’’پریس کالونی سرینگر صحافیوں کیلئے غیر محفوظ ‘‘

نامعلوم افراد نے پریس کالونی میں گھس کر تین نجی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے ، بی بی سی نمائندے کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا

ڈیڑھ گھنٹے تک نامعلوم افراد پریس کالونی میں کسی کو تلاش کر رہے تھے /سینئر صحافی

سرینگر26ٌؐ؍جولائی : کل رات آٹھ بجے کے قریب نامعلوم افراد نے پریس کالونی سرینگر میں تین نجی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے۔ پریس کالونی میں موجود پریس دفاتر میں کام کرنے والے سینئر صحافیوں نے بتایا کہ اُن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں کیونکہ ایک طرف پولیس کو دن رات پریس کالونی میں تعینات کیا گیا ہے تاہم دوسری جانب نامعلوم افراد نے آدھے گھنٹے تک پریس کالونی میں گاڑیوں کے شیشے چکنا چور اور کسی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ایس ایس پی سرینگر کے مطابق اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق معروف صحافی شجاعت بخاری کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ نے پریس کالونی سرینگر میں فلائنگ اسکارڈ کو تعینات کرنے کے احکامات صادر کئے ۔ نمائندے کے مطابق پریس کالونی سرینگر میں صبح آٹھ بجے سے شام آٹھ بجے تک سیکورٹی فورسز کے اہلکار تعینات رہتے ہیں۔ تاہم کل شام آٹھ بجے کے قریب نامعلوم افراد پریس کالونی میں نمودار ہوئے اور تین نجی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے۔ معلوم ہوا ہے کہ نامعلوم افراد نے بی بی سی نارتھ انڈیا کے سینئر نامہ نگار الطاف حسین کی گاڑی کے بھی شیشے چکنا چور کئے۔ سینئر صحافی کے مطابق نامعلوم افراد نے اُن کی گاڑی کے شیشے چکنا چور کرنے کے بعد گاڑی کے اندر تلاشی لی اگر چہ انہوں نے کچھ نہیں چُرا یا تاہم پولیس کو اس کا جواب دینا ہی پڑے گا پولیس کی موجودگی میں اس طرح کا واقع کیسے پیش آیا۔ انہوں نے کہاکہ صرف چھ ہفتے پہلے ہی بندوق برداروں نے پریس کالونی سرینگر میں معروف صحافی شجاعت بخاری کو قتل کیا اگر چہ انتظامیہ نے پریس کالونی کے اردگر د سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا ہے تاہم اس کے باوجود بھی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کرنا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ سینئر صحافی کے مطابق سیکورٹی لحاظ سے یہ بہت بڑی چوک ہے۔ سینئر صحافی حسین کے مطابق وہ اور اُن کے ساتھی سیکورٹی کے حوالے سے کافی پریشان ہو گئے ہیں۔ مجھے دوستوں رشتہ داروں کی فون کالیں موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نامعلوم افراد کی جانب سے گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کرنا اور آدھے گھنٹے تک پریس کالونی میں کسی کو تلاش کرنا اس بات کی عکاسی ہے کہ پولیس صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس ڈیڑھ گھنٹے کے اندر نامعلوم افراد کچھ بھی کرسکتے تھے۔ سینئر صحافی کے مطابق پریس کالونی سرینگر میں اس طرح کا واقع رونما ہوا اس بات کا ثبوت ہے کہ سرینگر کی پریس کالونی اب صحافیوں کیلئے محفوظ نہیں ہے۔ایس ایس پی سرینگر کے مطابق معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔

Comments are closed.