کاکہ پورہ پلوامہ میں جنگجوؤں اور پولیس و فورسز کے مابین جھڑپ ،لشکر کے 3عسکریت پسند جاں بحق

22سالہ نوجوان لقمہ اجل ،رہائشی مکان تباہ ،6خواتین سمیت 60زخمی ،16کی حالت نازک

سرینگر /22 جون// کاکہ پورہ پلوامہ میں پولیس و فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین خون ریز جھڑپ کے دوران لشکریہ طیبہ کے تین عسکریت پسندجاں بحق، اسلحہ اور گولہ بارود ضبط ،رہائشی مکان تباہ عسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین جھڑپ کے دوران تشدد بھڑک اٹھا اور پولیس و فورسز کی جانب سے تشدد پر اترآئی بھیڑ کو منتشرکرنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنے سے 22سالہ نوجوان لقمہ اجل ,6خواتین سمیت 60افراد زخمی ،16کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ،پلوامہ ،اونتی پورہ ،ترال اور پامپور قصبوں میں انٹرنیٹ سہولیات ٹھپ ،بانہال بارہمولہ ریل سروس معطل ،کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے پولیس و فورسز کے اضافی دستے تعینات ۔اے پی آئی کے مطابق 21جون رات دیر گئے 50،55راشٹریہ رائفلز اور جموں وکشمیر پولیس نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدنیو کالونی کاکہ پورہ پلوامہ کے علاقے کو محاصرے میںلے لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی ۔اس دوران عبدالاحدبٹ نامی شہری کے رہائشی مکان میں چھپے بیٹھے عسکریت پسندوں نے پولیس وفورسز کا محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس وفورسز نے تمام راستوں کو سیل کر کے عسکریت پسندوں کے خلاف محاصرہ تنگ کیا ،اندھیرا چھا جا نے کے بعدپولیس و فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کو موخر کر دیا ۔ نمائندے کے مطابق اجالا ہونے کے ساتھ ہی پولیس وفورسز نے رہائشی مکان میں چھپے بیٹھے عسکریت پسندوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی جس سے رہائشی مکان میں موجود عسکریت پسندوں نے ٹھکرا دیا اور پولیس و فورسز پر دوبارہ گولیاں چلانا شروع کر دیں ۔ پولیس و فورسز نے رہائشی مکان کے اردگرد بارودی سرنگیں نصب کی اور مارٹر گولوں کی بارش شروع کر دی جس کے نتیجے میں رہائشی مکان زمین بوس ہوا اور تینوں عسکریت پسند ملبے کے نیچے دب گئے ۔ نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین گولیوں کے تبادلے کے دوران نوجوانوں کی کثیر تعداد اپنے گھروں سے باہر آئی اور انہوں نے پولیس وفورسز کے خلاف نعرے بازی اور سنگبازی شروع کر دی ۔ تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس وفورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس اور پیلٹ گولیوں کا بے تحاشا استعمال کیا ،پولیس و فورسز کی جانب سے پیلٹ گولیوں اور اشک آو ر گیس کے بے تحاشا استعمال کرنے کے دوران 22سالہ توصیف احمد نامی نوجوان شدید طور پر پیلٹ گولیاں لگنے سے زخمی ہوا ،مذکورہ 22سالہ نوجوان کو علاج کیلئے پلوامہ اسپتال پہنچا دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا ۔ اسپتال ذرائع کے مطابق اشک آور گیس کے گولے اور پیلٹ گولیاں لگنے والے 30کے قریب زخمیوں کو علاج کیلئے اسپتا ل پہنچا دیا گیا اور زخمیوں میں سے 4کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ،تاہم نمائندے کے مطابق پولیس وفورسز کی جانب سے کاکہ پورہ ، راجپورہ چوک میں اشک آورگیس اور پیلٹ گولیوں کا بے تحاشا استعمال کرنے سے 60سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جن میں 16کوعلاج کیلئے سرینگر کے مختلف اسپتالوں کو منتقل کیا گیا اور زخمیوں میں سے 5کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔ نیو کالونی کاکہ پورہ میں پولیس و فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان خون ریز جھڑپ کے دوران لشکریہ طیبہ کے 3عسکریت پسندشیرازاحمد ساکن پدگام پورہ پلوامہ ،ماجد احمد اور شارک احمد جاں بحق ہوئے جبکہ نوجوانوںکی جانب سے سنگبازی کے دوران 50راشٹریہ رائفلز میجر کارتک سمیت3اہلکار زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ۔ کاکہ پورہ پلوامہ میں عسکریت پسندوں اور پولیس و فورسز کے مابین خون ریز جھڑپ کے بعد حفاظتی اقدامات کے پیش نظر بانہال بارہمولہ ریل سروس معطل کر دی گئی ،انٹرنیٹ سہولیات ،کالج بند کر دیئے گئے جبکہ شوپیاں ،پلوامہ ، اونتی پورہ قصبوں اور ملحقہ علاقوں میں پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لا کرسخت ترین بندشیں عائد کر کے لوگوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ۔نمائندے کے مطابق جاں بحق ہوئے لشکریہ طیبہ کے عسکریت پسندوں کو کاکہ پورہ پلوامہ اور پدگام پورہ اونتی پورہ میں 5سے زیادہ بار نماز جنازہ ادا کی گئیں ،ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جاں بحق ہوئے جنگجوؤں کو پُر نم آنکھوں سے سپر د خاک کیا ۔ادھر پلوامہ ،شوپیاں ،اونتی پورہ ،ترال قصبوں میں جاں بحق ہوئے عسکریت پسندوں کی یاد میں ہڑتال سے زندگی درہم برہم ، کاروباری ادارے ٹھپ ،پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ،اسکول و کالج بند اور سرکاری دفتروںمیں بھی ملازمین کی حاضری برائے نام رہی ۔ شب قدر کے موقعے پر ہڑتال سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ۔

Comments are closed.