نوجوان کی ہلاکت پر ترہگام اور کرالہ گنڈ کپوارہ ہڑتال

ضلع بھر میں تعلیمی ادارے مقفل ،وادی میں معمول کی زندگی پٹری پر لوٹ آئی

سرینگر ،کپوارہ:۱۴،جولائی:/ سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام اور کرالہ گنڈ میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ہفتہ کو مسلسل چوتھے روز بھی ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر ہو کر رہ گئے ۔اس دوراں ضلعے بھر میں انتظامیہ کی ہدایت پر تعلیمی ادارے مقفل رہے جبکہ تیز رفتار والی موبائیل انٹر نیٹ خد مات ہنوز منقطع ہیں۔ادھر وادی میں ہفتہ کو معمول کی زندگی پٹری پر واپس لوٹ آئی ،جس دوران بازاروں میں معمول کی گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام اور کرالہ گنڈ میں خالد احمد ملک نامی نوجوان کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت پر مسلسل چوتھے روز ہفتہ کو تعزیتی ہڑتال رہی ۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں تمام طرح کے دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پر غائب دہا ۔ہڑتال کے باعث ترہگام اور کرالہ گنڈ میں معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے جبکہ حساس علاقوں میں پولیس وفورسز کی اضافہ نفری تعینات کی کی گئی تھی ۔بدھ کے روز فوج کی فائرنگ کے نتیجے خالد احمد ملک والد عبدالغفار ملک ساکنہ ترہگام جاں بحق ہوا تھا۔معمولی نوعیت کے پتھراؤ کے واقعے کے دوران فوج نے بندوقوں کے دھانے کھول کر نوجوان کا جاں بحق کردیا تھا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خالد کے تین بھائی فوج وپولیس میں تعینات ہیں جبکہ جو بھائی فوج کی جس ریجمنٹ میں تعینات ہے ،اُسی ریجمنٹ کے ہاتھوں خالد کی موت ہوگئی ۔ فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں 20سالہ نوجوان تاجرخالدغفارملک ولدعبدالغفارملک ساکنہ بونہ پورہ ترہگام کی ہلاکت کے واقعے کی تہہ تک پہنچنے اوراصل حقائق کومنظرعام پرلانے کیلئے ضلع مجسٹریٹ کپوارہ نے بدھ کی شام پیش آئے اس واقعے کی مجسٹرئیل انکوائری ے احکامات صادرکئے ۔ضلع مجسٹریٹ کپوارہ خالدجہانگیر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرہندوارہ کو انکوائری آفیسرمقررکردیا،اوراُنھیں اس واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ ایک ماہ کے اندرپیش کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ضلع مجسٹریٹ کپوارہ نے کہاکہ ترہگام ہلاکت کے سلسلے میں فوج کیخلاف مقامی پولیس تھانہ میں مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیاگیاہے۔اُدھرپولیس ذرائع نے بیس سالہ نوجوان خالدغفارکی ہلاکت کے سلسلے میں پولیس تھانہ ترگام میں کیس درج کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ بدھ کی شام ترہگام قصبہ سے 8بہاراورٹریٹورئیل آرمی کی160ویں بٹالین سے وابستہ فوجی گاڑیاں گزررہی تھیں کہ اس دوران کچھ افرادنے سنگباری کی ،جسکے بعدیہاں گولی چلنے کاواقعہ بھی پیش آیا۔انہوں نے کہاکہ ایک نوجوان دکاندارکی ہلاکت کے واقعے کے سلسلے میں پولیس تھانہ ترہگام میں ایف آئی آرزیرنمبر46/2018زیردفعات148،149،323،336اور307آر پی سی کے تحت کیس درج کیاگیا۔ضلع میں امن قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے تیز رفتار والی موبائیل انٹر نیٹ خد مات ہنوز منقطع ہیں،تاہم ٹوجی موبائیل انٹر نیٹ خدمات بحال کردئے گئے ۔اس دوران ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر ہفتہ کو کپوارہ میں تعلیمی ادارے مقفل رہے۔معلوم ہوا ہے کہ مژھل ،ٹنگڈار اور کیرن کو چھوڑ کر ضلع بھر میں سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہے ۔ڈی سی کپوارہ خالد جہا نگیر نے ایک آرڈر جاری کیا تھا ،جس میں بتایا گیا کہ ہفتہ کو مژھل ،ٹنگڈار اور کیرن کو چھوڑ کر ضلعے کے تمام اسکول اور کالج بند رہیں گے ۔حکام کے مطابق یہ اقدام احتیاط اور طلاب کے تحفظ کیلئے اٹھائے گئے ۔ادھر کئی روز تک جاری رہنے والی غیر یقینی صورتحال کے بیچ ہفتہ کو وادی میں زندگی پھر بحال ہوئی۔ بازار کھل گئے اور تجارتی مراکز پر بھی گہما گہمی دیکھنے کو ملی جبکہ اسکولوں اور تعلیمی ادروں میں بھی درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا۔سرینگر اور شہر میں داخل ہونے والے کئی شہراؤں پر بدترین ٹریفک جام سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہوگیا۔جمعہ ہڑتال اور سرکاری پابندیوں وبندشوں کے بیچ یوم شہداء منایا گیا ۔13جولائی1931کو 22کشمیریوں نے ڈوگرا شاہی راج کے خلاف اپنی جانوں کی قربانیاں دی تھیں ۔ہر سال13جولائی قومی دن کے بطور منایا جاتا ہے اور اس روز ریاستی تعطیل بھی ہوتی ہے۔

Comments are closed.