بھارت اگر جمہوریت کا چمپئن کہلاتا ہے تو کشمیر مسئلے کو حل کرنے میں جھجک کیوں؟/باسط علی
بھارت سے مذاکرات کی پاکستان بھیک نہیں مانگے گا،دونوں ممالک کیلئے بات چیت لازمی
سرینگر /20 جون/اے پی آئی/ بھارت سے مذا کرات کی بھیک نہ مانگنے کا ارادہ ظا ہر کرتے ہوئے نئی ہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ بر صغیر کے دو نیو کلیئر طاقتوں کو مذاکرات کے بغیر چارہ بھی نہیں، اگر بھارت دنیا کا سب سے بڑا چمپئن خود کو کہلاتا ہے تو اس سے کشمیر کے حوالے سے حقیقت تسلیم کرنے میں جھجک بھی نہیں ہونی چاہئے، سر حدوں پر کشیدگی اور تناؤ کے ما حول کو کم کرانے کیلئے ڈائریکٹر ملٹری آپریشنوں کے رابطہ میں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ دونوں ملکوں کے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے اور یہ سیاسی قیادتوں کیلئے لمحہ فکر یہ بھی ہے ۔اے پی آئی کے مطا بق نئی دہلی میںذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ سوا لوں کا جواب دیتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط نے کہا کہ پاکستان بھارت سے مذا کرات کی بھیک نہیں مانگتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بار بار پہل کی کہ دونوں ملکوں کے ما بین سر کاری سطح پر بات چیت شروع ہونی چاہئے تا ہم بدلے میں بھارت نے پاکستان کو بین الاقوامی برادری سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے ما بین تناؤ اور کشید گی کی صورتحال میں اضافہ ہوا اور کئی ایسے بھی واقعات رونما ہوئے جس نے جلتی پہ تیل کا کام کر کے اختلافات میں مز ید اضافہ کیا اور دونوں ملکوں کے مابین سر کاری سطح پر بات چیت کرانے کے جو بھی امکانات پیدا ہو جاتے تھے وہ کھٹا ئی میں پڑ رہے تھے ۔نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ کون کہتا ہے پاکستان مذکرات نہیں چاہتا ہے، جتنی پہل مذا کرات کے حوالے سے پا کستان نے کی ہے اگر بھارت نے اس کا دسواںحصہ بھی سنجیدگی کا مظا ہرہ کیا ہو تا تو صورتحال کچھ اور ہوتی، عبدا لباسط نے بھارت کے سیاسی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مکھی مرے یاانڈا ٹوٹے ،گو لی چلے یا بم پھٹے ،حادثہ ہو یا کسی کی موت کا واقع رو نما ہوا ہو بھات انگلی پاکستان کی طرف اٹھا تا ہے حالانکہ بھارت کو اس بات کی جانکاری بھی ہوتی ہے کہ وہ یہ سب کچھ پاکستان کو بد نام کرنے کیلئے کہتے ہے اور پاکستان کو مردہ الزام ٹھہرانے سے بھارت کی سیاسی قیادت کو کھانا ہضم ہوتا ہے ۔پاکستان کے ہائی کمشنر نے رواں برس کے اگست کے وسط سے مذاکرات سرکاری سطح پر شروع ہونے کی امید جتا تے ہوئے کہا کہ بر صغیر کی دو بڑی نیو کلیئر طاقتوں کومذا کرات کے بغیر اور کوئی چارہ بھی نہیں ۔پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ ہم بات چیت میں یقین رکھتے ہے اور مجھے امید ہے کہ اب وزیراعظم ہند نر یندر مودی کے سربراہی میں بھارت کی مر کزی حکومت پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑ ھا ئی گی۔ہائی کمشنر نے امید ظا ہر کی کہ دونوں ملکوں کے ما بین حالات بہتر ہوتے جا رہے ہے اور بات چیت کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں ۔سرینگر /20 جون/اے پی آئی/ بھارت سے مذا کرات کی بھیک نہ مانگنے کا ارادہ ظا ہر کرتے ہوئے نئی ہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ بر صغیر کے دو نیو کلیئر طاقتوں کو مذاکرات کے بغیر چارہ بھی نہیں، اگر بھارت دنیا کا سب سے بڑا چمپئن خود کو کہلاتا ہے تو اس سے کشمیر کے حوالے سے حقیقت تسلیم کرنے میں جھجک بھی نہیں ہونی چاہئے، سر حدوں پر کشیدگی اور تناؤ کے ما حول کو کم کرانے کیلئے ڈائریکٹر ملٹری آپریشنوں کے رابطہ میں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ دونوں ملکوں کے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے اور یہ سیاسی قیادتوں کیلئے لمحہ فکر یہ بھی ہے ۔اے پی آئی کے مطا بق نئی دہلی میںذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ سوا لوں کا جواب دیتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط نے کہا کہ پاکستان بھارت سے مذا کرات کی بھیک نہیں مانگتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بار بار پہل کی کہ دونوں ملکوں کے ما بین سر کاری سطح پر بات چیت شروع ہونی چاہئے تا ہم بدلے میں بھارت نے پاکستان کو بین الاقوامی برادری سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے ما بین تناؤ اور کشید گی کی صورتحال میں اضافہ ہوا اور کئی ایسے بھی واقعات رونما ہوئے جس نے جلتی پہ تیل کا کام کر کے اختلافات میں مز ید اضافہ کیا اور دونوں ملکوں کے مابین سر کاری سطح پر بات چیت کرانے کے جو بھی امکانات پیدا ہو جاتے تھے وہ کھٹا ئی میں پڑ رہے تھے ۔نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ کون کہتا ہے پاکستان مذکرات نہیں چاہتا ہے، جتنی پہل مذا کرات کے حوالے سے پا کستان نے کی ہے اگر بھارت نے اس کا دسواںحصہ بھی سنجیدگی کا مظا ہرہ کیا ہو تا تو صورتحال کچھ اور ہوتی، عبدا لباسط نے بھارت کے سیاسی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مکھی مرے یاانڈا ٹوٹے ،گو لی چلے یا بم پھٹے ،حادثہ ہو یا کسی کی موت کا واقع رو نما ہوا ہو بھات انگلی پاکستان کی طرف اٹھا تا ہے حالانکہ بھارت کو اس بات کی جانکاری بھی ہوتی ہے کہ وہ یہ سب کچھ پاکستان کو بد نام کرنے کیلئے کہتے ہے اور پاکستان کو مردہ الزام ٹھہرانے سے بھارت کی سیاسی قیادت کو کھانا ہضم ہوتا ہے ۔پاکستان کے ہائی کمشنر نے رواں برس کے اگست کے وسط سے مذاکرات سرکاری سطح پر شروع ہونے کی امید جتا تے ہوئے کہا کہ بر صغیر کی دو بڑی نیو کلیئر طاقتوں کومذا کرات کے بغیر اور کوئی چارہ بھی نہیں ۔پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ ہم بات چیت میں یقین رکھتے ہے اور مجھے امید ہے کہ اب وزیراعظم ہند نر یندر مودی کے سربراہی میں بھارت کی مر کزی حکومت پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑ ھا ئی گی۔ہائی کمشنر نے امید ظا ہر کی کہ دونوں ملکوں کے ما بین حالات بہتر ہوتے جا رہے ہے اور بات چیت کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں ۔
Comments are closed.