کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی کڑی نظر /سیکریٹری جنرل
پاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات اور مذاکرات شروع کرنے کیلئے خدمات انجام دے رہا ہوں
سرینگر /21 جون// اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اشارہ کیا کہ وہ پاک بھار ت وزراء اعظم کے مابین با ت چیت کرانے اور دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات شروع کرانے کیلئے اپنی خدمات انجا م دے رہے ہیں ،حد متارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول لائن پر تناؤ اور کشیدگی کے ماحول پر فکر و تشویش کااظہار کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک پُر امن طریقے سے حل کریں اور خطے میں جو ابتر صورتحال دکھائی دے رہی ہے وہ بہتر ہو سکے ۔ اے پی آئی کے مطابق عہدہ سیکریٹری جنرل سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونی گٹرس نے اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ پاک بھارت وزراء اعظم اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کیلئے اپنی خدمات انجا م دے رہے ہیں ۔ا نہوںنے کہا کہ دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کے درمیان بات چیت ہونے سے مذاکرات شرو ع کرانے میں مدد مل سکتی ہے ،بھارت پاکستان کے درمیان حدمتارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول لائن پر کشیدگی اور تناؤ کے ماحو ل پر فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوا م متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اس طرح کے حالا ت کو بات چیت سے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ 3بار اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ 2بارملاقات ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کو ہنستے ہوئے ٹال کر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ کسی الزام نہیں لگانا چاہیے کہ اس نے کچھ نہیں کیا ،کام ہو رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کے مابین ایک اور ملاقات ہوسکے تاکہ بھارت پاکستا ن کے مابین مذاکرات شروع کرنے کیلئے راہ ہموار ہو سکے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دجرارک کو جب کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ادارے کی حالات پر کڑی نظر ہے اور ہم چاہتے ہیںکہ بھارت پاکستان کے مابین کئی معاملات پر بات چیت ہو نی چاہیے تاکہ اس کے بہتر اثرات مرطب ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ حدمتارکہ اور بین الاقوامی کنٹرول لائن پر دونوں ممالک ناجنگ معاہدے پر من و عن عمل کریں اور دراندازی کو روکنے کیلئے کارگر اقدامات اٹھائے جانے چاہیے اور کلبھوشن کے معاملے پر سنجیدگی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔
Comments are closed.