فوج کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے ، پاکستان چپ نہیں رہے گا
پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے روسی صدر کی ثالثی کا خیر مقدم کرتے ہیں /ترجمان پاک دفتر خارجہ
سرینگر؍15؍جون؍پاکستان نے بھارت پر ایک دفعہ پر کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ متبرک مہینے میں کشمیر میں مساجد کو بند کرکے کشمیریوں کو عبادت سے روک دیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھائے گا جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں عالمی برادری کو آگے آنا چاہئے ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان روسی صدر پیوٹن کی جانب سے پاک۔بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا ہے نے کہاکہ رمضان کے مہینے میں فوج نے کشمیر میں 25 کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ 200 سے زائد افراد کو زخمی کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کے اوقات میں بھی کشمیر میں مساجد کو بند کرکے کشمیریوں کو عبادت سے روک دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور کویی بھی معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان روسی صدر پیوٹن کی جانب سے پاک۔بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا خیر مقدم کرتا ہے۔سکھ زائرین کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آنے والے بھارتی سکھ یاتریوں کو اٹاری پر روک کر صرف چند سکھوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی گئی۔انہوں نے بھارتی حکام کی اس کارروائی پر افسوس کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے مصدقہ ویزا رکھنے والے سکھ زائرین کے ساتھ یہ سلوک افسوس ناک ہے کیونکہ اس وجہ سے سکھ یاتری ’جوڑ میلے‘ میں شرکت کے لیے لاہور نہ آسکے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 96 سکھ زائرین کو ویزے جاری کیے تھے۔نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ بھارت نے مسافروں کی قلیل تعداد کا بہانہ بنا کر خصوصی ٹرین نہیں چلائی جبکہ پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی خصوصی ٹرین کے ذریعے بھہ سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے نہیں دیا گیا۔مذہبی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مذہبی اقلیتوں کے لیے ہر قسم کے اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ بھارتی حرکت سے پاکستان کو مایوسی ہوئی ہے۔افغانستان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سائیڈ لائنز میں تعمیری ملاقات ہوئی جہاں دونوں رہنماؤں نے چار فریقی تعاون گروپ (کیو سی جی) سے امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا۔افغانستان میں قیام امن کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے تاکہ افغان عوام سکون سے اپنے ملک میں زندگی گزار سکیں۔
Comments are closed.