سوپور میں24گھنٹوں میں 2مسلح حملے
کپوارہ میں ایک ہفتے تک جاری رہنا والا جنگجو مخالف آپریشن ختم
سری نگر:۱،جولائی: بٹہ پورہ ماگام ہندوارہ میں جمعرات کی سہ پہر جنگجوئوں اور فوج وفورسز کے درمیان معرکہ آرائی میں غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ایک جنگجین/و جاں بحق ہوا اور یہاں آپریشن جاری ہے ۔ادھر شمالی قصبہ سوپور میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران پولیس پر 2مسلح حملے ہوئے ،تاہم ان میںکوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ،جسکے بعد یہاں فوج وفورسز نے بڑے پیمانے پر حملہ آئوروں کی تلاش شروع کردی ۔اس دوران سرحدی ضلع کپوارہ کے جنگلات میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والا جنگجو مخالف آپریشن میں جمعرات کو ختم کردیا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بٹہ پورہ ماگام ہندوارہ میں جمعرات کو اُس وقت جنگجوئوں اور فوج وفورسز کے درمیان معرکہ آرائی شروع ہوئی ،جب مشترکہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز پر جنگجوئوں نے فائرنگ کی ۔معلوم ہوا ہے کہ فوج وفورسز کو ایک مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ بٹہ پورہ ماگام ہندوارہ میں2 سے3جنگجوئوں موجود ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اس اطلاع پر فوج وفورسز نے مشترکہ طور پر تلاشی کارروائی شروع کردی ۔ذرائع نے بتایا کہ جب فورسز کی ایک پارٹی مخصوص مقام کی طرف جارہی تھی ،جس دوران یہاں موجود جنگجوئوں نے اس پر فائرنگ کی ۔جوابی کارروائی کے دوران فورسز نے بھی فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید جھڑپ شروع ہوگئی ۔ریاستی پولیس نے آفیشل ٹویٹر اکائونٹ پر اس کی تصدیق کی ۔کشمیر پولیس زون نے بتایا کہ بٹہ پورہ ہندوارہ میں انکائونٹر شروع ہوا ،سیکورٹی فورسز کارروائی میں مصروف ہے ۔ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق علاقے میں2 سے3جنگجو موجود ہیں۔غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق اس جھڑپ میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا اور تاد تحریر طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ جاری تھا،تاہم سرکاری سطح یا مصدقہ ذرائع نے اسکی تصدیق نہیں کی ۔ایس ایس پی ہندوارہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں تلاشی کارروائی جاری ہے ،اور ابھی تک یہاں کسی جنگجو کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔اس دوران شمالی قصبہ سوپور میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران پولیس پر 2مسلح حملے ہوئے ۔اس ضمن میں ملی تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار جنگجوئوں نے بائی پاس کراسنگ سوپور کے مقام پر پولیس کی گشتی پارٹی پر فائرنگ کی ۔معلوم جمعرات کی دوپہر یہاںموٹر سائیکل سوار جنگجو ئوں نے پولیس کی ایک پارٹی پر فائرنگ کی ،تاہم اس میں پولیس کو کسی طرح کے جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔179بٹالین سی آر پی ایف کے کمانڈنگ افسر آر این سیکھو نے بتا یا کہ یہاں پولیس اہلکار تعینات تھے جن پر یہ مسلح حملہ ہوا ،انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو شمالی کشمیر کا دورہ کرنا تھا جسکے پیش نظر یہاں پولیس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ۔فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد پولیس وفورسز نے حملہ آئوروں کو تلاش کرنے کی غرض سے کمبنگ آپریشن شروع کیا ۔یاد رہے کہ بدھ کی شب کو وترگام رفیع آباد سوپور میں جنگجوئوں نے ایک پولیس پوسٹ پر گرینیڈ سے حملہ کیا ۔پولیس ترجمان نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوئوں نے مذکورہ پولیس پوسٹ پر 9بجکر30منٹ پر ایک ہتھ گولہ پھینکا ،جو نشانے سے چوک پر زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ۔تاہم اس دھماکے میں کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ۔دریں اثناء فوج نے شمالی سرحدی ضلع کپوارہ کے جنگلات میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے جنگجو مخالف آپریشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ فوج کی جانب سے یہ اعلان گذشتہ چند روز کے دوران کپوارہ کے وسیع جنگلات میں جنگجوؤں کو موجود نہ پانے کے بعد لیا گیا۔ کپوارہ کے وسیع جنگلات میں جنگجو مخالف آپریشن 11 جولائی کو شروع کیا گیا۔ اس دوران جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک فوجی کمانڈو ہلاک جبکہ دوسرا ایک زخمی ہوا۔اگلے روز یعنی 12 جولائی کو فوج نے ایک جنگجو کو عدم شناخت جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا۔16 جولائی کو صفا والی گلی علاقہ میں جنگجوؤں اور فوجیوں کے درمیان گولی باری کا تبادلہ ہوا جس میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔16جولائی کے بعد طرفین کے مابین کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا جس کے بعد آپریشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔کپوارہ کے جنگلات میں جنگجو مخالف آپریشن8روز تک جاری رکھا گیا۔ تاہم جنگجوئوں اور فوجن کے درمیان دوبارہ آمنا سامنا نہ ہونے کے بعد یہ آپریشن ختم کردیا گیا ۔
Comments are closed.