ہندوستان میں مذہبی آزادی اور یکساں شہری حقوق قصئہ پارینہ

کانپتی انسانیت کے دلدل میں پھنسے کشمیری

کشمیر میں خونی کھیل جاری ،ہند پاک دوستی کے مخالف عناصر کی کوئی کمی نہیں: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

کپوارہ:۱۹،جولائی: نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے اور کشمیری اس وقت ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے اورفرقہ پرستوں کے غلبے کے بعدمذہبی آزادی کے اصول تہس نہس ہوگئے ۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ ایسے عناصر کی کمی نہیں جو دونوں ممالک میں دوستی اور امن کے مخالف ہیں۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بھارت کی موجودہ حالات میں فوری بدلائو کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہندوستان اب وہ ہندوستان نہیں رہا ، جہاں مسلم، سکھ ، ہندو ، عیسائی، بودھ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق اور مذہبی آزادی حاصل تھی، ملک اس وقت مکمل طور پر فرقہ پرستوں کے چنگل میں آچکا ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج کپوارہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، پارٹی لیڈران سردار شمی سنگھ اوبرائے، تنویر صادق کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہندوستان میں اقلیتوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیاہے، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں، جو ملک کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو یہ طرہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل تھی اور آئین ہند میں بھی تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو تحفظ دیا گیا تھا لیکن فرقہ پرستوں کے غلبے کے بعد ان اصولوں کو تہس نہس کیا جارہا ہے۔ جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے، ہم اس وقت ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے انسانیت کانپ اُٹھی ہے۔ اکثر اوقات تو بے گناہ اور معصوم لوگوں کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اُن کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے اور مارنے والوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں کسی کی جان لے رہے ہیں۔ کشمیر میں خون کا یہ کھیل فوری طور پر بند ہونا چاہئے اور یہاں کے لوگوں کو امن، سکون اور چین کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہئے۔ اہل کشمیر سے اتحاد و اتفاق کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمارے مشکلات اور مسائل اُسی صورت میں حل ہوسکتے ہیں جب ہم متحد ، یکسو اور یک زبان ہونگے۔ اتحاد میں ہی ہم منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر ہم اب بھی ٹولیوں میں بنٹتے گئے تو ہم ہماری شناخت، انفرادیت ، اجتماعیت اور وحدت دائو پر لگ جائیگی۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ اسی صورت میں جموں وکشمیر اور خطے میں مکمل اور دیگر پا امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی کمی نہیں جو دونوں ممالک میں دوستی اور امن کے مخالف ہیں، ایسے عناصر کے مذموم ارادوں اور سازشوں کو ناکام بنا کر خطے میں دیر پا امن کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی قیادت کو آگے آکر نئی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔ دریں اثناء انہوں نے پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر قانون میر سیف اللہ کے برادرِ غلام محی الدین میر کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت اور کلمات ادا کئے۔ اس موقعے پر پارٹی کے مقامی لیڈران قیصر جمشید لون، ناصر خان، حاجی محمد سلطان وانی، یوتھ ضلع صدر زاہد مغل بھی موجو دتھے۔

Comments are closed.