پی ڈی پی،بی جے پی کا1174دنوں پرمحیط خونین دور 941جانیں تلف،ہزاروں زخمی

سری نگر:۱۹،جولائی: اب جبکہ پی ڈی پی اوربی جے پی کی مخلوط سرکارتاریخ کے اوراق میں رقم ہوچکی ہے توالگ الگ مواقعوں پر2وزراء اعلیٰ کی سربراہ والی اس مخلوط سرکارکے3برس2ماہ اور20دنوں پرمحیط راج تا ج کے دوران پیش آئے مختلف نوعیت کے واقعات کاتجزیہ کیاجارہاہے۔کے این این کے مطابق 28فروری2015کوجب پی ڈی پی کے بانی مرحوم مفتی محمدسعیدنے نئی دہلی میں وزیراعظم نریندرمودی کیساتھ اہم ملاقات کی تودونوں کے درمیان ریاست جموں وکشمیرمیں مخلوط سرکارتشکیل دینے پراتفاق ہوا۔ملاقات کے بعدمفتی سعیدمرحوم نے میڈیاکوبتایاکہ پی ڈی پی اوربی جے پی کااتحاد’نارتھ اورسائوتھ پول‘کے ملن جیساہے ،مطلب یہ کہ دونوں پارٹیوں کانظریہ ایک دوسرے سے بالکل متضادہے لیکن بقول مفتی محمدسعیدپی ڈی پی اوربی جے پی کااتحادریاست اورملک کے وسیع ترمفادمیں ہواہے ۔یکم مارچ 2015کومفتی محمدسعیدنے جموں میں ایک پروقارتقریب کے دوران وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا،اور7جنوری 2016تک وہ اس منصب پرفائض رہے ۔مفتی سعیدمرحوم کے لگ بھگ10مہینوں پرمحیط دورمیں کئی ایسے واقعات پیش رہے جن سے یہ واضح ہوگیاکہ نارتھ اورسائوتھ پول کاملن ضرورت سے زیادہ مجبوری ہے ۔خاص طورپرجب وزیراعظم مودی نے شیرکشمیرکرکٹ اسٹیڈیم سری نگرمیں ایک جلسہ عام کے دوران مفتی محمدسعید جیسے کہنہ مشق سیاستدان کی یہ کہہ کرتضحیک کی کہ اُنھیں (مودی کو) کشمیراورپاکستا ن کے بارے میں کسی کے مشورے کی ضرورت ہیں ۔کہتے ہیں کہ ضرورت ایجادکی ماں ہے لیکن مجبوری کومفادات کی مانگ کہاجائے توبیجانہیں ہوگا،کیونکہ دونوں جماعتوں کے بااتفاق رائے طے شدہ ایجنڈاآف الائنس میں حیرت انگیزطورپربھارتیہ جنتاپارٹی نے جموں وکشمیرسے متعلق اپنے دیرینہ نظریہ یاموقف پرسمجھوتہ کرتے ہوئے اسبات کاعہدکیاکہ اس پارٹی کے لیڈراوروزیردفعہ 370کیخلاف کوئی بیان نہیں دیں گے بلکہ اس معاملے پرخاموش رہیں گے ۔پی ڈی پی نے بھی ایجنڈاآف الائنس کے تحت اپنی کئی مانگوں کوچھوڑدیایاکہ اپنے نظریہ پرسمجھوتہ کیاجوکہ عدازاں عیاں بھی ہواکیونکہ ی ڈی پی کے لیڈروں نے بھاجپاکیساتھ مخلوط سرکاربنانے کے بعدکبھی کشمیرسے متعلق اپنی سیاسی نظریہ خاص طورپرسیلف رول کی ایک مرتبہ بھی بات نہیں کی۔دونوں پارٹیوں کے مابین اندرہی اندرموجودنفاق اوربداعتمادی اُسوقت کھل کرسامنے آگئی جب مفتی سعیدکے انتقال کے بعدمحبوبہ مفتی کومخلوط سرکارکی کمان سنبھالنے کافیصلہ لینے میں 3ماہ لگے ۔بہرحال 4اپریل2016کوجب محبوبہ مفتی نے اپنے والد،پیشرئواورسیاسی راہنمامفتی محمدسعید کی جگہ ریاستی وزیراعلیٰ کے بطورحلف اُٹھایاتوموصوفہ نے ایک تاریخ رقم کی کیونکہ محبوبہ مفتی مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیرکی ایسی پہلی خاتون بنیں جووزارت اعلیٰ کے عہدے پرفائض ہوئیں ۔سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے الیکشن 2014کی مہم کے دوران عمرعبداللہ کے پانچ سالہ دورکوخونین بتاتے ہوئے 2010کی گرمائی ایجی ٹیشن کے دوران ہونے والی 100سے زیادہ شہری ہلاکتوں کاباربارذکرکیالیکن خودوزیراعلیٰ بننے کے صرف 3ماہ بعدمحبوبہ مفتی کواُسی صورت کاسامناکرناپڑاجس طرح کی صورتحال سے عمرسرکار 2010میں دوچارہوئی تھی ۔8جولائی2016کوحزب کمانڈربرہان وانی کے جاں بحق ہوجانے کے بعدکشمیرکے اطراف واکناف میں جوسنگین صورتحال پیداہوئی ،اُسکی شدت 2010کی گرمائی ایجی ٹیشن سے زیادہ تھی کیونکہ جہاں شہروقصبہ جات کے ساتھ ساتھ دوردورکے گائوں دیہات میں بھی جلوس نکالے گئے اوراس دوران پولیس وفورسزکوکارروائی عمل میں لاناپڑی ،توبرہان وانی کی تقلیدکیلئے بڑی تعدادمیں نوجوان سامنے آئے ۔کشمیری نوجوانوں میں ملی ٹنسی کاایک نیارُجحان پروان چڑھ گیا،اوردیکھتے ہی دیکھتے درجنوں عام فہم نوجوان جنگجوبن بیٹھے ۔اب جہاں تک پی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارکے پہلے اوردوسرے دورکاتعلق ہے تودونوں پارٹیوں نے 3سال2ماہ اور19دنوں تک راج کیاجبکہ اس دوران 7جنوری2016سے4اپریل2016تک ریاست میں گورنرراج نافذرہا۔سرکاری اعدادوشمارکے مطابق پی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارکے1174دنوں پرمحیط دورِ اقتدارکے دوران جموں وکشمیرمیں تشددکے مختلف واقعات بشمول جھڑپوں ،جنگجوئیانہ حملوں اورسنگباری وانخائونٹرمخالف مظاہروں کے دوران941افرادتشددکی بھینٹ چڑھ گئے ،جن میں 571مقامی وغیرملکی جنگجو،243سیکورٹی افسرواہلکاراور127عام شہری بھی شامل ہیں ۔سابق مخلوط سرکارکے دورمیں ہزاروں کی تعدادمیں عام شہری اورسیکورٹی اہلکارشدیدنوعیت کے مظاہروں اورسنگباری کے واقعات میں زخمی ہوگئے جبکہ درجنوں عام شہری سال2016کی ایجی ٹیشن کے دوران یلٹ فائراورچھرے آنکھوں میں لگنے کے نتیجے میں اپنی آنکھیں اوربینائی کھوبیٹھے۔

Comments are closed.