محمد یاسین ملک ایک بار پھر گرفتار‘ سینٹرل جیل منتقل کردئے گئے ‘ جے کے ایل ایف لیڈران کا قتل و غارت، این آئی اے ہڑبھونگ،جی ایس ٹی جارحیت،اسیروں پر مظالم اور بھارتی فورسز کی غنڈہ گردی کے خلاف لال چوک میں احتجاج / محبوس محمد یاسین ملک
16جون//جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین جناب محمد یاسین ملک کوایک اور فرنٹ لیڈر غلام محمد ڈار کے ہمراہ آج ایک بار پھر اسوقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ لبریشن فرنٹ کے آفس واقع آبی گزر پر موجود تھے۔ پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے فرنٹ آفس کا گھیرائو کیا اور یاسین صاحب کو گرفتار کرکے لے گئے۔ بعد ازاں انہیں ۱۹؍ جون تک جوڈیشل ریمانڈ پر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔یاسین صاحب کی گرفتاری کے باوجود لبریشن فرنٹ کے قائدین و اراکین جن میں نور محمد کلوال،مشتاق اجمل،جاوید زرگر،محمد یاسین بٹ،شیخ عبدالرشید،بشیر کشمیری،اشرف بن سلام،مشتاق احمد خان،پروفیسر جاوید اور دوسرے لوگ شامل تھے نے آج ہی بڈشاہ چوک لال چوک کے قریب ایک پرامن احتجاج کیا جس کا مقصد گزشتہ روز اور آج کی گئی بہیمانہ ہلاکتوں،این اے آئی کی ہڑبھونگ،جی ایس ٹی اقتصادی جارحیت،وادی بھر میں جاری فورسز کی غنڈہ گردی اور جیل میں بند پڑے اسیروں کی حالت زار کے خلاف پرامن احتجاجی آواز بلند کرنا تھا۔پولیس کی بھاری تعداد نے آج صبح لبریشن فرنٹ کے دفتر واقع آبی گزر کا گھیرائو کیا اورچیئرمین محمد یاسین ملک کو ایک اور فرنٹ لیڈر غلام محمد ڈار کے ساتھ گرفتار کرلیا۔ بعدازاں ان دونوں کو ۱۹؍ جون تک ریمانڈپر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ گرفتاری سے قبل میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ وادی میں معصوموںکا قتل عام بے دریغ جاری ہے اور ماہ رمضان کریم میں اس بدترین قتل و غارت کا بازار اور بھی گرم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حمایت اور ایماء پر کام کرنے والی فسطائی طاقتیں ماہ رمضان میں کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں اور اس قتل عام سے یہ لوگ سادیتی خوشی(Sadistic Pleasure) محسوس کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل شام عین افطار کے وقت خون کے خوگر ان فورسز نے بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے معصوم نصیر احمد کو رنگریٹ میں قتل کردیاجبکہ آج آرونی کے مقام پرآخری اطلاعات ملنے تک ایک اور معصوم محمد اشرف کو تہہ تیغ جبکہ کئی درجن کو پیلٹ اور بلٹ مار کر زخمی کردیا گیا ہے اور کئی مکانات کو بھی زمین بوس کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب بھارت کی خونی فوجیں اور فورسز کشمیریوں کے قتل عام میں منہمک ہے جبکہ دوسری جانب این آئی اے دہشت گردی،جی ایس ٹی اقتصادی جارحیت جیسے نت نئے حربے بھی آزمائے جارہے ہیں تاکہ کشمیریوں کی مزاحمت کو ختم کیا جاسکیم، کشمیریوں کی مزاحمتی قیادت کو بدنام کیا جاسکے اور کشمیریوں کی اقتصادی زندگی کو بھی تباہ کردیا جائے۔جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ قتل و غارت کا یہ سلسلہ،گرفتاریاں،خانہ نظربندیاں،این آئی اے دہشت گردی،جی ایس ٹی اقتصادی جارحیت اور ایسے ہی دوسرے استعماری حربے کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو ختم یا کمزور نہیں کرسکتے نا ہی یہ حربے ہمیں اپنی مبنی بر حق جدوجہد آزادی سے باز رکھ سکتے ہیں اور ان تمام استعماری حربوں کے باوجود ہماری تحریک ہر حال میں حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی(ان شاء اللہ)۔