نئی سرکار کی تشکیل،کانگریس کا شمولیت سے ا نکار
آئندہ لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے آج ہوگی پالیسی ساز گروپ کی میٹنگ
سری نگر:یکم جولائی:کے این این/ محبوبہ مفتی اور غلام نبی آزاد کے درمیان نئی دہلی میں ہوئی میٹنگ سے متعلق قیاس آرائیوں اور میڈیا رپورٹس کے بیچ ریاستی کانگریس نے واضح کردیا کہ نئی سرکار بنا نے کے حوالے سے ایسی کوئی سرگردمی نہیں ہورہی ہے ۔پردیش کانگریس کے ریاستی صدر جی اے میر نے کہاکہ 2014میں ہماری پارٹی پی ڈی پی کو حمایت دینے کیلئے تیار تھی اور موجودہ صورتحال میں ایسی کسی پیش رفت کا کوئی امکان نہیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق پی ڈی پی ،بھاجپا کے درمیان سیاسی رشتہ ٹوٹ جانے کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے بعد کئی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔اتوار کی صبح میڈیا میں یہ خبریں گردش کرنے لگی کہ جموں وکشمیر میں ایک نئی سرکار کی تشکیل ہونے جارہی ہے اور اس حوالے سے سیا سی سرگرمیاں کشمیر سے نئی دہلی تک شروع ہوگئی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو نئی سرکار کی تشکیل کے حوالے سے نئی دہلی میں پی ڈی پی اور کانگریس کے اعلیٰ لیڈران کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ۔میڈیا رپورٹس کی مانے تو یہ بتایا گیا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے نئی دہلی میں کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کے ملاقات کی جبکہ دونوں پارٹیوں کے ممبران نے پارٹی عہدیداراں اور ممبران قانون ساز کونسل کو سرینگر میں موجود رہنے کے ساتھ متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی ۔جموں وکشمیر میں نئی سرکار کی تشکیل سے متعلق قیاس آرائیوں اور میڈیا رپورٹس کے بیچ کا نگریس نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ نئی سرکار کی تشکیل میں کانگریس موجودہ حالات میں کسی طرح کی شمولیت نہیں کرے گی ۔کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کے این این کے ساتھ بتایا کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں نئی سرکار کی تشکیل کے حوالے سے کافی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف میڈیا قیاس آرائیاں ہیں اور حقیقت میں اس حوالے سے کانگریس کی طرف سے کوئی سرگرمی نہیں ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی پی ۔بھاجپا حکومت کا اتحاد ریت کے گھر کی مانند ٹوٹ گیا ،چند گھنٹے کے بعد ہی کانگریس نے اپنی پالیسی واضح کی ۔ان کا کہناتھا کہ موجودہ صورتحال میں جموں وکشمیر میں کانگریس کی شمولیت والی سرکار کا بننا ناممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس موجودہ صورتحال میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ سر کار بنانے کی دوڑ میں نہیں ہے ۔غلام احمد میر نے کہا کہ ریاستی عوام کو زخم لگے ہیں او ر لوگ پریشان ہے جبکہ یہ سابق پی ڈی پی ۔بھاجپا حکومت کی دین ہے ۔کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہا کہ2014میں جب منقسم منڈیٹ عوام کی طرف سے ملا ،تو تب کے حالات کو ملحوظ نظر رکھ کر کانگریس نے پی ڈی پی کو حکومت بنانے کیلئے حمایت دینے کا اعلان کیا تھا ،لیکن پی ڈی پی نے ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کی اور ساڑھے تین سال بعد یہ ثابت ہو گیا کہ پی ڈی پی کا فیصلہ کتنا صحیح یا غلط تھا؟ ۔