ڈی ایس پی کی ہلاکت میں ملوث 2افراد گرفتار ،ایک کی تلاش شروع قتل میں ملوث افراد کو ہر حال میں قانون کا سامنا کرنا پڑیگا /ڈی جی پی
سرینگر /23 جون// ڈی ایس پی کی ہلاکت میں ملوث 2افراد کوگرفتارکر کے ایک اور ملزم کی شناخت کا دعویٰ کرتے ہوئے جموںو کشمیر پولیس کے سربراہ نے کہا کہ پولیس افسر کی ہلاکت میں ملوث افراد کو قانون کا سامنا ہر حال میں کرنا پڑیگااورایسے افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں بھرتی جا ئیگی ،مذکورہ ڈی ایس پی کو اس وقت مشتعل ہجوم نے پیٹ پیٹ کرقتل کر دیاجب وہ جامع مسجد میں سیکوٹی صورتحال کا جائیزہ لینے کے بعد واپس آرہا تھا ۔ اے پی آئی کے مطابق پولیس نے نوہٹہ سرینگر کے جامع مسجد علاقے میں پیٹ پیٹ کر قتل کئے گئے ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت کی ہلاکت میں ملوث 2افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ،جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نے کہا کہ قتل میں ملوث ایک اور ملزم کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کر دی گئی ہے جو گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہو گیا ہے ۔ڈی جی پی کے مطابق پولیس افسر کی ہلاکت میں ملو ث افراد کو ہر حال میں قانون کا سامنا کرناپڑیگا اور ایسے عناصر سے کوئی رعایت نہیں کی جائیگی ۔ ڈی جی پی کے مطابق قتل کے اس بھیانک واقع کی تحقیقات باریک بینی سے شروع کر دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ تاریخی جامع مسجد کے باہر اس وقت ایک پولیس افسر کو مشتعل ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا جب مذکورہ پولیس افسر تراویح نماز کے دوران اپنے کیمرے سے فوٹو کھینچنے کے علاوہ آزادی کے حق میں نعرے بازی کرنے والے نوجوانوں کی عکس بندی کررہا تھا ۔ 8رکعات ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر آنے والے نوجوانوں کی جب پولیس افسر پر نظرپڑی تو انہوںنے فوٹو کھینچوانے پر اعتراض کیااور اسے اپنی شناخت ظاہرکرنے پر زور دیا جس پر پولیس افسر اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا اور اپنا سروس پستول نکال کر اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں دانش احمد میر ، مدثر احمد اور سجاد احمد بٹ نامی تین نوجوان زخمی ہوئے جنہیں علاج کیلئے اسپتال پہنچا دیا گیا ۔ پستول سے گولیاں چلانے والے پولیس افسر کا نوجوانوںنے تعاقب کیا اور گیرے میں لے کر پیٹ پیٹ کر اس کی جاں لے لی جبکہ مذکورہ پولیس افسر کے 2ساتھی فرار ہوے اور انہوںنے نوہٹہ پولیس کو پولیس افسر کے ساتھ پیش آئے واقعے کے بارے میں جانکاری فراہم کی ۔ نمائندے کے مطابق نوہٹہ پولیس پارٹی جب جائے موقعہ پر پہنچ گئی تو انہوں نے مذکورہ ڈی ایس پی کو پولیس کے ساتھ کام کرنے سے صاف انکار کیا اور مذکورہ پولیس اہلکارو کی شناخت کے بعد بارے میں بعد میں جانکاری فراہم کرنے کا یقین دلایا ۔ پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کی نعش جب تحویل میں لے لی گئی ،قانونی ضابطے پورے کرنے کے دوران اس کی شناخت بحیثت ڈی ایس پی سیکورٹی کے بطور ہوئی ۔ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پویس کے مطابق ڈی ایس پی جامع مسجد میں حفاظتی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد واپس آرہا تھا کہ اس دوران اس پر کئی عناصر نے حملہ کیا اور مذکورہ ڈی ایس پی نے اپنی سروس پستول سے گولیاں چلائیں جس سے 3نوجوان زخمی ہوئے ہیں ۔ ڈی جی پی کے مطابق معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جارہی ہے اور جو کوئی بھی ملوث قرار پائے گا اسے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاجائیگا ۔
Comments are closed.