طاقتی حربوں سے حق و انصاف پر مبنی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا:میر واعظ عمر فاروق
سری نگر:۲۰،جولائی: حریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرواعظ عمرفاروق نے حکمرانوں کی جانب سے مرکزی جامع مسجد پر بار بار کی قدغن ، نماز کی ادائیگی پر پابندی، شہر خاص کو مقفل کرنے ، بندشیں اور رکاوٹوں کے نفاذ کو ایک لاحاصل مشق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے حربوں سے حق و انصاف پر مبنی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ رکاوٹوں ، ظلم وتشدد اور فوجی قوت کے بل پر یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کو ختم کیا جاسکتا ہے تو بھارت کے ارباب سیاست کو چاہئے کہ وہ انگریزوں کیخلاف اپنی تحریک آزادی کا مطالعہ کریں اور اس سے سبق حاصل کریں کہ کیا قدغنوں، بندشوں اور رکاوٹوں سے کسی قوم کی تحریک آزادی کو آج تک دبایا جاسکا ہے ۔کے این این کے مطابق گزشتہ دو جمعہ کو لگاتار پابندی کے بعد پہلی بار مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں کشمیری سیاسی نظر بند بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گزشتہ ۱۵ اور ۲۰ سالوں سے ایام اسیری کاٹ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی NIA اور ED نے جن حریت پسند رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے ان کی مدت قید کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے لیکن اتنی مدت گزر جانے کے باوجود ان لوگوں کیخلاف کچھ بھی ثابت نہیں کیا جاسکا ہے ۔ان لوگوں کیخلاف جو چارج شیٹ تیار کی گئی ہے اور جن بے بنیاد اور من گھڑت الزامات میں پھنسا کر انہیں جیلوں میں بند کردیا گیا ہے اس کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ اب صحافیوں کو ، وکلاء کو ، بزنس کیمونٹی کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے حتیٰ کہ خواتین کو پابند سلاسل کرکے جیلوں میں بند کیا جارہا ہے ۔ کیا حکومت یہ سمجھتی ہے کہ یہاں کی مزاحمتی قیادت اور کارکنوں کو جیلوں میں بھرنے سے عقوبت خانوں میں بند کرنے سے تحریک دب سکے گی ان حربوں سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ۔ یہ سب انتقام گیری کے حربے ہیں ، NIA، ED اور دوسری ایجنسیوں کے ذریعے برابر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہاں کی تحریک Sponsored ہے اور روپے کا لالچ دیکر یہاں کے لوگوں کو اکسایا جارہا ہے ۔ یہ تاثر غلط ہے ، ہمارے بہت سے لوگ جیلوں میں بند ہیں، حریت کانفرنس کی جملہ سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہے ۔ ہماری پر امن سیاسی اور تحریکی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد ہیں ۔ کیا اس ایک سال کے دوران یہاں کے حالات خراب نہیں ہوے۔ اصل میں یہ تحریک یہاں کے عوام کے دلوں اور جذبوں میں رچی بسی ہے اور اب یہ تحریک یہاں کی چوتھی نسل کو منتقل ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو حقائق کا اعتراف کرنا چاہئے کیونکہ آج بھارت میں حکومت سے باہر کی جماعتیں بھی سرکاری ایجنسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور بہ بانگ و دہل یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایجنسیاں حکومت کے کنٹرول میں ہے اور ان ایجنسیوں کو سیاسی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مزاحمتی قیادت اور عوام کوڈرانے ، دھمکانے یا NIA کی وساطت سے نوٹس اجرا کرنے سے دبایا نہیں جاسکتا اور ان حربوں سے ہم خوفزدہ نہیں ۔ میرواعظ نے جیلوں میں مقید کشمیری حریت پسند رہنماؤں جناب شبیر احمد شاہ، الطاف احمد فنٹوش، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف، آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی، نائید نسرین ،تاجر ظہور وٹالی اور دوسرے سینکڑوں محبوس حریت پسندوں کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں ان لوگوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے اور ان لوگوں کو پیشہ ور مجرموں کے ساتھ رکھا جارہا ہے اور جیلوں میں ان کو شدید عتاب اور عذاب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔میرواعظ نے ان قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جارحانہ حربوں سے نہ یہاں کی قیادت اور نہ یہاں کے عوام کو خوفزدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاسکتا ہے ۔ ہم اپنی حق و انصاف سے عبارت جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوں گے اور حصول مقصد تک ہماری جدوجہد جاری رہیگی۔
Comments are closed.