نئی دہلی :مودی حکومت کے خلاف مورچہ کھولنے والے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہانے کہاکہ آج کل اختلاف کے لئے گنجائش کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ حکومت کو کسی طرح کی مزاحمت قابل قبول نہیں ہے اور اس سے جمہوریت خطرے میں پڑ جائیگی ۔
مسٹر سنہانے آج یہاں جواہر لعل نہرو(جے این یو)یونیورسٹی ٹیچرزایسوسی ایشن کے ذریعہ اعلی تعلیمی کمیشن بل پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔انھوں نے سبھی اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ سے اس بل کو منظور نہ ہونے دینے کے لئے آگے آنے اور اسے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کےلئے حکومت پر دباؤڈالنے کی اپیل بھی کی ۔انھوں نے کہاکہ حکومت یوجنا آیوگ کی طرح یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کو بھی ختم کردینا چاہتی ہے ۔
اس پروگرام سے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن راجیو گوڑا،بی جے پی کےلوک سبھا رکن ادت راج ،راشٹریہ جنتادل کےراجیہ سبھا رکن منوج جھا،سی پی آئی کے ارکان پارلیمان ڈی راجہ اور محمدسلیم اور سابق ایم پی نیلوتپل بسو نے بھی خطاب کیا اور سبھی نے اس بل کو خطرناک بتایا۔
مسٹرسنہانے جے این یو انتظامیہ کے ذریعہ اس پروگرام کے لئے کیمپس کے آڈی ٹوریم کو نہ دینے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ آج کل ہرجگہ ’اسپیس ‘کم ہوتاجارہاہے ۔جے این یو اظہاررائے اورفکری آزادی نیز روشن خیالی کے لئے جانی جاتی ہے ،لیکن آج اختلاف کی آواز کےلئے جگہ نہیں ہے اور حکومت کو مزاحمت قبول نہیں ہے حکومت کو یہ یونیورسٹی پسند نہیں ،اس لئے وہ اسے بند کرناچاہتی ہے ۔وہ اور بھی ایسے اداروں کو بند کرناچاہتی ہے جو اسے پسند نہیں ہیں ۔
مسٹر سنہا نے کہاکہ آج کے حالات ناسازگار ہیں ،کچھ بھی خالص اور پاک صاف نہیں ہے ۔بھیڑ ہرجگہ تباہی مچانے میں لگی ہے ،ایک طرح کی ذہنیت والے لوگ سبھی طرح کی مخالفت میں اٹھنے والی آواز کو دبانے میں لگےہیں ۔انھوں نے کہاکہ آج اختلاف کےلئے جگہ نہیں ہے اگر جمہوریت میں یہ اسپیس یعنی جگہ نہیں ہے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جائیگی۔انھوں نے کہاکہ آج میڈیا میں کیاخبریں شائع ہونگی ،اس پر بھی انکا کنڑول ہے ،اس لئے پتہ نہیں کہ انکا پیغام دورتک جائیگا یانہیں ۔
Comments are closed.