سالانہ امرناتھ یاترا آج سے ہوگی باضابط طور پر شروع

2ہزار995یاتریوں پر پہلا قافلہ جموں سے سرینگر کی طرف روانہ
ریاستی گورنر کے مشیروں کے وجے کمار اور بی بی ویاس نے ہری جھنڈی دکھا کر کیا روانہ،سیکورٹی کے فقید المثال بندوبست

سری نگر،جموں:۲۷،جون:/ فقید المثال سیکورٹی بندوبست کے بیچ سالانہ امرناتھ یاترا آج یعنی جمعرات سے با ضابط طور پر دو روایتی راستوں پہلگام اور بالہ تل سے شروع ہوگی ۔اس دوران109گاڑیوں اور 4موٹر سائیکلوں پر سوار 2ہزار995یاتریوں پر پہلا قافلہ جموں سے سرینگر کی طرف روانہ ہوا ،جس کو ریاستی گورنر کے مشیروں کے وجے کمار اور بی بی ویاس نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔ادھریاتریوں کیلئے امسال تاریخ کی سب سے بڑا سیکورٹی بندوبست کیا گیا ہے جسکے لئے جموں کے بنیادی بیس کیمپ بھگوتی نگر سے لیکر سطح سمندر سے 12ہزار756فٹ کی بلندی پر واقع امرناتھ گپھا تک فوج ،نیم فوجی ،سی آر پی ایف ،ایس اوجی اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا آج یعنی جمعرات سے باضابط طور پر شروع ہونے جارہی ہے ،جوکہ قریب60دنوں پر محیط ہوگی ۔یاتریوں کی حفاظت کیلئے تاریخ ساز سکورٹی بندوبست کئے جارہے ہیں اور اس مقصد کیلئے فوج ،نیم فوجی ،سی آر پی ایف ،ایس اوجی اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے جنکی تعداد ایک لاکھ بتائی جارہی ہے ۔اس دوران جموں کے بنیادی بیس کیمپ بھگوتی نگر سے300یاتریوں پر پہلا قافلہ سخت ترین سیکورٹی بندوبست میں سرینگر کی طرف روانہ ہوا ۔ریاستی گور نر این این ووہرا کے مشیروں کے وجے کمار اور بی بی ویاس نے بدھ کی صبح4بجکر30منٹ پر ہری جھنڈی دکھا کر سرینگر کی طرف روانہ کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ یہ یاتری کی109گاڑیوں اور4ماٹر سائیکلوں پر سوار ہے ۔یاتریوں کی گاڑیاں کے آگے پیچھے سخت ترین سیکورٹی بندوبست کیا گیا تھا ۔حکام کا کہنا ہے کہ سالانہ امرناتھ کے احسن انعقاد کیا گیا تمام تر ضروری اور بنیادی انتظامات کئے گئے ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ پہلے قافلے میں 2ہزار995یاتریوں کے پہلے قافلے میں2ہزار334مرد ،520خواتین،21بچے اور120سادھو شامل ہیں ۔مذکورہ یاتری ننون ،پہلگام اور بالہ تل گاندر بل کے بیس کیمپوں کی طرف روانہ ہوئے اور یہ تمام یاتری بحفاظت بدھ کی شام تک دونوں بیس کیمپوں تک پہنچ گئے ۔ سطح سمندر سے 12ہزار756فٹ کی بلندی پر واقع امرناتھ گپھا تک کا سفر جمعرات سے باضابط طور پر شروع ہوگا اور اسی طرح60دنوں پر محیط سالانہ امرناتھ کا آغاز ہوگا ۔معلوم ہوا ہے کہ ان یاتریوں میں سے ایک ہزار904یاتری 36کلو میٹر ننون پہلگام کا روایتی راستہ اختیار کریں گے جبکہ اسی طرح ایک ہزار91یاتری کم فاصلے والے12کلو میٹر بالہ تل راستے کا انتخاب کریں گے ۔سالانہ امرناتھ شیڈول کے مطابق 26اگست کو رکشا بندھن کے تہوار کے موقعے پر اختتام پذیر پہنچ جائیگی ۔