عدل و انصاف کے تمام تقاضے بالائے طاق

جیل خانے کشمیری قیدیوں کیلئے ٹارچر سنٹروں میں تبدیل :جے آر ایل

سری نگر:۱۹،جولائی: مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ جیل خانوںکو کشمیری قیدیوں کیلئے ٹارچر سنٹروں میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں ان قیدیوں کو انتہائی بدترین حالت میں رکھا جارہا ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کورٹ بلوال جیل جموں میں معروف محبوس آزادی پسند کارکن ۶۶ سالہ غلام حسن ملک عرف نور خان ساکن پیلی پورہ اوڑی کے انتقال کو ایک انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ نے ایک بار پھر ہمارے ان خدشات کو تقویت بخشی ہے کہ جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری حریت پسند قیدیوں کی زندگیاں کس درجہ غیر محفوظ ہیں اور کس طرح جیلوں میں مقید ان قیدیوں کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلا جارہا ہے ۔مرحوم نور خان کی تحریک آزادی کے تئیں خدمات ، قربانیوں اور اس کے صبر استقامت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ ایک عمر رسیدہ شخص کو جو کہ پہلے سے بہت علیل تھے بدنام زمانہ PSA کے تحت گرفتار کرکے گھر سے دور کورٹ بلوال جیل میں منتقل کرنا اور وہاں انہیں مناسب طبی امداد سے محروم رکھنے کا عمل بجائے خود حکمرانوں کی کشمیری سیاسی نظر بندوں کے تئیں انتہا پسندانہ سوچ اور شقاوت قلبی کو ظاہر کرتی ہے ۔قائدین نے کہا کہ مرحوم نور خان کو بروقت طبی امداد کی عدم فراہم اور جیل حکام کا انکی صحت کے تئیں غیر ذمہ دارانہ رویہ ان کی موت کا سبب بنا ہے اور اسی طرح بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں سالہا سال سے مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار اور ان کی کسمپرسی کی حالت اور جیل حکام کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی رویے نے ان قیدیوں کی زندگیوں کے حوالے سے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔قائدین نے کہا کہ سرینگر سینٹرل جیل، کورٹ بلوال، کٹھوعہ، تہاڑ جیل دہلی، ہیرا نگر، سنگرور، ادھمپور،اور دیگر جیل خانوںکو کشمیری قیدیوں کیلئے ٹارچر سنٹروں میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں ان قیدیوں کو انتہائی بدترین حالت میں رکھا جارہا ہے اور ان جیلوں میں مقید سینکڑوں کشمیری سیاسی نظر بند نہ صرف مناسب طبی سہولیات اور دیگر لازمی ضرورتوںسے محروم ہیں بلکہ ان اذیت خانوں میں مقید نظر بندوں کو جرائم پیشہ قیدیوں کے ساتھ رکھ کر ان کی زندگیوں کو جان بوجھ کر خطرات سے دوچار کیا جارہا ہے ۔ ان کی مدت قید کو بلا وجہ طول دیا جارہا ہے اور جیلوں میں ان لوگوںکو شدید ذہنی اور جسمانی عذا ب و عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت ان لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے ۔قائدین نے حقوق بشر کے عالمی اداروں IICRC, Asia Watch, Ammenesty International وغیرہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جیلوں میں مقید کشمیری نظر بندوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے کیلئے اپنی ٹیمیں روانہ کریں اور حکومت ہندوستان پر دبائو ڈالیں کہ وہ ان قیدیوں کو جنیوا کنونشن کے تحت طبی اور دیگر سہولیات فراہم کرے۔قائدین نے فوج اور فورسز کی جانب سے موچھواڑہ شوپیاں میں نہتے عوام کی مارپیٹ ، ان کو تشدد کا نشانہ بنانے، مال و اسباب کی توڑ پھوڑ اور پوری بستی کو بندوق کی نوک پر عذاب و عتاب کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موچھواڑہ میں فوج اور فورسز کی جانب سے نہتے عوام کیخلاف دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ اس بات کی علامت ہے کہ کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز کسی بھی جوابدہی کے عمل سے مبرا ہے اور جب چاہے اور جہاں چاہیں لوگوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تعینات بھارتی افواج اور فورسز نے پوری کشمیری قوم کیخلاف ایک طرح کی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور آئے روز مختلف علاقوں میں مختلف بہانوں سے نہتے عوام کو تشدد کا نشانہ بنانا ان کا معمول بن چکا ہے جو اقوام عالم کیلئے چشم کشا ہے۔

Comments are closed.