کشمیرکی صورتحال مستحکم لیکن نازک سالِ رفتہ کے مقابلے میں رواں برس حالات کافی بہتر:لیفٹنٹ جنرل رنبیرسنگھ

کشمیرکی صورتحال مستحکم لیکن نازک

سالِ رفتہ کے مقابلے میں رواں برس حالات کافی بہتر:لیفٹنٹ جنرل رنبیرسنگھ

دراس:۲۶،جولائی: فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل رنبیرسنگھ نے کارگل جنگ کی 19ویں برسی کے موقعہ پرخبردارکیاکہ بھارت کوچین اورپاکستان سے سرحدوں پرچیلنج درپیش ہیں تاہم انہوں نے کہاکہ فوج کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال کامقابلہ کرنے کی اہل ہے۔کے این این کے مطابق دراس میں کارگل جنگ کی اُنیسویں برسی کے موقعہ پرمنعقدہ ایک یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کوبین الااقوامی سرحد،لائن آف کنٹرول اورحقیقی کنٹرول لائن پرچین اورپاکستان سے ہمہ وقت خطرات اورمشکلات درپیش رہتے ہیں لیکن ایسی صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے فوج کوجدیدترین ہتھیاروں اورآلات سے لیس کیاگیاہے ،اوراس ضمن میں وقتاًفوقتاًضروری اقدامات روبہ عمل لائے جاتے ہیں ۔خبررساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیاکے مطابق لیفٹننٹ جنرل رنبیرسنگھ کاکہناتھاکہ ہماری فوج باہمت ،پیشہ وراورجانبازہے ۔انہوں نے کہاکہ سرحدوں کی نگرانی کرنے والے فوجی افسروں اورجوانوں کوخراج پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے وطن کے بہادربیٹے ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے کوئی بھی قربانی دینے کوہمیشہ تیارہتے ہیں ۔جنرل سنگھ نے کہاکہ چین کی جانب سے کئی مواقعوں پرسرحدوں پردخل اندازی کی گئی لیکن ایسے واقعات اُن علاقوں میں پیش آیاجہاں لائن آف کنٹرول یاسرحدوں کاکوئی تعین یانشاندہی نہیں کی گئی ہے۔تاہم جنرل رنبیرسنگھ کاکہناتھاکہ سرحدی تنازعات کے حل تک ہمیں چوکنارہناپڑے گا۔پاکستان کاذکرکرتے ہوئے فوج کی شمالی کمان کے سربراہ کاکہناتھاکہ ہمسایہ ملک کی اندرونی صورتحال وہاں کے سیاستدانوں ،حکمرانوں اورعوام کااپنامسئلہ ہے ،اوراُنھیں اپنے ملک کے اندرونی مسائل کاخودحل تلاش کرناپڑے گا۔جنرل رنبیرسنگھ نے کہاکہ پاکستان میں جیسے بھی حالات ہوں ،ہماری فوجی تیاریوں اوردفاعی اقدامات پراسکاکوئی اثرنہیں پڑے گا۔جموں وکشمیرکی صورتحال پراظہارخیال کرتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل رنبیرسنگھ کاکہناتھاکہ اس ریاست کی غالب آبادی یاعوام کی اکثریت امن پسندہے ،اوروہ ریاست میں بحالی امن کیلئے اُٹھائے جارہے اقدامات کی طرفدارہے ۔تاہم انہوں نے واضح کیاکہ کشمیرکی صورتحال مستحکم لیکن نازک بنی ہوئی ہے۔انہوں نے سالِ گزشتہ اورسالِ رواں کاموازنہ کرتے ہوئے کہاکہ سال2017کے مقابلے میں رواں برس کشمیرکی صورتحال کافی بہتررہی ہے ۔جنرل رنبیرسنگھ کاکہناتھاکہ امسال کشمیروادی میں سنگباری کے واقعات میں کمی آئی ہے جواسبات کی جانب اشارہ ہے کہ کشمیرکے لوگوں میں اب زیادہ سوجھ بوجھ پیداہورہی ہے اورکشمیری نوجوانوں یہ محسوس کررہے ہیں کہ سیکورٹی فورسزپرسنگباری یاتشددکاکوئی بھی دوسراراستہ ایک لاحاصل عمل ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کویہ سمجھناہوگاکہ امن وامان کاماحول اُن کیلئے کس قددفائدہ بخش ہے ۔فوج کی شمالی کمان کے سربراہ نے کہاکہ کشمیرمیں تب حالات خراب ہوجاتے ہیں جب پاکستان کی جانب سے امن مخالف عناصراورگروپوں کی فنڈنگ یامالی معاونت کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیرمیں کوئی بھی واقعہ پوری سیکورٹی صورتحال کوبگاڑدیتاہے ،اسلئے جنگجومخالف کارروائیوں کیلئے ایک ایسی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے کہ اس دوران عام شہریوں کوکوئی گزندنہ پہنچنے پائے ۔جنرل سنگھ کاتاہم کہناتھاکہ سرحدپارسے ہتھیاروں کی ترسیل اورفنڈنگ جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے،اوردراندازی کاسلسلہ جاری رکھاگیاہے تاکہ کشمیرمیں حالات بہترنہ ہوں ۔انہوں نے کہاکہ سرحدپارسے جنگجوؤں کی دراندازی ،ہتھیاروں کی ترسیل اوررقومات کی فراہمی پرروک لگانے کیلئے جامع اقدامات اُٹھائے گئے ہیں ،اوراس سلسلے میں جوذمہ داری فوج کوسونپی گئی ہے،ہم اُس ذمہ داری کوبخوبی انجام دے رہے ہیں ۔

Comments are closed.