روایتی صنعتیں دم توڑنے کے قریب، شہر کے بیشتر پروجیکٹوں پر گذشتہ3سال سے کام ٹھپ:/ساگر
سرینگر/25جولائی: پی ڈی پی کی سربراہی والی سابق مخلوط حکومت نے تاریخی شہرِ سرینگر کو ہر لحاظ سے پیچھے دھکیلا۔ گذشتہ ساڑھے 3سال کے دوران اس شہر کی تعمیر و ترقی ماند پڑ گئی ہے جبکہ یہاں کی آبادی کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اقتصادی بدحالی کا شکار بنایا گیا۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے آج شہر خاص کے عہدیداران اور کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق پی ڈی پی حکومت کے سمارٹ سٹی اور دیگر دعوے و اعلانات سراب ثابت ہوئے۔ گذشتہ ساڑھے 3سال کے دوران ایک بھی بڑا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا۔ الٹا سابق نیشنل کانفرنس حکومت کے آدھے پروجیکٹوں پر نیا سنگ بنیاد رکھا گیا اور متعدد پروجیکٹوں کا سست رفتاری کی نذر کردیا گیا۔ ساگر نے کہا کہ تاریخی شہر سرینگر کی 13لاکھ آبادی کو گذشتہ ساڑھے3سال یرغمال بنا کر رکھا گیا ۔ کرفیو، بندشوں اور قدغنوں سے اس تاریخی شہر کو اقتصادی بدحالی کی نذر کردیا گیا۔ شہر خاص کی بیشتر آبادی ہنرمندوں، کاریگروں اور دستکاروں پر مشتمل ہے اور اس آبادی کو جی ایس ٹی کی مہربانی سے نان شبینہ کا محتاج بنایا گیا ہے۔ جی ایس ٹی کے اطلاق سے یہاں کی روایتی صنعتیں دم توڑ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے شہر کی تعمیر و ترقی کے پروجیکٹوں کو سیاسی انتقام گیری کی نذر کردیا گیا۔ بدحکمرانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہانگیر چوک فلائی ایکس پریس وے، جو سابق عمر عبداللہ سرکار نے شروع کیا تھا، ابھی تک مکمل نہیں ہوپایا۔ ریاست کے گورنر نے بھی کل ہی ایک میٹنگ میں فلائی اوور پر سست رفتاری سے جاری کام پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ عوامی مفاد کے پولو ویو کانونٹ پُل کو مخصوص منظور نظر افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے فٹ برج میں تبدیل کیا گیا، اس پُل کی تعمیر سے وسیع علاقے میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوجاتا لیکن پی ڈی پی نے بدترین حکمرانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقیر ذاتی مفادات کیلئے اسے فٹ برج میں تبدیل کردیا۔ حد تو یہ ہے کہ جے وی سی میں سابق نیشنل کانفرنس حکومت کی طرف سے بمنہ بائی پاس پر شروع کئے گئے 200بیڈ والے چلڈرن ہسپتال اور 200بیڈ والے زچگی ہسپتال آج تک مکمل نہیں کئے گئے جبکہ شہر کے کئی اہم سڑک پروجیکٹوں، سڑکوں کی کشادگی اور فورلینگ کا کام گذشتہ 4سال سے ٹھپ ہے۔ اس موقعے پر یوتھ صوبائی صدر سلمان علی ساگر، نائب صدر وومنز ونگ رخصانہ کے علاوہ کئی عہدیداران موجو دتھے۔
Comments are closed.