ڈوگرہ راج کے بعد پہلی بار جمعتہ الوداع کے دن تاریخی جامع مسجد میں اذان نہیں گونجی
جامع مسجد کے دروازوں پر پہرے،پرندے کو پرمانے کی اجازت نہ تھی
سرینگر /23 جون/اے پی آئی/ ڈوگرہ راج کے بعدپہلی بارجمعتہ الوداع کے موقعے پر تاریخی جامع مسجد میں نہ اذان گونجی اور نہ ہی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی،جامع مسجد کے اردرگرد کے علاقوں کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر کے لوگوں کی نقل و حرکت ر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ وادی کے دوسرے علاقوں میں جمعتہ الوداع کے سلسلے میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے اور علماء نے رمضان المبارک کی فضیلت ،نزول قرآن اور رمضان کی افادیت پر روشنی ڈالی ۔اے پی آئی نمائندے کے مطابق طویل عرصے کے بعد تاریخی جامع مسجد کے ممبرومحراب سے نہ تو اذان گونی اور نہ ہی مسلمانوں کو جمعتہ الوداع کے موقعے پر نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔ پولیس و فورسز نے جامع مسجد کے اردگرد کے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر لوگوں کی نقل و حرکت پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کر دی تھی اور پرندے کو بھی جامع مسجد کی طرف اڑنے کی اجازت نہیں تھی ۔ سخت ترین بندشوں کی وجہ سے جہاں شہر خاص میں سناٹا چھایا رہاوہی جمعتہ الوداع کے موقعے پر وہ ہزاروں کنبے جواس مقدس اور متبرک دن کے موقعے پر لوگوں کی جانب سے نیازو نذران حاصل کر نے کے بعد عیدالفطر کو خوشی سے منایا کرتے ہیں وہ کنبے مایوس اورمحرومیت کے شکار ہو گئے ۔ جمعتہ الوداع کے موقعے پر تاریخی جامع مسجد کے دروازے بند کرنے ،اذان اور نماز جمعہ ادا نہ کرنے پر لوگوں نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ظلم و جبر کی بھی ایک حد ہوا کرتی ہے ۔ جمعتہ الوداع کے موقعے پر جب اس تاریخی جامع مسجد میں ڈیڑھ سے دو لاکھ کے قریب فرزندانِ توحید اللہ کے حضور میں سر کو جھکا کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کیا کرتے تھے انہیں دعامانگنے سے محروم کیا گیا اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو سکتاہے کہ انتظامیہ نے دینی معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت کرنی شروع کر دی ہے ۔امن و قانون قائم رکھنے کی آڑ میں مسجدوں پر تالے چڑھانا کون سی سنجیدگی ہے اور بغیر کسی ڈر اور خوف کے لوگوں کو اپنے مذہبی معاملات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ عوامی حلقوں نے تاریخی جامع مسجد کومحاصرے میں لینے ،دروازوں پر تالے چڑھانے اور لوگوںکو نماز جمعہ سے روکنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار صبرکا امتحان نہ لیا جائے باندھ کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے ۔ ادھر جمعتہ الوداع کے سلسلے میں وادی بھر میںمسجدوں ، خانقاہوں ،امام باڑوں میں روح پرو ر اجتماعات کا انعقاد ہوا ،لوگوںکی کثیر تعداد نے ان اجتماعات میں شرکت کی اور اللہ کے حضور میں سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی ۔ فرزندنِ نے امت مسلمہ کیلئے بالعموم اور ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کیلئے بالخصوص امن ،خوشحالی اور ترقی کی دعا مانگی ۔ جمعتہ الوداع کے موقعے پر علماء نے نزول قرآن ،فلسفہ رمضان پر روشنی ڈالی اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ قرآن کو اپنا کر دنیا میں حاکمیت کے بت کو توڑ کر انسانیت کا بول بالا کر کے خلافت کی بنیاد رکھیں ۔ علماء نے کہا کہ اللہ کے آفاقی کلام میں وہ طاقت ہے کہ وہ مسلمانوں کو پھر اجتماعیت عطا کرکے دنیامیں ممبرو محراب کو پھر سے سجانے اور حکومتوں کی باگ دوڈ سنبھالنے کیلئے رہنمائے کرسکے ۔
Comments are closed.