تعلقات کی بہتری، مذاکرات کی بحالی کیلئے بھارت ایک قدم آگے آئے ،ہم دو قدم آگے چلنے کیلئے تیار
اسلام آباد پاکستان: چیئرمین تحریک انصاف اورپاکستان کے متوقع نئے وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو ہند پاک کے درمیان ’کور ویشو ‘ قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان ،بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کی بحالی کیلئے اگر بھارت ایک قدم آگے آتا ہے ،تو پاکستان دو قدم آگے آنے کیلئے تیار ہے جبکہ ہند پاک کے درمیان بہتر تعلقات اور دوستی برصغیر میں قیام امن کی ضمانت ہے ۔ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ’اللہ نے مجھے اپنے خواب کو پورا کرنے کیلئے مو قع دیا ہے ،انتخابی دھاندلیوں سے متعلق سیاسی جماعتوں کی شکایات کو دور کیا جائیگا ،نئے پاکستان میں وزیر اعظم ہاؤس،گور نر ہاؤس جیسی سرکاری عمارات کو عوامی فلاح وبہبود کیلئے استعمال کیا جائیگا ،جہاں پر تعلیمی اور دیگر ادارے قائم کئے جائیں گے‘ ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک ما نیٹر نگ ڈیسک کے مطابق بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ میں پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے قوم سے پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہند پاک کے درمیان مسئلہ کشمیر’ کور ایشو ‘ہے جسے حل کیلئے پاکستان ،بھارت کے مذاکرات کیلئے تیار ہے ۔اپنے خطاب میں ہند پاک تعلقات پر ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے جس طرح میری کردارکشی کی اُس پربہت دکھ ہوا، بھارتی میڈیانے مجھے ایسے پیش کیا جیسے میں کسی بالی ووڈ فلم کا’ولن‘ ہوں‘ ۔انہوں نے کہا ’پاکستان اور بھارت کے بہتر اور اچھے تعلقات برصغیر کیلئے اچھے ہوں گے‘۔انہوں نے کہا’ غربت ختم کرنے کے لئے پاکستان اوربھارت کوتجارت کرنی ہوگی، جس سے فائدہ ہوگا، بدقسمتی ہے ہمارے مسائل میں کشمیر’کور ایشو ‘ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اس مسئلے کی وجہ سے کشمیر عوام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بد ترین مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی حل تلاش کیا جاسکتا ہے ۔عمران خان نے کہا دونوں ممالک کو مسئلہ کشمیر کو میز پر بہٹھ کر حل کرنا چاہئے اور اسکے لئے تیار ہے ۔عمران خان نے کہا ’بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان تیار ہے ۔ان کا کہناتھا ’اگر بھارت ایک قدم آگے آتا ہے ،تو پاکستان دو قدم آگے آنے کیلئے تیار ہے ‘۔متوقع وزیر اعظم پاکستان نے مزید کہا بھارت ہرچیزپرپاکستان پرالزام لگاتاہے یہ تعلقات ک کیلئے اچھانہیں، اگر بھارتی لیڈرشپ مذاکرات کے لیے تیارہے، تو ہم بالکل تیارہیں تعلقات بہترہوں، چاہتے ہیں پاکستان اوربھارت مل کربیٹھیں اوربات کریں۔‘انہوں نے کہا کہ میں وہ پاکستانی ہوں جس نے کرکٹ کے لیے سب سے زیادہ ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور یہاں پر میری لوگوں سے سب سے زیادہ واقفیت ہے۔عمران خان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بھی فروغ ملنا چاہیے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اس میں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جارہا ہے، جبکہ اس دونوں ممالک کو چاہیے کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے بہتر تعلقات دونوں ممالک سمیت خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بنایا تھا، اب ان ہی جماعتوں کو الیکشن کمیشن پر اعتراض ہے جبکہ نگراں حکومت بھی تمام سیاسی جماعتوں نے مشاورت کے ساتھ بنائی گئی تھی۔عمران خان نے کہا کہ دھاندلی کی شکایات کرنے والی جماعتیں جس حلقے کو کہیں گی وہی حلقے کھولے جائیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ نے انہیں موقع فراہم کیا ہے وہ اپنے خواب کو پورا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے خود اس ملک کو ترقی کرتا اور نیچے آتے دیکھا، لہٰذا میں چاہتا تھا کہ پاکستان ایسا ملک بنے جیسا قائد اعظم محمد علی جناح نے سوچا تھا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ جمہوریت کے لیے ووٹ دینے نکلیں ہیں میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔تحریک انصاف کے سربراہ نے انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملوں میں مارے جانے والے انتخابی امیدواروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے جمہوریت کو مضبوط کیا، تاہم میں کامیاب الیکشن کے انعقاد پر سیکیورٹی فورسز کو بھی داد دینا چاہتا ہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں خلفائے راشدین کے وقت جیسا نظامِ حکومت چاہتا ہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ انتخابات تاریخی تھے، اس میں لوگوں نے قربانیاں دی، اس میں دہشت گردی ہوئی، جس طرح بلوچستان میں دہشت گردی ہوئی اس کے باوجود وہاں کے عوام کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنا قابل فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بلوچستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، دہشت گردی کے واقعات کے باوجود انتخابی عمل مکمل ہوا، اس پر میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ میں اس موقع پر میں چاہتا ہوں کہ تمام پاکستانی متحد ہوجائیں، اور میں اپنے خلاف ہونے والی تمام مخالفت کو بھول چکا ہوں۔سربراہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اب ملک میں ایک ایسی حکومت آئے گی جس میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو مضبوط کرے گی، اور تمام لوگوں کے لیے قانون کو مساوی کیا جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا احتساب نہیں ہوگا، بلکہ تحریک انصاف اپنے لوگوں کا بھی احتساب کرکے مثال قائم کرے گی۔عمران خان نے کہا کہ ملک کا نظام بہتر کرکے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو دعوت دی جائے گی کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے یہ لوگ متحدہ عرب امارات یا دیگر ملکوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ وہاں امیر کیسے رہتا ہے بلکہ ملک کی پہچان ایسے ہوتی ہے کہ وہاں غریب کیسے رہتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست پہلی فلاحی ریاست تھی، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصول قائم کیے تھے، ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو بھی انہی اصولوں پر لے کر آئیں۔تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ مجھے شرم آئے گی کہ میری عوام خط غربت سے نیچے ہے اور میں وزیرِاعظم ہاؤس میں رہوں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس گھر کو تجارتی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا جس کی مدد سے پیسہ بنایا جائے گا اور مقامی عوام پر خرچ کیا جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ چھوٹے کاروبار میں مدد کی جائے گی اور نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم اپنی حکومت میں چین کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس ملک سے صرف اسی شعبے میں نہیں بلکہ غربت اور کرپش کے خاتمہ کرنے کا طریقہ سیکھے گا۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پڑوسی ملک میں امن کا خواہاں ہے اور ملک میں امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایسے تعلقات ہوں کے دونوں ممالک کے درمیان سرحد یوپی ممالک کی طرح کھیلی سرحد بن جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی بھی خواہش کا اظہار کیا۔
جموں وکشمیرکے عوام کے غالب اکثریت امن پسنداوربحالی امن کی طرفدار
Comments are closed.