احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کیلئے شہر سرینگر کے 7علاقوں میںغیر اعلانیہ کرفیو
اننت ناگ ،پلوامہ ،حاجن اور سوپور میں نماز جمعہ کے بعدپُر تشدد احتجاجی مظاہرے
سرینگر /23 جون/اے پی آئی/ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کیلئے شہر سرینگر کے 7پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سختی کے ساتھ کرفیو جیسی بندشیں عائد کر کے لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ،شہر خاص کی بیشتر سڑکوں کو کھار دار تار سے سیل کر دیا گیا تھا ،تاہم نماز جمعہ کے موقعے پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف اننت ناگ ، پلوامہ ،حاجن اور سوپور قصبے میں پُر تشدد احتجاجی مظاہرے ،پولیس وفورسز اور نوجوانوں کے مابین تصادم آرائیوں کے دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں ۔اے پی آئی کے مطابق مزاحمتی قیادت کی جانب سے جمعتہ الوداع اور نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد عام شہریو ں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے انتظامیہ نے گرمائی دارالخلافہ شہر سرینگر کے 7پولیس اسٹیشنوں مائسمہ ،کرالہ کھڈ، صفا کدل ، مہاراج گنج ،خانیار ،رعناواری اور نوہٹہ کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کر کے لوگوںکی نقل و حرکت پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کرتے ہوئے عام شہریوں کو اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیںدے دی ۔ پولیس وفورسزنے شہر خاص کی بیشتر سڑکوں کو کھار دا رتاروں سے سیل کر دیاتھا جبکہ پولیس و فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر گشت کیا جا رہاتھا تاکہ ناخوشگوار واقعات کو رونما ہونے سے پہلے ہی ٹالا جا سکے ۔ نمائندے کے مطابق شہر خاص میں جمعتہ الوداع کے موقعے پر غیر اعلانیہ کرفیونافذ کرکے نہ صرف تاریخی جامع مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ اداکرنے سے روکا گیا بلکہ کرفیو نافذکرکے تجارتی سرگریوں پر بھی پابندی عائد کرتے ہوئے لوگوں کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کر دیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق اننت ناگ میں نماز جمعہ کے بعد عا م شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے آزادی و اسلام کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی ،پولیس و فورسز نے نعرے بازی کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ان کا تعاقب کیا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوںنے خشت باری شروع کر دی ۔ تشددپر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے اور پیپر گیس کا بے تحاشا استعمال کیا ۔ ادھر کاکہ پورہ پلوامہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نوجوانوںنے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے اور پولیس و فورسز پر سنگباری شروع کر دی ۔ سنگباری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اشک آور گیس کے گولے داغے ، پیپرگیس اور ساؤنڈ شلوں کا بھی استعمال کیا تاہم پلوامہ میں صورتحال اس وقت سنگین ہوئی جب کوٹ کے گارڈ روم کو نامعلوم افراد نے نذرآتش کرنے کی کوشش کی تاہم متحرک پولیس اہلکاروں نے ہوا میں گولیاں چلا کر حادثے کو رونما ہونے سے ٹال دیا ۔ نمائندے کے مطابق پلوامہ اور اسکے ملحقہ علاقوں میں پولیس و فورسز اور نوجوانوں کے مابین تصادم آرائیوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ۔ادھر حاجن میں بھی نماز جمعہ کے بعد تشددبھڑک اٹھا ،نمازجمعہ ادا کرنے کے بعد نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ،اسلام و آزادی کے حق میں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف نعرے بازی شروع کرتے ہوئے پولیس و فورسز پر پتھر برسائیں ،سنگباری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے طاقت کااستعمال کیا ۔ دریں اثناء شمالی کشمیرکے سوپور قصبے میں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد تشدد بھڑک اٹھا ،بڑی تعداد میںنوجوان نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نعرے بازی کرتے ہوئے مین چوک سوپور کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے کہ پولیس و فورسز نے انہیں روکا ،جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوںنے خشت بھاری شروع کر دی ۔ پولیس و فورسز نے تشددپر اتر آئے نوجوانوںکو منتشر کرنے کیلئے پیپر گیس اور اشک آو ر گیس کے گولے داغے جس سے قصبے میں افراتفری اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا اورکئی گھنٹوں تک کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہو کر رہ گئیں۔
Comments are closed.