ہندواڑہ جنگلی علاقے میں فوج نے ایک عدم شناخت عسکریت پسند کو مار گرانے کا دعویٰ کیا

گوری ون بجبہاڑہ میں پیرا ملٹری فورسز پر گرنیڈ حملہ 5سی آر پی ایف اہلکار زخمی ، راہگیروں کی ہڈی پسلی ایک کردی گئی

گوری ون بجبہاڑہ حملے کی لشکر طیبہ نے ذمہ داری قبول کی

سرینگر26ٌؐ؍جولائی: ہندواڑہ کے ماگام جنگلی علاقے میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی کے درمیان شدید جھڑپ میں ایک عدم شناخت کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق جنگل میں تین سے چار جنگجو محصور ہے جنہیں مار گرانے کیلئے فضایہ کی خدمات حاصل کی گئی ہے۔ ادھر گوری ون بجبہاڑہ میں پیرا ملٹری فورسز کی گشتی پارٹی پر گرنیڈ حملہ پانچ اہلکار مضروب ایک کی حالت نازک۔ سیکورٹی فورسز نے آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ہے۔ ادھر گوری ون بجبہاڑہ گرنیڈ حملے کی لشکر طیبہ نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد 21آر آر ، ایس او جی ہندواڑہ اور پیرا ملٹری فورسز نے ہندواڑہ کے جنگلی علاقے سوڈل چیک ماگام کو محاصرے میں لے کر جونہی جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران جنگل میں موجود عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا 58 ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق حفاظتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس دوران کئی گھنٹوں تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق جھڑپ کی جگہ ایک عدم شناخت جنگجو کی نعش برآمد کی گئی ہے اور اُس کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگل میں محصور باقی عسکریت پسند پولیس وفورسز کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم دفاعی ذرائع نے بتایا کہ جنگل کو پوری طرح سے سیل کرکے فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے گئے ہیں۔ ادھر بعد دوپہر گوری ون بجبہاڑہ میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب عسکریت پسندوں نے پیرا ملٹری فورسز کی گشتی پارٹی پر گرنیڈ داغا جو زور دار دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں پانچ سی آر پی ایف اہلکار شدید طور پر زخمی ہوئے۔ نمائندے کے مطابق آس پاس موجود اہلکاروں نے زخمی ساتھیوں کو فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے ایک کی حالت نازک قرار دے کر اسے سرینگر ریفر کیا ہے۔ نمائندے کے مطابق گرنیڈ حملے کے بعد فوج ، پولیس اور سی آر پی ایف نے آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے گوری ون بجبہاڑہ کے ساتھ ساتھ آس پاس علاقوں کو بھی سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران مکینوں کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے ۔ سی آر پی ایف ترجمان نے گرنیڈ حملے کے سلسلے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گوری ون بجبہاڑہ کے نزدیک سی آر پی ایف اہلکار معمول کے مطابق گشت پر تھے کہ اس دوران عسکریت پسندوں نے اُن پر گرنیڈ داغا جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار مضروب ہوئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی گئی ہے۔ ادھر مقامی ذرائع نے بتایا کہ گرنیڈ حملے کے بعد پیرا ملٹری فورسز کے اہلکاروں نے راہ چلتے افراد کی ہڈی پسلی ایک کردی جس کے نتیجے میں کئی افراد کو چوٹیں بھی آئیں ہیں۔ دریں اثنا لشکر طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداﷲ غزنوی نے پریس کے نام جاری بیان میں گوری ون بجبہاڑہ میں سیکورٹی فورسز پر گرنیڈ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ حملے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

Comments are closed.