگل تک رہنے والے لوگوں نے یک زبان ہوکر اپنی قومی و ملی شناخت پر حملے کے خلاف فیصلہ صادر کردیا ہے جو بھارت کے حکمرانوں اور قانون سازوں کے لئے چشم کشا ہونا چاہئے۔ اِسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ ۵۳ اے کی آڑ میں چھیڑ چھاڑکی مجوزہ کوشش کے خلاف جموں کشمیر کے باسیوں کا مشترکہ مزاحمتی قیادت کی احتجاجی کال پر لبیک ہر لحاظ سے مثالی ہے۔ ان باتوں کا اظہار مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے آج میڈیا کےلئے جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ ۵۳ اے کی آڑ میںاسٹیٹ سبجیکٹ قانون پر حملے کے خلاف جموں کشمیر کے باسیوں کے اتحاد و اتفاق اور مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر بے مثال احتجاج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ پونچھ ،راجوری، ڈوڈہ، بھدرواہ، کشتوار،کرگل اور پوری وادی ¿ کشمیر نے جموں کشمیر کی خصوصی شناخت پر حملے کے خلاف کے خلاف آواز اُٹھاکر بھارت کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو واضح پیغام سنادیا ہے کہ جموں کشمیر کے باسی اپنی قومی و ملی شناخت کو کسی بھی صورت میں مجروح یا مضمحل نہیں ہونے دیں گے اور ایسی کسی بھی کاوش کے خلاف یکجا اور یک زبان ہوکرمزاحمت کی جائے گی۔ قائدین نے کہا کہ اگرچہ ریاستی پولیس سربراہ نے اعلان کررکھا تھا کہ اسٹیٹ سبجکٹ قانون کے ضمن میں احتجاج کو نہیں روکا جائے گا لیکن سنیچر وار کی شام سے ہی چھاپوں اور گرفتاریوں اور خانہ نظر بندیوں کا سلسلہ دراز کیا گیا ۔ پولیس نے حسب دستور بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی کو خانہ نظر بند کررکھا ہے جبکہ قائد میرواعظ محمد عمر فاروق کو بھی خانہ نظر بند کردیا گیاہے۔ اس کے علاوہ کل شام دیر گئے پولیس نے قائد محمد یاسین ملک کے گھر پر بھی چھاپہ ڈالا لیکن وہ پولیس کی گرفتاری سے بچنے کےلئے گھر سے پہلے ہی نکل چکے تھے۔علاوہ ازیں پولیس نے جناب محمد اشرف صحرائی ،غلام نبی سمجھی، ہلال احمد وار،آغا سید حسن،غلام احمد گلزار،حکیم عبدالرشید، بشیر احمد راتھر(بویا) ،فیاض احمدمےر ،مولوی بشیر احمد، محمد اشرف لایا، محمد یوسف نقاش،بلال احمد صدیقی ،محمد یاسین عطائی،سید امتیاز حیدر، بشیر احمد بٹ اور محمد اشفاق خان کو گرفتار یا خانہ نظر بند کرلیا ہے جبکہ کئی دوسرے قائدین اور اراکین کے گھروں پر بھی چھاپے ڈالے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے پہلے ہی اعلان کررکھا ہے کہ اگر 06 اگست کے روز بھارتی سپریم کورٹ سے کوئی کشمیر دشمن فیصلہ آتا ہے تو کشمیری اسی وقت سے ہمہ گیر عوامی ایجی ٹیشن چلانے پر مجبور ہوں گے۔ اِسی کے پیش نظر قائد محمد یاسین ملک بھی جمعہ ۳ اگست کی شام سے ہی روپوش ہوگئے ہیں تاکہ اگر بھارتی سپریم کورٹ سے کوئی بھی کشمیر مخالف فیصلہ سامنے آتا ہے تو عوام الناس کو قیادت فراہم کی جاسکے۔چھاپوں ،خانہ تلاشیوں،گرفتاریوں اور خانہ نظر بندیوں کے اس چکر کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ اس پولیس گردی نے ایک بار پھر پولیس سربراہ کے دعوﺅں اور بیانات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور ثابت ہوگیا ہے کہ جموں کشمیر ایک پولیس ریاست کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہاں جنگل کا ہی قانون نافذ العمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی پی کے مذکورہ بیان کے دوسرے ہی دن‘ ۵۳اے‘ سلسلے میں اسلام آباد(اننت ناگ) میں وکلاءکے ساتھ ملاقات کےلئے گئے ہوئے حریت رکن عمر عادل ڈار کو بھی گرفتار کرکے پی ایس اے پر کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیاجو اسی جنگل راج کا ایک اور ناقابل تردیدثبوت ہے ۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس سرزمین کے باسیوں کی اپنی خصوصی و منفرد قومی و ملی شناخت اور حیثیت ہے جو ہماری حق خود ارادیت کی بھی ضامن ہے اور اس خصوصی شناخت اور حیثیت پر حملہ کوئی بھی کشمیری ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتا ۔ قیادت نے عوام الناس سے اپیل کی وہ کل 06 اگست 2018ء‘جب کہ بھارتی سپریم کورٹ ۵۳ اے معاملے کی شنوائی کررہا ہے کو بھی مثالی احتجاج کا دن بنائیں اور اگر خدانخواستہ وہاں سے کوئی کشمیر مخالف فیصلہ آتا ہے تو بھرپور اور ہمہ گیر ایجی ٹیشن کےلئے تیا ر رہیں۔انہوں نے اسٹیٹ سبجکٹ قانون کے تحفظ کےلئے کشمیر کی جملہ تجارتی انجمنوں، چیمبرس، ملازم انجمنوں، ٹرانسپورٹر حضرات، سول سوسائیٹی،دانشوروں، طلباءانجمنوں ، شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگوں، بینکرحضرات، کشمیری تارکین وطن اور زندگی کے جملہ شعبوں سے متعلق لوگوں کے مثالی کردار پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ یونہی اپنے جذبوں کو جوان اور کاوشوں کو دائم رکھیں۔ کل بھٹنڈی جموں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک معصوم کشمیری سید مراد علی شاہ پونچھ اور گول رام بن میں معصوم محمد شفیع گجرکو راست فائرنگ سے شہیداور ایک اور معصوم شکیل احمد کو زخمی کردینے کی سخت الفظ میں مذمت کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ خون کے خوگر بھارتی فوجی ہر ساعت اور ہر جا انسانی خون بہانے کےلئے بے قرار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی وادیوں کو معصومین کے لہو سے لالہ زار کردینے کے بعد اب خطہ¿ جموں کو بھی لہو لہاں کرنے کا سلسلہ دراز کیا گیا ہے جو انتہائی تشویش ناک اور قابل مذمت ہے۔ قائدین نے دونوں واقعات میںشہید کئے گئے معصومین کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کےلئے فوری صحت یابی کی بھی دعا کی۔

Comments are closed.