مرکزی وزیر داخلہ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں
سرکار اور قومی سطح پر اپوزیشن پارٹیاں مل کر کشمیر کا مسئلہ حل کریں /پروفیسر سیف الدین سوز
سرینگر؍10؍جون؍ ؍؍ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی نے کہاکہ’’میں ہوم منسٹر شری راج ناتھ سنگھ جی کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے دعوے ٰ کیا ہے کہ حکومت ہند کشمیر کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیگی۔ کچھ حلقو ں نے اس بیان کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا ہے مگر میرا خیال ایسے حلقوں کی رائے سے مختلف ہے۔جے کے این ایس کے مطابق اس موقع پر میں اپنی سوچ کے مطابق یہ خیال کرتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ مرکزی سرکار اور قومی سطح کا حذب اختلا ف(نیشنل اپوزیشن ) جس کی سربراہی کانگریس پارٹی کر رہی ہے ، مل کر کشمیر کے مسئلے پر ایک بامقصد مذاکرات شروع کرنے کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ میری نظر میں ایسا راہِ عمل ممکن بھی ہے اور بامقصد بھی ہو سکتا ہے۔ دریں اثناء میں نے ہندوستان کی سیول سوسائٹی کے بہت سے اکابرین ، جن میں سیاستدان بھی شامل ہیں ،کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ قومی سطح پر کچھ ٹی وی چنلیں اور کچھ تیز طرار مگر گمراہ شخصیتیں ٹی وی چنلوں پر آکر کشمیر پر ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جس سے علیحدگی پسندی اور منفی رجحانات کو تقویت مل سکتی ہے۔ ان اکا برین کو میں نے بتایا کہ اُن کو اس غلط پرو پگنڈے کو روکنا چاہئے ۔ میں نے اُن کو (روشن خیال لوگوں کو ) یہ بھی کہا کہ اُ ن کو کشمیر کی تشویش ناک صورتحال کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ کشمیر کے لوگ کتنے مصائب اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ، میں نے ان اکابرین سے کہا کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ کشمیر کے سیاسی منظر میں مذہبی انتہاء پسندی شامل ہو گئی ہے۔ میں نے ان کو یہ بھی سمجھایا کہ اس ناز گھڑی میں اگر وہ یعنی یہ دور اندیش لوگ ہمت سے کام لیں گے تو کشمیر کے ساتھ بشمول حریت کانفرنس ایک بامقصد بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔ ‘‘
Comments are closed.