جعلی کاغذات پر بندوقوں کی لائسنس فراہم کرنے کا معاملہ

جعلی کاغذات پر بندوقوں کی لائسنس فراہم کرنے کا معاملہ

ریاست کے کئی سینئر آفیسران کا نام سکنڈل میں سامنے آیا ، راجستھان پولیس نے گورنر انتظامیہ سے رابط قائم کیا

سرینگر19ٌؐ؍جولائی : جعلی کاغذات پر بندوقوں کی لائسنس اجرا کرنے کا ایک بہت بڑا اسکنڈل سامنے آیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ رگزشتہ سال راجستھان پولیس نے اس ضمن میں ریاستی حکومت کو آگاہ کیا اور سابق ڈپٹی کمشنر وں ، ایڈیشنل کمشنروں کی تفصیلات طلب کی تاہم اُس وقت کی حکومت نے لسٹ فراہم کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ تباہ کن سیلاب کے دوران کاغذات گم ہو گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے کئی آفیسران کا نام سامنے آنے کے بعد ریاست کے گورنر نے اس ضمن میں تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق راجستھان پولیس نے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ 4لاکھ 29ہزار بندوقوں کو بغیر کسی جانچ پڑتال کے لوگوں کو فراہم کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ سال سکنڈل طشت از بام ہونے کے بعد راجستھان پولیس نے اس سلسلے میں جموں وکشمیر کی حکومت کے ساتھ رابط قائم کیا اور کہا کہ سکنڈل کے تار ریاست سے بھی جڑے ہوئے ہیں اور اس ریکٹ میں سینئر آفیسران ملوث ہو سکتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ راجستھان پولیس نے ریاستی حکومت کو سیکریٹریوں اور انڈر سیکریٹریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاہم بار بار راجستھان پولیس کی جانب سے خطوط روانہ کرنے کے باوجود بھی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بی جے پی ، پی ڈی پی حکومت گرنے کے بعد ریاست کے گورنر این این ووہرا کے سامنے جب یہ معاملہ لایا گیا تو انہوں نے فوری طورپر اس ضمن میں تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں اور بندوقوں کی لائسنس کے کاغذات ایک ماہ کے اندر اندر گورنر سیکریٹریٹ میں جمع کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ راجستھان پولیس کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ سابق چیف سیکریٹری بی بی ویاس کو بھی کئی بار سیکریٹریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تاہم اُس نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ راجستھان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل وکاس کمار گزشتہ سال سرینگر کے دورے پر بھی آئے اور آفیسران سے اس ضمن میں تعینات کرنے کو کہا تاہم راجستھان پولیس کو اس سلسلے میں کچھ نہیں بتایا گیا ۔

Comments are closed.