اقوام متحدہ کی کشمیررپورٹ گمراہ کن اورمبنی براغراض:آرمی چیف
فوج کاہیومن رائٹس ریکارڈصاف
ملکی حاکمیت اورعلاقائی سا لمیت کی خلاف ورزی:وزارت خارجہ
سری نگر:۲۷،جون:کے این این/ بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بدھ کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی حقوق انسانی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ رپورٹ جانبدارانہ اور گمراہ کن ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری اور کشمیری عوام انسانی حقوق کی تئیں بھارتی فوج کے ریکارڈ سے بخوبی واقف ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے 49صفحات پر مشتمل اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشر کی پہلی کشمیرالمرکوزرپورٹ کو یکسر مسترد کردیا ۔یاد رہے کہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ نے14جون کو ریاست جموں و کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک رپورٹ جاری کی تھی اور اس معاملے کی اعلی سطحی کمیشن سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔نامہ نگاروں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بدھ کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی مذکورہ رپورٹ کو جانبدارانہ اور گمراہ کن قرار دیا ۔ان کا کہناتھا ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بھارتی فوج کے انسانی حقوق کے تئیں ریکاترڈ پر تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے ،آپ جانتے ہیں ،کشمیری عوام جانتی ہیں ،اور عالمی برادری بھی بھارتی فوج کے انسانی حقوق کے تئیں ریکارڈ سے بخوبی واقف ہے ‘۔انہوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس رپورٹ کے حوالے سے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے ،ایسی کچھ رپورٹز جانبدارانہ ہیں ‘۔بری فوج کے سربراہ نے کہا ’انسانی حقوق کے تئیں بھارتی فوج کا ریکارڈ سب کے سامنے عیاں ہے ‘۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے کشمیر پر دیے گئے بیانات کو بے بنیاد قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشر کی جانب سے کشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال سے متعلق رپورٹ پر بھارت نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو یکسر مسترد کرد یا تھا۔مرکزی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا تھا ،جس میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کی کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ گمراہ کن ہے اور جانبدارانہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ تعصب پر مبنی ہے جبکہ رپورٹ کے ذریعے ایک غلط داستان رقم کرنے کی کوشش کی گئی ۔مرکزی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشر کی جانب سے کشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال سے متعلق رپورٹ بھارتی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی منافی ہے ۔انہوں نے مذکورہ رپورٹ پر سوالیہ بھی لگایا ۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں منتخب تالیف میں زیادہ تر غیر تصدیق شدہ معلومات موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان نے اِ سکے ایک حصہ طاقت کے بل پر قبضہ کیا ہے۔ ادھرپاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا تھا کہ’پاکستان اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تحقیقات کرنے کیلئے خیر مقدم کرے گا، بشرطیکہ بھارت جموں و کشمیر میں کمیشن کو تحقیقات کی اجازت دے‘۔انہوں نے کہا’پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے، اگر بھارت کو بھی چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو انہیں بین الاقوامی ذمہ داری سے بھاگنا نہیں چاہیے‘۔ اس دوران اقوام متحدہ میں پیر روز ہوئے مباحثے کے دوران ہند پاک مندوب میں ٹکراؤ ہوا ،جس دوران اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر سندیپ کمار بیاپو نے کہا تھا کہ پاکستان کی طرف سے اس طرح کے بیانات سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔بھارتی سفیر کے مطابق پاکستان کی طرف سے اس طرح کی کوششیں اس سے قبل بھی ناکام ہوگئی ہیں۔بھارتی سفیر نے یہ بیان پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کرنے کے نتاظر میں دیا تھا۔اس سے قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں انفرادی اور اجتماعی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بڑے پیمانے پر آنکھوں اور بینائی محروم کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام غیر قانونی اور جبری قبضے سے دوچار ہیں اور ایسے میں اُن پر نا قابل بیان مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت جموں وکشمیر میں اپنی فوج اور فورسز کے ہاتھوں ہورہی سنگین نوعیت کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کے چلتے عالمی قوانین کی بیخ کنی کا ارتکاب کرتا رہا ہے کیونکہ سنگین نوعیت کی پامالیوں کے مرتکب فورسز اہلکاروں اور عام شہریوں کے تئیں دوہرا معیار اپنا یا گیا ہے اور یہ کہ فورسز اہلکاروں کو کسی بھی سطح جواب دہ نہیں بنایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت و سلامتی کی بنیادی ذمہ داری نبھائے اور ذمہ داری سے منہ چرانے کیلئے بھارت کشمیر کے حوالے سے خارجی صورتحال کو بہانا بناتا رہا ہے ۔پاکستان کی خاتون مندوب کا کہناتھا کہ بھارت یا کوئی بھی دوسرا ملک عالمی اصولوں کے تئیں سرد مہری اختیار نہیں کرسکتا ہے اور نہ تاریخی حقائق اور تہذیبی قواعد سے منہ چرا سکتا ہے ۔ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک پر لازم ہے کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کو یقینی بناتے ہوئے اس حوالے سے اپنی انسانی ذمہ داریوں کا خاص خیال رکھیں اور ایسا کرتے وقت ماضی کے حالات وواقعات سے سبق لیا جانا چاہئے ۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ دونوں ممالک کے مندوب کشمیر کے معاملے پر ایکدوسرے سے اُلجھ پڑے ۔یاد رہے کہ14جون کو اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشرنے منقسم ریاست جموں وکشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال کے حوالے سے اپنی پہلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ 7دہائی پرانے تنازعہ کشمیرابتک ہزاروں لاکھوں زندگیوں کوتباہ وبربادکردیاہے۔سوئزرلینڈکے شہرجنیوامیں49صفحات پرمشتمل رپورٹ جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ ہائی کمشنربرائے حقوق انسانی زیدرعدالحسین نے کشمیر کے آر پار سنگین نوعیت کی حقوق انسانی پامالیوں اورمرتکب سیکورٹی اہلکاروں کو استثنیٰ دیئے جانے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی سفارش کردی ہے۔انہوں نے خبردار کیاکہ تنازعہ کشمیر صرف ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی اور ٹکراؤ کی بنیادی وجہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ تنازعہ اب تک لاکھوں ، ہزاروں انسانی زندگیوں کی تباہی وبربادی کا موجب بھی بنا ہے ۔
Comments are closed.