22سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف شوپیاں میں طلبا کے احتجاجی مظاہرے تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے طاقت کا استعمال کیا

سرینگر /22 جون/اے پی آئی/ شوپیاں میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب بائیز ہائیر اسکینڈری میں زیر تعلیم طلبا نے پلوامہ میں 22سالہ نوجوا ن کی ہلاکت اور 3عسکریت پسندوں کے جاں بحق ہونے کے خلاف تجارتی سرگرمیاں معطل کرنے کی کوشش کے دوران احتجاجی مظاہرے کئے اور پولیس و فورسز پر سنگباری کی ۔تشدد پر اُتر آئے طلبا کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس اور پیلٹ گولیوں کا استعمال کیا ۔ طلبا اور پولیس و فورسز کے مابین تصادم آرائیوں کی وجہ سے شوپیاں قصبے میں حلات درہم برہم ہوئے ۔ اے پی آئی نمائندے کے مطابق شوپیاں قصبے میں تشدد اس وقت بھڑک اٹھا جب بائزہائیر اسکینڈری میں زیر تعلیم طلبا نے پلوامہ میں 22سالہ نوجوان کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت اور لشکریہ طیبہ کے 3عسکریت پسندوں کے جاں بحق ہونے کے خلاف تجارتی سرگرمیاں معطل کرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کے دوران پولیس و فورسز پر خشت بھاری شروع کر دی ۔ تشددپر اتر آئے طلبا کو تتر بتر کرنے کیلئے پولیس و فورسزنے آنسو گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس اور پیلٹ گولیوں کا استعما ل کیا جس سے قصبے میں افرا تفری اور خوف و دہشت کاماحول پھیل گیا ،پولیس فورسز اور طلبا کے مابین تصادم آرائیوں کاسلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کی وجہ سے قصبے میں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کررہ گئیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب ہوا ۔

Comments are closed.