غلام احمد میر نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کانگریس کسی بھی پارٹی کے ساتھ حکومت نہیں بنائی گی اور نہ ہی اس طرح کی کوشش کی جارہی ہے ۔نئی دہلی میں اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے غلام احمد میر نے کہا کہ پیر کے روز کشمیر کے حوالے سے مرتب کیا گیا کانگریس کے پالیسی ساز گروپ کی ایک غیر معمولی میٹنگ منعقد ہوگی جس میں جموں وکشمیر کی مجموعی سیاسی وسلامتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ یہ میٹنگ ڈاکٹر من موہن سنگھ کی سربراہی میں منعقد ہوگی اور گروپ کے تمام ممبران کی جموں وکشمیر میں موجودہ صورتحال پر تجویز حاصل کی جائیگی ،جسکے بعد آئندہ لائحہ عمل مرتب کیا جائیگا ۔یاد رہے کہ19جون کو بھاجپا نے اچانک پی ڈی پی کے ساتھ حکومتی اتحاد توڑنے کا اعلان کیا تھا ۔بھاجپا کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا ۔بھاجپا نے یہ غیر متوقع فیصلہ نئی دلی میں جموں کشمیر کے اپنے سبھی ممبران اسمبلی کی موجودگی میں لیا ہے اور اسکا باضابطہ اعلان بھی کردیا گیا ہے۔نامہ نگاروں کو اپنی نوعیت کے اس فیصلے کی جانکاری دیتے ہوئے دونوں پارٹیوں کے بیچ طے پاچکے’’ایجنڈا آف ایلائنس‘‘کی دستاویز کے شریک مصنف اور بھاجپا ے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے کہا کہ یہ سرکار اپنے اہم مقاصد کے حصول میں بْری طرح ناکام ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار نہ جموں کشمیر میں امن قائم کرسکی ہے اور نہ ہی اسکے تینوں خطوں میں یکساں ترقی ہی ہوپائی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے ’’وسیع تر قومی مفاد میں اور اسکی سالمیت کیلئے‘‘پارٹی نے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے اور موجودہ حالات میں ریاست کے نظم کو گورنر کے ہاتھ سونپنے کا فیصلہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا ریاست میں گورنر راج کا نفاذ چاہتی ہے۔رام مادھو نے کہا کہ وادی میں بنیاد پرستی اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صحافی شجاعت بخاری کے دن دہاڑے قتل نے آزادی اظہار کو خطرے میں ڈالا ہے۔جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے کہا کہ انہوں نے پارٹی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور پارٹی ممبران پہلے ہی گورنر کو اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔ بی جے پی کی طرفسے اچانک ہی پی ڈی پی کی حکومت گرادینے کے بعد جموں کشمیر میں سیاسی افراتفری کا ماحول ہے۔حالانکہ یہاں کی سیاسی پارٹیوں کے ممبرانِ اسمبلی کی تعداداور ان پارٹیوں کے متضاد نظریات کو دیکھتے ہوئے کسی نئے اتحاد کی کوئی صورت نظر تو نہیں آتی ہے جبکہ سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے کوئی ’’جوڑ توڑ‘‘کی کوششیں کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انہوں نے اسمبلی کو ،جسے گورنر این این ووہرا نے معطل رکھا ہے،فوری طورتحلیل کرکے نئے انتخابات کے ذریعہ لوگوں کو ’’اپنی مرضی کی سرکار‘‘بنانے کا موقعہ دئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ ہفتے بھاجپا کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھر اچانک سرینگر وارد ہوئے ،جس دوران انہوںنے گور نر کے ساتھ ملاقات بھی کی ،تاہم انہوں نے بھی نئی سرکار بنانے سے صاف انکار کیا تھا ۔جموں وکشمیر جاری سیاسی بحران کے بیچ گور نر راج نافذ العمل ہے اور نئی سرکار بنانے کے حوا لے سے کافی قیاس آرائیاں کی جارہی ہے ،کیو نکہ قانون ساز اسمبلی کی اپنی مدت2020میں ختم ہونے والی ہے ۔
Comments are closed.