گور نر کے مشیر کے وجے کمار کا کہنا ہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا ہندوؤں کیلئے کافی مقدس ہے جبکہ اسکو ملک بھر میں ایک اہم تقریب کے طور دیکھا جاتا ہے اور ہر ایک توجہ اس جانب مبذول ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گور نر این این ووہرا امر ناتھ شرائن بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں ،یاترا اور یاتریوں کی سہولیت انتظامات کو مزید بہتر بنانے کیلئے کام کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاؤن اور تمام سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہمیں پوری امید ہے کہ یاتریوں کیلئے عمدہ سیکورٹی بندوبست اور اعلیٰ سہولیت میسر رہیں گی ۔بی بی ویاس کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یاتریوں کی حفاظت کیلئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں ۔اس موقع پر نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا اور بی جے پی کے ایم ایل سی وکرم بھی یہاں موجود تھے ۔ گورنرراج میں منعقدہونے والی امرناتھ یاترامیں شامل ہونے والے لاکھوں یاتریوں کی حفاظت کویقینی بنانے کیلئے مختلف سطحوں پرغیرمعمولی سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔جموں سے پہلگام اوربالہ تل تک شاہراہوں ،سڑکوں ،حساس مقامات اوربیس کیمپوں کے گردونواح میں فوج ،نیم فوجی دستوں اورریاستی پولیس کے لگ بھگ پچاس ہزاراہلکارپورے دومہینوں تک سریع الحرکت رہیں گے جبکہ ریاست میں پہلے ہی تعینات لگ بھگ 25ہزاروں فورسزاہلکاروں کے علاوہ 22ہزار500اضافی پیراملٹری فورسزاہلکاربھی ہنگامی بنیادوں پرتعینات رہیں گے ۔سیول اورسیکورٹی ذرائع نے بتایاکہ مختلف سلامتی اورسراغ رساں ایجنسیوں نے یاتراکے دوران جنگجوئیانہ حملوں کااندیشہ ظاہرکیاہے ،اسلئے امسال یاتریوں کی حفاظت کیلئے ملٹی ٹائریعنی کثیردرجے والے فول پروف سیکورٹی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ یاتری گاڑیوں کی ہمہ وقت نگرانی کیلئے جموں یاتری نواس،سری نگرجموں شاہراہ،پہلگام روڑ،بالہ تل روڑاوردوسرے تمام اہم وحساس مقامات پرسیٹلائٹ سسٹم اورسی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نظررکھی جائیگی جبکہ حساس مقامات اورشاہراہوں پرہمہ وقت موبائل بُلٹ پرؤف بینکر،سونگنے والے ماہرکتے اورسریع الحرکت یعنیQuick-Reactionٹیمیں تعینات رہیں گی تاکہ کسی مشکل کے وقت یاتریوں کوفوری مددفراہم کی جاسکے ۔ذرائع کامزیدکہناتھاکہ یاترااوریاتریوں کی حفاظت پرمامورفوج ،فورسز،ریاستی پولیس ،این ڈی آرایف اورمختلف سراغ رساں ایجنسیوں کے مابین تال میل اورقریبی روابط کیلئے ایک مشترکہ کنٹرول روم رات دن کام کرتارہے گا۔انہوں نے کہاکہ ملٹی ٹائرسیکورٹی انتظامات کے تحت لگ بھگ ایک لاکھ سیکورٹی اہلکار28جون سے26اگست تک سالانہ امرناتھ یاتراکی خصوصی ڈیوٹی پرتعینات رہیں گے جن میں فوج ،فورسز،پیراملٹری فورسز،جموں وکشمیرپولیس اورنیشنل ڈیزاسٹرریسپانس فورس یعنی این ڈی آرایف کے اہلکاربھی شامل ہیں ۔

Comments are closed.