وادی کی مسجدوں اور خانقاہوں میں لیلتہ القدر کے روح پرور اجتماعات منعقد

ہزاروںکی تعداد میں فرزندانِ توحید نے شب بیداری کے دوران گناہوں کی بخشش طلب کی

سرینگر /23 جون/ خطہ چناب اور وادی کشمیر میں شب قدر کے سلسلے میں مسجدوں ،خانقاہوں ، زیارت گاہوں ،اما م باڑوں میں روح پرور اجتماعات ہوئے ،فرزندانِ توحید رات بھر دعاؤں ،تلاوت اور ذکر و ازکار میں محو رہے ،سب سے بڑی تقریب تاریخی جامع مسجداوردرگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئیں جہاں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے فرزندانِ توحید کی کثیر تعداد نے رات عبادت الٰہی میں گزار دی اور علماء نے نزول قرآن کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں پرزور دیا کہ وہ قرآن کو اپنا رہبر مان کر زندگی گزاریں تاکہ دنیا اور آخرت میں انہیں کامیابی ملنے کے ساتھ ساتھ پھر سے خلافت کا منصب سنبھالنے کا موقع فراہم ہو۔ اے پی آئی نمائندے کے مطابق دنیا بھر کی طرح خطہ چناب اوروادی کشمیر میں لیلتہ القدر کے سلسلے میں روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے ،مسجدوں ،خانقاہوں،زیارت گاہوں میں فرزندانِ توحید کی کثیر تعداد امڑ پڑی اور رات شب بیداری میں گزار کر عبادت الٰہی میں محو رہے ۔ نمائندے کے مطابق تاریخی جامع مسجد اور مدینہ ثانی درگاحضرت بل میں شب قدر کے سلسلے میں بڑی تقریبات کا انعقاد ہوا جن میں فرزندانِ توحید کی کثیر تعداد شریک ہوئی اور رات بھر عبادت الٰہی میں گزار دی ۔ شب قدر کے سلسلے میں پنجورہ شوپیاں ،کعبہ مرگ خانقاہ فیض ترال ،جناب صاحب صورہ ،اہم شریف بانڈی پورہ کے علاوہ وادی کی تمام مسجدوں ،خانقاہوں میں فرزندانِ توحید را ت بھر عبادت الٰہی میں محو رہے اور اپنے گناہوں کی گڑ گڑاکر اللہ سے بخشش مانگی ۔ نمائندے کے مطابق پوری وادی رات بھر قرآنی آیات سے گونج رہی تھی اور فرزندانِ توحید اللہ کی یاد میں مشغول تھے ۔مسجدوں ،خانقاہوں میں اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے علماء نے نزول قرآن کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے جو رسول اللہ ؐ پر نازل کیا گیا اور آپ ؐ کے ذریعے مسلمانوں تک پہنچا ۔ علماء نے کہاکہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے اسے اپنانا والا کبھی خسارے میں نہیں پڑیگا اور جس نے قرآن کو ترک کیا وہ ہمیشہ خسارے میں رہے گا اور دنیا کی ذلت کا اسے سامنا کرنا پڑیگا۔ علماء نے کہا کہ کئی دہائیوں سے مسلمانوںنے قرآن سے ناطہ توڑنے کی جو کوششیں شروع کی ہیں ثمرہ ان کے سامنے ہیں ۔ آج مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں ،دنیا میں مسلمانوں کی آبادی 25%ہے لیکن تب بھی مسلمانوںکو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جس کے وہ حقدار ہے ،مسلمانوںنے غیر قوموں کے طریقہ کار کو اپنا کر قرآن سے رشتہ توڑ دیاجس کی وجہ سے انہیں غیر قوموں کے تسلط کا سامنا کرناپڑ رہا ہے ۔علمانے دنیا میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر فکروتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر قومیں قرآن کو اپنا کر نہ صرف ترقی کی منزلوں کو چھو رہی ہیں بلکہ اسلام کی عظمت سے بھی مالا مال ہو رہی ہیں جبکہ خود مسلمان جو قرآن کا دعویدارہے ،جو شفاعت رسول ؐ کا حقدار ہے اس قرآن سے اتنا دور ہوا ہے کہ و اسے کلام الٰہی بھی تصور نہیں کررہا ہے ۔علما نے بڑھتی ہوئی بے حیائی ،بے شرمی ،منشیات ،شراب خوری ،نشیلی ادویات کے کاروبار پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس وجہ سے تباہی کے دلدل میں پھنس کر رہ گیا ہے کہ اس نے اللہ کے آفاقی پیغام کو چھوڑدیا ہے اوراللہ نے مسلمانوں کو چھوڑ دیا ہے ۔

Comments are closed.