رمضان سیزفائرکے دوران سنگباری کے واقعات میں کمی

ہمارے موقف کی تائید:محبوبہ مفتی

کریک ڈاؤن اورتلاشی کارروائیاں خشت باری کی وجہ:عمرعبداللہ

سری نگر: راجیہ سبھامیں مرکزی وزیرمملکت برائے داخلی امورہنس راج آہرکے اس اعتراف کہ رمضان سیزفائرکے دوران کشمیروادی میں سنگباری کے واقعات میں کمی ریکارڈ کی گئی ،پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ مرکزی وزیرکایہ بیان ہمارے اُس موقف کی تائیدہے جسکے تحت ہم نے سیزفائرکی معیادبڑھانے پرزوردیاتھا۔اُدھر سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہاہے کہ کریک ڈاؤن ،محاصرے اورتلاشی کارروائیاں وادی میں خشت باری کے واقعات بڑھنے کی ایک وجہ ہے ۔کے این این کے مطابق سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے سماجی رابط گاہ ٹویٹرپر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا’’سیزفائرکے دوران سنگباری کے واقعات میں کمی آنے سے ہمارے اس موقف کی تائیدہوئی کہ رمضان جنگ بندی کے نتیجے میں کشمیری عوام میں راحت کااحساس پیداہوا،اوراُنھیں سیزفائرسے راحت بھی ملی‘‘۔انہوں نے کہاکہ اگرسیزفائرکی معیادمیں توسیع کی گئی ہوتی توکشمیرکی مجموعی صورتحال میں مزیدبہتری آتی۔خیال رہے مرکزی سرکارنے کشمیروادی میں رمضان سیزفائرکافیصلہ ایس کے آئی سی سی میں کل جماعتی اجلاس کے بعداُسوقت کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے رمضان سیزفائرکی تجویزسامنے رکھنے کے بعدلیا،اوراس سلسلے میں مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے 16مئی رمضان سیزفائرکااعلان نئی دہلی میں یہ کہتے ہوئے کیاکہ مرکزی سرکارکشمیرمیں سیزفائرکے حق میں ہے تاکہ وہاں کے لوگ ماہ رمضان کے دوران کسی مشکل کاسامنانہ کریں ۔تاہم عیدالفطر کے فوراًبعدمرکزی سرکارنے محبوبہ مفتی کی اپیل کے باوجودرمضان سیزفائرمیں کسی قسم کی توسیع کرنے کے بجائے اس ختم کرنے کافیصلہ لیاجبکہ19جون کوبھاجپاکی جانب سے حمایت واپس لینے کے نتیجے میں جب میں محبوبہ مفتی کی سربراہی والی مخلوط سرکارگرگئی توبھاجپالیڈروں نے یہ موقف اختیارکیاکہ کشمیرمیں رمضان سیزفائرکی وجہ سے جنگجوگروپوں کومنظم ہونے کاموقعہ ملا،اوراسکے ساتھ ساتھ خشت باری کے واقعات میں بھی تیزی آئی تاہم مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ ہنس راج آہرنے گزشتہ روزراجیہ سبھامیں ایک سوال جواب میں جواعدادوشمارپیش کئے ،اُن کے مطابق رمضان سیزفائرکے دوران کشمیروادی میں سنگباری کے صرف 117واقعات پیش آئے جبکہ اس سے پہلے ایک ماہ کے دوران یعنی 15اپریل سے16مئی تک وادی کے مختلف علاقوں میں سنگباری کے 219واقعات رونماہوئے ۔دریں اثناء سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے سنگباری کے واقعات پرجاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ کریک ڈاؤن اورتلاشی کارروائیاں خشت باری کی وجہ ہے ۔انہوں نے سماجی رابط گاہ ٹویٹرپر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا’’چونکہ سیزفائرکی وجہ سے ماہ رمضان کے دوران کریک ڈاؤن ،محاصرے اورتلاشی کارروائیاں بندرہیں ،اس وجہ سے کشمیرمیں سنگباری کے واقعات میں بھی کافی کمی واقعہ ہوئی ‘‘۔عمرعبداللہ نے مزیدلکھاکہ کریک ڈاؤن اورتلاشی کارروائیاں خشت باری کی ایک بڑی وجہ ہے۔

Comments are closed.