محکمہ برقیات کی مبینہ غفلت شعاری

سوپور میں عارضی ملازم بجلی جھٹکا لگنے سے لقمہ اجل
عارضی ملازمین کے احتجاجی مظاہرے ،انصاف کا کیا مطالبہ

سوپور:۱۴،جولائی:/ شمالی قصبہ سوپور میں ہفتہ کی صبح اُس وقت قیامت صغریٰ بپا ہوئی ،جب نیو کالونی میں ترسیلی لائن کی مرمت کے دوران بجلی جھٹکا لگنے سے 3دہائیوں سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والا ایک غریب ملازم جاں بحق ہوا ۔واقعہ پرمحکمہ برقیات میں یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے صدر دفتر سوپور پر احتجاجی مظاہرے کر تے ہوئے محکمہ پر غفلت شعاری برتنے کا الزام عائد کیا ۔ کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق محکمہ برقیات میں یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے پیش آنے والے افسوسناک واقعات کا سلسلہ جاری ہے ۔شمالی قصبہ سوپور میں ہفتہ کی صبح ایسے ایک واقعہ میں یومیہ اُجرت پرکرنے والے ایک غریب ملازم کی دوران ڈیوٹی اور ترسیلی لائن کی مرمت کی دوران موت ہوگئی ۔اطلاعات کے مطابق محکمہ برقیات میں یومیہ اُجرت پر کام کرنے والا 50 سالہ محمد رمضان لون ولد علی محمد لون ساکنہ ناؤ پورہ واگورہ بارہمولہ ہفتہ کی صبح نیو کالونی سوپور میں ترسیلی لائن کی مرمت کررہا تھا ،جس دوران اُسے بجلی کا زوردار جھٹکا لگا ار کھمبے سے زمین پر گر گیا ۔اس افسوسناک واقعہ میں مذکورہ عارضی ملازم جھلس کر شدید زخمی ہوا ،جسے فوری طور پر علاج ومعالجہ کی خاطر سب ضلع اسپتال سوپور پہنچایا گیا ،جہاں ڈاکٹروں نے اُسکی حالت تشویشناک قرار دیکر سرینگر منتقل کرنے کا مشورہ دیا ۔چنانچہ ڈاکٹروں کی جانب سے مذکورہ زخمی ملازم کو سرینگر منتقل کرنے کے مشور ے پر جب اسے علاج ومعالجہ کیلئے سرینگر لایا جارہا تھا ،تو وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاکر زندگی کی جنگ ہار گیا ۔معلوم ہوا ہے مرحوم محکمہ برقیات میں گزشتہ30برسوں سے بطور ڈیلی ویجر (یومیہ اُجرت ) کام کر رہا تھا ۔ملازم کی دوران ڈیوٹی موت ہونے کے واقعہ پر سوپور میں تعینات عارضی ملازمین کی ایک بڑی تعداد صدر دفتر سوپور کے احاطے میں جمع ہوئی ،جہاں انہوں نے محکمہ کے خلاف احتجاج کیا ۔احتجاجی عارضی ملازمین نے الزام لگا یا کہ محمد رمضان کی موت محکمہ کی غفلت شعاری کے نتیجے میں ہوئی ۔انہوں نے کئی گھنٹوں تک یہاں احتجاجی دھرنا اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کی ۔احتجاجیون نے بتایا ترسیلی لائنوں کی مرمت کے دوران ضابطہ طریقہ کار پر عمل در آمد نہیں کیا جاسکتا ہے جسکی وجہ سے قیمتی جانیں تلف ہورہی ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ اسے پہلے بھی ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جن میں سینکڑوں عارضی ومستقبل ملازمین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ درجنوں ایسے ملازمین بھی ہیں ،جو عمر بھر کیلئے معذور ہوئے ۔انہوں نے غریب عارضی ملازمین کے لواحقین کے حق میں معقول معاوضہ دینے کی مانگ کی جبکہ انہوں نے عارضی ملازمین کے تحفظ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا ۔ادھر جونہی مہلوک کی میت آبائی علاقہ پہنچائی گئی ،تو صف ماتم بچھ گئی ۔بعد ازاں اُسے آہوں ،سسکیوں اور پُرنم آ نکھوں کے آبائی قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا ۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے اپنی سطح پر تحقیقات شروع کردی ۔

Comments are closed.