اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں/ سدھرامنیم سوامی
کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے،لوگوں نے اپنی وابستگی بھارت کے ساتھ کی ہے
سرینگر /22 جون/ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اقوام متحدہ کو اس میں مداخلت کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے ،ادارے کو چاہیے کہ وہ دراندازی کو روکنے کیلئے اپنی خدمات انجام دیں ،کشمیر کے بارے میں کسی بھی فریق کی مداخلت بھار ت کے لئے ناقابل قبول ۔ اے پی آئی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹئنو گٹرس کی جانب سے اپنی پہلی پریس کانفرس کے دوران جنوبی ایشیا میں بھارت پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے کو اہمیت کا حامل قرار دے کر پاک بھارت وزراء اعظم کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بیان کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ سدھرامنیم سوامی نے سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ،دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو بھارت سے علیحدہ نہیں کر سکتی ہے ۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کشمیر کے بارے میں مداخلت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اوراگریہ ادارہ اپنی خدمات انجام ہی دینا چاہتاہے تو اسے چاہیے کہ وہ پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی دراندازی کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھا ئے۔بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ بھارت بار بار کشمیر کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرچکا ہے اوردنیا کی کوئی طاقت کشمیر کے بارے میں مداخلت یا ثالثی کا کردار ادا نہیں کر سکتاہے ،کشمیر بھارت کاتاج ہے اور اس میں رہنے والے لوگوں نے بار بار بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی کا ووٹ کے ذریعے اظہار کیا ہے ۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیاتھا کہ وہ بھار ت پاکستان کو نزدیک لانے اور کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کے ساتھ رابطہ بنائے ہوئے ہیں اور پچھلے 6ماہ کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ 5ملاقاتیں ہوئیں ہے جن کے دوران دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کو اس بات پر رضا مند کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ اپنے اختلافات ختم کرنے کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کریں تاکہ جنوبی ایشیا کے خطے میں تناؤ اور کشیدگی کا جو ماحول پایا جا رہاہے اسے دور کیا جا سکے ۔
Comments are closed.