وادی میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے فوج اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہے/فوجی سربراہ

چھ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت بزدلانہ حرکت ، ملوث جنگجوؤں کو بخشا نہیں جائے گا /وزیر دفاع

 

سرینگر17؍؍جون ؍ ؍؍ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہاکہ ملوث عسکریت پسندوں کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ادھر فوجی سربراہ نے کہاکہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے فوج اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عسکریت پسندوں کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے کارگر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق وزیر دفاع ارون جیٹلی نے اچھ بل اننت ناگ میں ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملوث عسکریت پسندوں کوکسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں اور کسی کو بھی امن و امان میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزیر دفاع کے مطابق سماج دشمن عناصر وادی کے حالات کو درہم برہم کرنے پر تلے ہوئے تاہم فوج اور دوسری سیکورٹی ایجنسیاں حالات کو معمول پر لانے کیلئے اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔ دریں اثنا حیدر آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے فوجی سربراہ لفٹنٹ جنرل بپن روات نے بتایا کہ وادی کشمیر میں عسکری کارروائیوں میں تیزی آنے کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوج ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرگرم عسکریت پسندوں پر فوج نے دباو بنائے رکھا ہے اور پچھلے کئی مہینوں سے فوج اور پولیس نے کامیاب آپریشنز کے دوران سرگرم عسکریت پسندوں کو مار گرایا ہے جس کے نتیجے میں عسکری تنظیموں میں حوصلہ شکنی پائی جار ہی ہے اور وہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ سرحدوں پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا سختی کے ساتھ جواب دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان گولہ باری کی آڑ میں دہشت گردوں کو اس طرف دھکیل رہا ہے تاہم عسکریت پسندوں کے عزائم کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Comments are closed.