برسوں سے ایک جگہ براجمان36اسٹورکیپروں اوردواسازوںکاتبادلہ

سرکاری ادویات کی چوربازاری کے بعدجاگامحکمہ صحت
ٹرانسفرشدہ کسی بھی دواساز کواسٹورکاچارج نہ دئیے جانے کاحکم بھی صادر

سری نگر:٢٥،جولائی:کے این این / حالیہ کچھ دنوں کے دوران شمالی قصبہ ٹنگمرگ کے ایک مضافاتی جنگل سے بڑی مقدارمیں مختلف اقسام کی ادویات برآمدہونے کے بعدشایدریاستی محکمہ صحت گہری نیندسے جاگاہے کیونکہ 21اور23جولائی2018کوڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسزکشمیرکی جانب سے ایسے2احکامات یاآرڈرجاری کئے گئے ہیں ،جن کی رئوسے کشمیروادی کے مختلف علاقوں میں قائم محکمہ صحت سے جڑے چھوٹے بڑے سرکاری اسپتالوں اورمحکمہ کے ضلعی وتحاصیل سطح کے دفاترمیں تعینات36ایسے جونیئراورسینئردواسازوں یعنیPharmicistsکاتبادلہ عمل میں لایاگیاہے جومتعلقہ اسپتالوں اورمحکمہ صحت کے دفاترمیں بطوراسٹورکیپرطویل مدت سے خدمات انجام دیتے آرہے تھے ۔کے این این کومعلوم ہواکہ حالیہ دوہفتوں کے دورا ن ٹنگمرگ کے ایک مضافاتی جنگل سے محکمہ ڈرگ کنٹرول اورمحکمہ صحت کی ٹیموں نے کم ازکم تین مرتبہ مختلف ادویات کی ایسی بھاری کھیپ برآمد کی ہے ،جوادویات سرکاری اسپتالوں اورصحت مراکزمیں بغرض علاج ومعالجہ آنے والے بیماروں اورمریضوں کومفت فراہم کی جاتی ہیں ۔جنگل سے برآمدہوئی ادویات سے متعلق گرچہ ابھی وثوق کیساتھ کچھ نہیں کہاجاسکتاہے تاہم غالب امکان یہ ہے کہ جنگل میں پھینکی یاچھپائی گئی ادویات ٹنگمرگ کے مختلف سرکاری صحت مراکزمیں آنے والے مریضوں کیلئے مخصوص تھی ،اورنامعلو م وجوہات کی بناء اتنی بڑی مقدارمیں اہم ادویات کوضائع کردیاگیا۔محکمہ ڈرگ کنٹرول کے ذرائع نے بتایاکہ ابتدائی طوریہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگل میں ڈالی یاپھینکی گئی ادویات کاسرکاری اسپتالوں سے تعلق ہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کی ٹیم نے جنگل سے نمونے حاصل کرکے انکی جانچ پڑتال شروع کردی ہے ۔اس دوران ریاستی محکمہ صحت یاہیلتھ سروسزڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ افسروں نے بڑے پیمانے پرپھیروبدل کاسلسلہ شروع کردیاہے ،اوراسی پھیروبدل مہم کے تحت کشمیروادی کے مختلف علاقوں میں قائم سرکاری اسپتالوں وصحت مراکز،چیف میڈیکل افسروں اوربلاک میڈیکل افسروں کے دفاترمیں بطوراسٹورکیپرتعینات36جونیئراورسینئردواسازوں یعنی فامسسٹس کاتبادلہ عمل میں لایاہے ۔محکمہ صحت کے ڈائریکٹرجنرل نے21اور23جولائی2018کودوالگ الگ آرڈرزیرنمبر563/NG of 2018اور565/NG of 2018جاری کئے ہیں ۔پہلے آرڈرکے تحت 29جونیئراورسینئرفارمسسٹس کاتبادلہ عمل میں لایاگیاہے جبکہ دوسرے سرکاری آرڈرکے تحت مزید7ایسے دواسازموجودمقامِ ڈیوٹی یاتعیناتی سے تبدیل کئے گئے ہیں ۔ ڈائریکٹرجنرل محکمہ صحت نے36فارمسسٹس کاتبادلہ عمل میں لاتے ہوئے چیف میڈیکل افسروں ،بلاک میڈیکل افسروں اورمختلف اسپتالوں کے میڈیکل سُپرانٹنڈنٹوں کویہ ہدایت بھی دی ہے کہ ٹرانسفرشدہ کسی بھی دواساز کوکسی اسپتال یامحکمہ صحت کے دفترمیں اسٹورکاچارج نہ دیاجائے ۔

Comments are closed.