انہوں نے کہا کہ رمضان کریم کے پچھلے کئی روز سے بھارتی فورسز اور افواج نے کئی گائوں جات اور آبادیوں پر دھاوا بول کر نہ صرف رہائشی مکانات اور ضروریات زندگی کی توڑ پھوڑ کی ہے بلکہ مردوزن بچوں اور بزرگوں کو بلا تخصیص مارنے پیٹنے کا عمل شروع کررکھا ہے۔یہ بھارتی جارحیت بھی دراصل قابض فورسز کی بوکھلاہٹ کا پتہ دیتے ہیں اور ساتھ ہی ان سے ان فورسزکی فسطائی ذہنیت کا بھی پتہ چلتا ہے جن کا واحد کام انسانوں کے خون کی ہولی کھیلنا،انہیں زخمی کردینا،اندھا بنادینا اور انکی تذلیل کرنا ہے۔کل سے آج تک اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصومین کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ شہداء کا مقدس لہو اور ہمارے معصوم جوانوں کی عظیم الشان جدوجہدکسی بھی حال میں رائیگان نہیں جائے گا اور وہ وقت دور نہیں کہ جب ظلم اور ظالم کا خاتمہ ہوگا اور بالآخر مظلوم ہی فتح یاب ہوجائیں گے۔ 16جون//جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین جناب محمد یاسین ملک کوایک اور فرنٹ لیڈر غلام محمد ڈار کے ہمراہ آج ایک بار پھر اسوقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ لبریشن فرنٹ کے آفس واقع آبی گزر پر موجود تھے۔ پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے فرنٹ آفس کا گھیرائو کیا اور یاسین صاحب کو گرفتار کرکے لے گئے۔ بعد ازاں انہیں ۱۹؍ جون تک جوڈیشل ریمانڈ پر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔یاسین صاحب کی گرفتاری کے باوجود لبریشن فرنٹ کے قائدین و اراکین جن میں نور محمد کلوال،مشتاق اجمل،جاوید زرگر،محمد یاسین بٹ،شیخ عبدالرشید،بشیر کشمیری،اشرف بن سلام،مشتاق احمد خان،پروفیسر جاوید اور دوسرے لوگ شامل تھے نے آج ہی بڈشاہ چوک لال چوک کے قریب ایک پرامن احتجاج کیا جس کا مقصد گزشتہ روز اور آج کی گئی بہیمانہ ہلاکتوں،این اے آئی کی ہڑبھونگ،جی ایس ٹی اقتصادی جارحیت،وادی بھر میں جاری فورسز کی غنڈہ گردی اور جیل میں بند پڑے اسیروں کی حالت زار کے خلاف پرامن احتجاجی آواز بلند کرنا تھا۔پولیس کی بھاری تعداد نے آج صبح لبریشن فرنٹ کے دفتر واقع آبی گزر کا گھیرائو کیا اورچیئرمین محمد یاسین ملک کو ایک اور فرنٹ لیڈر غلام محمد ڈار کے ساتھ گرفتار کرلیا۔ بعدازاں ان دونوں کو ۱۹؍ جون تک ریمانڈپر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ گرفتاری سے قبل میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ وادی میں معصوموںکا قتل عام بے دریغ جاری ہے اور ماہ رمضان کریم میں اس بدترین قتل و غارت کا بازار اور بھی گرم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی حمایت اور ایماء پر کام کرنے والی فسطائی طاقتیں ماہ رمضان میں کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں اور اس قتل عام سے یہ لوگ سادیتی خوشی(Sadistic Pleasure) محسوس کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل شام عین افطار کے وقت خون کے خوگر ان فورسز نے بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے معصوم نصیر احمد کو رنگریٹ میں قتل کردیاجبکہ آج آرونی کے مقام پرآخری اطلاعات ملنے تک ایک