ڈی ایس پی کی ہلاکت سے مجھے دکھ پہنچا ہے ،کارروائی شرارت آمیز /میر واعظ
پولیس کے صبروتحمل کا امتحان نہ لیا جائے /وزیر اعلیٰ
سرینگر /23 جون/ شب قدر کی رات تاریخی جامع مسجد میں ڈی ایس پی کی ہلاکت پروزیراعلیٰ نے لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ نا مساعد حالات کے دوران جموں و کشمیر پولیس نے ہمیشہ صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا رول ادا کیا تاہم کسی بھی وقت پولیس کے صبر کا باندھ ٹوٹ سکتا ہے ،لوگوں کو چاہیے کہ وہ پولیس کے صبر کا امتحان نہ لیں ،لوگوں کی فلاح و بہبود، امن وامان قائم رکھنے کے دوران جموں و کشمیر پولیس کی کاررروائیاں ہمیشہ مثبت رہی ہیں،ادھر حریت (ع) کے چیئر مین نے ڈی ایس پی کی ہلاکت کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر دکھ ہوا ہے اورقتل کے اس بھیانک واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،انہوںنے کہا کہ ہمیں اپنے صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور انسانیت سوز واقعات کو دہرانے کی اجازت نہیں دینے ہو گی ،ہم ریاست میں قتل و غارت گری کی اجازت نہیں دے سکتے ،صداقت پر مبنی اور خون سے سینچی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیںگے ۔اے پی آئی کے مطابق تاریخی جامع مسجد کے باہر جموں وکشمیر پولیس کے ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت کی بے رحمانہ ہلاکت پر لب کشائی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ پولیس اہلکار کو قبل کرنا شرمناک واقع ہے ۔ انہوں نے ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت کی ہلاکت کو ناقابل برداشت واقع قرا ر دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین دہائیوں کے نا مساعد حالا ت کے دوران جموں و کشمیر پولیس نے ہمیشہ بہادری اور صبروتحمل کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے کر ریاست کے لوگوں کو مدد کرنے کی کوشش کی ،تاہم جس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اس سے اس بات کا بھی گمان ہو تا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس کا صبر کسی بھی وقت لبریز ہو سکتا ہے اور صبرکے باندھ جب ٹوٹ جاتے ہیں تو سیلاب سے تباہی بھی آتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ماضی اپنے آپ کو پھر دہرائے گا جب پولیس کی جپسی دیکھ کرلوگ گلیوں سے فرار ہوجایا کرتے تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پولیس کے صبر کا امتحان نہ لیں انہیں اپنا کام کرنے کی اجازت دیں اور جوواقعات رونما ہو رہے ہیں ان پر قابو رکھیں ۔ ادھر حریت (ع) کے چیئر مین میر واعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد کے باہر پیش آئے واقع اور ڈی ایس پی کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پویس اہلکاروکی ہلاکت سے مجھے ذاتی طور پر دکھ پہنچا ہے اور اسطرح کی ظالمانہ کارروائیاں اسلام میں دہرانے کی کوئی اجازت نہیں ہے ۔ حریت (ع)کے چیئر مین نے کہاکہ جامع مسجد کے باہر پیش آئے اس شرارت آمیز واقعے نے مجھے ہلاکر رکھ دیا ہے اور دین اسلام ہمیں صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی بھر پور تلقین کرتا ہے ۔ میر واعظ نے کہا کہ آئے دن ہم قتل و غارت گری ، جوانوں کے گولیوں سے چھلنی سینے دیکھ رہے ہیں ،بوڑھے والدین اپنے جوان بیٹوں کو لحد میں اتاررہے ہیں ،قتل وغارت گری ،ظلم و جبر ڈھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ جا رہی ہیں تاہم ہمیں اس کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ،ہمیں بالغ نظریہ ، اخوت اور برادری کے جذبے سے شرشار ہونا ہو گا ۔ میر واعظ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات انجام دے کر صداقت پر مبنی اور خون سے سیچی ہوئی جدوجہد کوبدنام کرنے کی اجازت نہیںدی جائیگی ۔
Comments are closed.