ڈاکٹر اپنے بیٹے کو مردہ قرار دے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا : یاسین ملک
بھارت کے جبر کے پاس کشمیری جوانوں کے لئے موت کے سوا کچھ بھی نہیں
سری نگر:یکم جولائی:/ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ ایک والد کہ جو ظلم کا شکار ہونے والے زخمیوں کے علاج میں مصروف ہو اور اچانک ان زخمیوں میں اپنے معصوم بیٹے کو پائے اور پھر اسے مردہ قرار دے کے غم و اندوہ ، تکلیف اور سانحے کو کون تصور کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کیوں اور کیسے اتنی سفاک اور غیر متحرک ہوکر ایسے انسانی المیے پر چپ سادھے بیٹھ سکتی ہے جبکہ معصوم فیضان احمد پوسوال کو زندگی کاتحفہ ملنا چاہے تھا لیکن بھارت کے جبر کے پاس کشمیری جوانوں کے لئے موت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔کے این این کو موصولہ تحریری بیان کے مطابق لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے لدھو پانپور میںمنعقدہ ایک تعزیتی مجلس جو ژاٹ پورہ پلوامہ میں جاں بحق کئے گئے معصوم ١٥ سالہ کشمیری نوجوان فیضان احمد کے لئے منعقد کی گئی تھی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک اور کھلتے ہوئے پھول کو بھارتی فوجی بوٹوں نے مسل کر رکھ دیاہے لیکن کسی بھی کسی کو افسوس یا اس انسانی المیے پر شرم ساری نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو معصومین کا یہ قتل عام روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے اور دوسرے جانب بھارتی فورسز، فوج ،پولیس اور این آئی اے،ای ڈی جیسی ایجنسیاں کشمیر یوں کی پرامن آواز کو دبانے کے لئے ہر قسم کے حربے آزمار ہے ہیں تاکہ کشمیریوں پر ہر قسم کی مکانیت مسدود کی جاسکے اور انہیں شکست دی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بلاوجہ گرفتارہاں ،قتل عام ،شبانہ چھاپے،لوگوں کو زخمی کردینا اور اُن کی تذلیل وبے تو قیری کرناجموں کشمیرمیں بھارتی جمہوریت کے واضح نشان بن چکے ہیں اور بھارتی حکمران اب ہتھکنڈوں سے کشمیر یوں کی پرامن مزاحمت اور آزادی و حق خودارایت کے حصول کے لئے جاری جدوجہد کو دبانا چاہتے ہیں ۔ جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ قتل و غارت گری اور ظلم وجبر سے کشمیریوں کو کہ جنہوں نے اپنی آزادی اورحق خودارایت کے حصول کے لئے عہد کیا ہوا ہے، شکست دینایا اُن کی آواز کو دبانا نہ ماضی میںممکن تھا اور ناہی مستقبل میںایس ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دو روز قبل بھارتی فوج اور فورسز نے پلوامہ کے چاٹ پورہ پر چڑھائی کی اور کریک ڈائون کے دوران لوگوں کی مارپیٹ، ٹارچر ، تحقیر و تذلیل اور ان پر گولیوں اور پیلٹ کی بارش کرنے کے سلسلے کو دراز کیا جس دوران نہ صرف سیکڑوں لوگ زخمی کئے گئے بلکہ ایک معصوم ١٥ سالہ بچے کی جان بھی لی گئی۔ اس سانحے کی سختی کا اندازہ اس بات سے لاگایا جاسکتا ہے کہ مقتول کے والد جو ایک ڈاکٹر ہیں پلوامہ ہسپتال میں بھارتی تشدد کا شکار زخمیوں کے علاج میں مصروف تھے کہ ان کے سامنے خود ان ہی کے بچے کا زخم خوردہ جسم لایا گیا جسے انہیں مردہ قرار دینا پڑا اور سفید کفن پہنا کر اس کے چھوٹے سے جنازے کو کاندھا دینا پڑا۔ یاسین صاحب نے کہا کہ ایک والد کہ جو ظلم کا شکار ہونے والے زخمیوں کے علاج میں مصروف ہو اور اچانک ان زخمیوں میں اپنے معصوم بیٹے کو پائے اور پھر اسے مردہ قرار دے کے غم و اندوہ ، تکلیف اور سانحے کو کون تصورمیں بھی لاسکتا ہے۔ آخر یہ دنیا کیوں اور کیسے اتنی سفاک اور غیر متحرک ہوکر ایسے انسانی المیے پر چپ سادھے بیٹھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم فیضان احمد پوسوال کو زندگی کاتحفہ ملنا چاہے تھا لیکن بھارت کے جبر کے پاس کشمیری جوانوں کے لئے موت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ شہید فیضان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے ان کے غم زدہ والدین اور رشتہ داروں کے عزم ،حوصلے اور صبر کو سلام پیش کیا اور کہا کہ ایک معصوم کے جنازے کو اُٹھانے کے بعد بھی یہ خاندان جس حلیمی اور ثبات کے مظاہرہ کررہا ہے وہ بے مثال ہے۔ انہوں نے اس غم زدہ خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کیلئے اللہ تعالیٰ سے نعم البدل کی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ آج کشمیر کے چہار اطراف خاص طور پر جنوبی کشمیر کے اضلاع میں جو ظلم و جبر اور قتل و گارت گری کا بازار گرم کیا گیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری جاگ جائے اور انسانوں کی اس بے دردانہ کٹائی کو روکے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری عالمی برادری خاس طور پر اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں اور آج جب کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہورہا ہے کشمیری چاہتے ہیں کہ یہ عالمی فورم کشمیریوں کو تحفظ دینے کیلئے آگے آئے اور اپنی ذمہ داریاں نبھائے کیونکہ اگر یہ ادارہ اور عالمی برادری کشمیر میں رہنے والے انسانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی تو ان کا ان کا انسایت کے ساتھ ساتھ ان داروں سے بھی ایمان و ایقان اٹھ جائے گا جو عالمی امن و استحکام کیلئے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔اس سے قبل محمد یاسین ملک ایک وفد جس میں فرنٹ کے زونل آرگنائزر بشیر احمد کشمیری اور تحریک حریت کے رمیض راجہ وغیرہ شامل تھے کے ہمراہ لھدو پانپور پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں انہوں نے معصوم شہید فیضان احمد کے والد، والدہ اور دوسرے غم زدہ لواحقین کی ڈھارس بندھائی۔ اس موقع پر محمد یاسین ملک ایک تعزیتی مجلس سے بھی مخاطب ہوئے اور بھارتی نوآبادیاتی ذہن والی فوج،فورسز،ایس او جی اور پولیس کے ہاتھوں ناختم ہونے والے قتل عام اور خون ریزی اور نہتے کشمیر یوں کو تہہ تیخ کئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
Comments are closed.