اور معصوم محمد اشرف کو تہہ تیغ جبکہ کئی درجن کو پیلٹ اور بلٹ مار کر زخمی کردیا گیا ہے اور کئی مکانات کو بھی زمین بوس کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب بھارت کی خونی فوجیں اور فورسز کشمیریوں کے قتل عام میں منہمک ہے جبکہ دوسری جانب این آئی اے دہشت گردی،جی ایس ٹی اقتصادی جارحیت جیسے نت نئے حربے بھی آزمائے جارہے ہیں تاکہ کشمیریوں کی مزاحمت کو ختم کیا جاسکیم، کشمیریوں کی مزاحمتی قیادت کو بدنام کیا جاسکے اور کشمیریوں کی اقتصادی زندگی کو بھی تباہ کردیا جائے۔جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ قتل و غارت کا یہ سلسلہ،گرفتاریاں،خانہ نظربندیاں،این آئی اے دہشت گردی،جی ایس ٹی اقتصادی جارحیت اور ایسے ہی دوسرے استعماری حربے کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو ختم یا کمزور نہیں کرسکتے نا ہی یہ حربے ہمیں اپنی مبنی بر حق جدوجہد آزادی سے باز رکھ سکتے ہیں اور ان تمام استعماری حربوں کے باوجود ہماری تحریک ہر حال میں حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی(ان شاء اللہ)۔انہوں نے کہا کہ رمضان کریم کے پچھلے کئی روز سے بھارتی فورسز اور افواج نے کئی گائوں جات اور آبادیوں پر دھاوا بول کر نہ صرف رہائشی مکانات اور ضروریات زندگی کی توڑ پھوڑ کی ہے بلکہ مردوزن بچوں اور بزرگوں کو بلا تخصیص مارنے پیٹنے کا عمل شروع کررکھا ہے۔یہ بھارتی جارحیت بھی دراصل قابض فورسز کی بوکھلاہٹ کا پتہ دیتے ہیں اور ساتھ ہی ان سے ان فورسزکی فسطائی ذہنیت کا بھی پتہ چلتا ہے جن کا واحد کام انسانوں کے خون کی ہولی کھیلنا،انہیں زخمی کردینا،اندھا بنادینا اور انکی تذلیل کرنا ہے۔کل سے آج تک اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصومین کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ شہداء کا مقدس لہو اور ہمارے معصوم جوانوں کی عظیم الشان جدوجہدکسی بھی حال میں رائیگان نہیں جائے گا اور وہ وقت دور نہیں کہ جب ظلم اور ظالم کا خاتمہ ہوگا اور بالآخر مظلوم ہی فتح یاب ہوجائیں گے۔ درایں اثناء فرنٹ چیئرمین کی گرفتاری کے باوجود جے کے ایل ایف سے وابستہ کئی قائدین و اراکین نے آج لال چوک کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کا مقصد گزشتہ روز اور آج کی گئی بہیمانہ ہلاکتوں،این اے آئی کی ہڑبھونگ،جی ایس ٹی اقتصادی جارحیت،وادی بھر میں جاری فورسز کی غنڈہ گردی اور جیل میں بند پڑے اسیروں کی حالت زار کے خلاف پرامن احتجاجی آواز بلند کرنا تھا۔ جے کے ایل ایف قائدین نے مدینہ چوک سے لال چوک کی جانب مارچ کیا اور بڈشاہ چوک کے قریب پرامن دھرنے پر بیٹھ گئے۔احتجاجیو ں سے جے ایل ایف قائدین نور محمد کلوال اور شیخ عبدالرشید نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں وادی میں جاری جارحیت اور ظلم و جبر کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ فرنٹ نے بوگام بڈگام کے عظیم شہید بشیر بوگامی کے برادر نذیر احمد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔جے کے ایل ایف کے سینئر اراکین محمد رمضان،مولوی عبدالرشید،اے اے سرور،ٹیکا خان اور فاروق بیگ نے مرحوم کے گھر جاکر ان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ جے کے ایل ایف قائدین نے مرحوم کیلئے مغفرت کی دعائیں کرتے ہوئے ان کے لواحقین کیلئے صبر جمیل و جزیل کی دعائیں کیں۔
Comments are closed.