لشکر کمانڈر سمیت 3مقامی جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ، نماز جنازہ میں ایک درجن جنگجوؤں نمودار ، کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی

 

سرینگر17؍؍جون ؍ جے کے این ایس؍؍ لشکر کمانڈر سمیت تین مقامی جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ لوگوں کی شرکت کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ لشکر کمانڈر اور اُس کے ساتھیوں کی کئی مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ ہف شرمال شوپیاں ، فرستہ بل پانپور اور کھڈونی کولگام میں ایک درجن کے قریب جدید اسلحہ سے لیس جنگجوں نمودار ہوئے اور انہوں نے کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ ہف شرمال شوپیاں میں مطلوب حزب کمانڈر صدام پڈر نمودار ہوا اور لشکر کمانڈر کو سلامی دی ۔ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں اگر چہ پولیس وفورسز کی بھاری تعیناتی کے بیچ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں تاہم اس کے باوجود بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ کولگام ، فرستہ بل پانپور اور ہف شرمال پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ترال ، پلوامہ ، شوپیاں، کولگام اور پانپور میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے ۔ جے کے این ایس نمائندے کے مطابق آرونی کولگام میں جھڑپ کے دوران جاں بحق مقامی عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے کو ملا ۔ نمائندے کے مطابق صبح نو بجے کے قریب پولیس نے لشکر کمانڈر جنید احمد متو کی نعش اُس کے ورثہ کے حوالے کی اس دوران لوگوں نے جلوس کی صورت میں جنگجو کی نعش کو کھڈونی کولگام آبائی گاؤں پہنچایا ۔ نمائندے کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے بندشیں عائد کرنے کے باوجود پلوامہ ، کولگام ، شوپیاں اور اننت ناگ اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ کھڈونی کولگام پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔ ایک اندازے کے مطابق لشکر کمانڈر کی نماز جنازہ میں 60ہزارکے قریب لوگوں نے شرکت کی ۔ لوگوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لشکر کمانڈر کی دس مرتبہ آخری نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ نمائندے کے مطابق نماز جنازہ سے قبل ایک درجن کے قریب عسکریت پسند کھڈونی کولگام میں نمودار ہوئے اور جاں بحق جنگجو کو بوسہ دے کر کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے لشکر کمانڈر کو آبائی گاؤں میں پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے، خواتین سینہ کوبی کر رہی تھیں ۔ ادھر مقامی جنگجو نصیر احمد ساکنہ ہف شرمال شوپیاں کی نعش جونہی اُس کے آبائی گاؤں پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ۔ نمائندے کے مطابق شوپیاں کے دیہی علاقوں سے بھی لوگوں کی کثیر تعداد ہف شرمال پہنچنے میں کامیاب ہوئے جبکہ نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ نمائندے نے مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہف شرمال گاؤں میں پانچ کے قریب جنگجو ں نمودار ہوئے اور اپنے ساتھی کو پُر نم آنکھوں سے الوداع کہہ کر کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی ۔ نمائندے کے مطابق جلوس میں اُس وقت صدام بھائی کے نعرے گونج اٹھے جب حزب المجاہدین کا مطلوب عسکری کمانڈر صدام پڈر کھڈونی کولگام میں نمودار ہوا اس دوران خواتین کی کثیر تعداد نے روایتی ون ون کے ذریعے سرگرم جنگجوؤں کو پکارا۔ ادھر عادل احمد میر ساکنہ فرستہ بل نامی مقامی جنگجو کی نماز جنازہ میں بھی سروں کا سیلاب اُمڑ آیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ پانپور اور اُس کے ملحقہ علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے عادل میر کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ مقامی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فرستہ بل پانپور میں بھی جنگجوؤں نمودار ہوئے اور انہوں نے ہوائی فائرنگ کی اور بعد میں وہ فرار ہوئے ۔ دریں اثنا مقامی جنگجوؤں کی یاد میں جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں امتناعی احکامات کے بیچ ہڑتال کا زبردست اثر دیکھنے کو ملا ۔ نمائندے کے مطابق پانپور ، شوپیاں اور کولگام میں مقامی جنگجوؤں کو سپرد خاک کرنے کے بعد نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی گئی ۔ نمائندے کے مطابق ترال میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں علاقہ میں افرا تفری کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ پولیس ذرائع کے مطابق معمولی خشت باری کے واقعات کو چھوڑ کر جنوبی کشمیر میں مجموعی طورپر حالات بہتر رہے ۔

Comments are closed.