جہلم تھم گیا:سنگم بجبہاڑہ اوررام منشی باغ میںپانی کی سطح میں قابل قدرگرائوٹ
سیلاب کاخطرہ ٹل گیا
جنوبی کشمیراورسر ی نگرمیں ہنوزکئی بستیاں زیرآب:شمالی کشمیرمیں الرٹ برقرار
سری نگر:یکم جولائی :کے این این/ بارشوں کاسلسلہ رُک جانے کے نتیجے میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران دریائے جہلم میں سنگم بجبہاڑہ اوررام منشی باغ میں پانی کی سطح میں بالترتیب تقریباً7فٹ اور2فٹ کی گرائوٹ واقعہ ہوئی تاہم عشم سونہ واری کے مقام پرجہلم میں پانی کی سطح ابھی بھی خطرے کے نشان سے اوپرہے۔اس دوران جنوبی ضلع کولگام واسلام آبادکے علاوہ سری نگرمیں کئی بستیاں ابھی بھی چاروں اطراف سے سیلابی پانی س گھری ہوئی ہیں اورہزاروں لوگ گھروں میں محصورہوکررہ گئے ہیں ۔خیال رہے محکمہ موسمیات کے علاقائی ڈائریکٹرسونم لوٹس پہلے ہی خبردارکرچکے ہیں کہ کشمیروادی ،خطہ چناب اورخطہ پرپنچال میں 2اور3جولائی کودرمیانہ تاموسلاداربارشیں ہوسکتی ہیں ۔کشمیرنیوزنیٹ ورک کے مطابق سنیچر کی صبح سے بارشوں کاسلسلہ رُک جانے کے بعدکشمیروادی میں ممکنہ سیلاب کاخطرہ ٹل گیاکیونکہ دریائے جہلم میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے کئی فٹ نیچے آگئی ۔سنیچرکی شام 5بجے سنگم بجبہاڑہ کے مقام پرجہلم میں پانی کی سطح لگ بھگ24فٹ ریکارڈکی گئی تھی تاہم اتوارکوشام 5بجے یہاں پانی کی سطح16اعشاریہ59فٹ ریکارڈ کی گئی ،اوراس طرح سے گزشتہ24گھنٹوں کے دوران سنگم کے مقام پرجہلم میں پانی کی سطح میں تقریباً7فٹ کمی یارائوٹ واقعہ ہوگئی ۔اسی طرح سے سری نگرمیں رام منشی باغ کے مقام پرسنیچرکی شام 5بجے جہلم میں پانی کی سطح لگ بھگ20.96فٹ ریکارڈکی گئی تھی تاہم اتوارکوشام 5بجے یہاں پانی کی سطح18اعشاریہ79فٹ ریکارڈ کی گئی ،اوراس طرح سے گزشتہ24گھنٹوں کے دوران سنگم کے مقام پرجہلم میں پانی کی سطح میں تقریباً2فٹ کمی یارائوٹ واقعہ ہوگئی ۔محکمہ اری گیشن وفلڈکنٹرول کے ذرائع نے بتایاکہ دریائے جہلم میں تیزی کیساتھ پانی کی سطح میں کمی واقعہ ہورہی ہے جسکے باعث جنوبی کشمیراورسری نگرمیں فی الوقت سیلاب کاخطرہ ٹل گیاہے۔انہوں نے تاہم کہاکہ جنوبی اوروسطی کشمیرکے برعکس شمالی کشمیرمیں دریائے جہلم میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے ،اورعشم سونہ وار کے مقام پرجہلم خطرے کے نشان سے اوپربہہ رہاہے۔ذرائع کاکہناتھاکہ عشم سونہ وار ی کے مقام پرسنیچرکی شام جہلم میںپانی کی تقریباً12فٹ ریکارڈکی گئی تھی ،اوراتوارکوشام 5بجے یہاں پانی کی13.16فٹ تھی ،اس طرح سے عشم میں پانی کی سطح میں ایک فٹ کااضافہ ہواہے۔انہوں نے کہاکہ عشم سونہ واری میں ابھی بھی پانی خطرے کے نشان سے اوپربہہ رہاہے تاہم محکمہ اری گیشن وفلڈکنٹرول کے ایک سینئرانجینئرنے کہاکہ شمالی کشمیرمیں چونکہ جہلم خالی تھا،اسلئے سیلاب کاکوئی بڑاخطرہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ حاجن ،نائیدکھائی ،سوپوراوربارہمولہ میں جہلم تیزی کیساتھ بہہ رہاہے اورپانی کسی بھی جگہ جہلم کے کناروں کے بالکل نزدیک نہیں ہے ۔محکمہ اری گیشن وفلڈکنٹرول کے سینئرانجینئرنے کہاکہ اگرموسمی صورتحال بہتررہی اورجنوبی کشمیرمیں اوربارشیں نہیں ہوئیں توسوموارکے روزدریائے جہلم میں پانی کی سطح کافی نیچے آجائیگی ۔تاہم محکمہ موسمیات کے علاقائی ڈائریکٹرسونم لوٹس پہلے ہی خبردارکرچکے ہیں کہ کشمیروادی ،خطہ چناب اورخطہ پرپنچال میں 2اور3جولائی کودرمیانہ تاموسلاداربارشیں ہوسکتی ہیں ۔اس دوران جنوبی ضلع کولگام واسلام آبادکے علاوہ سری نگرمیں کئی بستیاں ابھی بھی چاروں اطراف سے سیلابی پانی س گھری ہوئی ہیں اورہزاروں لوگ گھروں میں محصورہوکررہ گئے ہیں ۔جنوبی کشمیرکے کولگام اوراسلام آباداضلاع میں ابھی بھی ایک درجن سے زیادہ دیہات زیرآب ہیں جبکہ کولگام میں کئی چھوٹے پُل بہہ جانے کے نتیجے میں ایک درجن سے زیادہ دیہات کاسڑک رابطہ کٹاہوا۔ادھرسری نگرکے مضافاتی علاقہ ایچ ایم ٹی میں نصب درجن کے لگ بھگ کالونیوں زیرآب ہیں ۔مصطفیٰ آباد،عمرآباد،غالب آباداوراقبال کالونی کے لوگوں نے بتایاکہ وہ گھروں میں محصورہوکررہ گئے ہیں کیونکہ گلی کوچوں اورمکانات کے گردونواح میں سیلابی پانی کافی مقدارمیں جمع ہے ۔متاثرہ بستیوں کے لوگوں نے بتایاکہ یہاں پانی کی نکاسی کیلئے ڈرنیج سسٹم ہی نہیں ہے اورجونالیاں بنائی گئی ہیں ،اُن کی صفائی نہ ہونے سے وہ گندگی سے بھری پڑی رہتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مارچ2017میں سرکارنے یہاں بڑی ڈرین تعمیرکرنے کااعلان کیاتھالیکن اب تک اس پرکام شروع نہیں کیاگیا۔
Comments are closed.