کشمیری نوجوانوں میں عسکریت پسندی کا بڑھتا رجحان
ترال کا انڈر گریجویٹ طالب علم عسکری صف میں شامل
سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ،پولیس نے تحقیقات شروع کردی
سرینگر:۲۱،جون:کے این این/ وادی کشمیر میں پڑھے لکھے نوجوانوں میں عسکریت پسندی کی جانب بڑھتا رجحان ،جہاں سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے باعث تشویش ہے ،وہیں کشمیری نوجوانوں میں عسکریت کی راہ اختیار کرنے کا سلسلہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔جنوبی قصبہ ترال سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم جنگجوؤں کے صفوں میں شامل ہوا ہے اور اسکی تصویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے ۔اس سلسلے میں کے این این کو ملی تفصیلات کے مطابق ایک اور کشمیر ی نوجوان نے عسکریت کی راہ اختیار کرکے عسکریت پسندتنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 22سالہ انڈر گریجویٹ طالب علم محمد شارق ساکنہ ہاری پری ترال عید سے قبل ہی اپنے گھر سے لاپتہ ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر محمد شارق کی رائفل لیے ہوئے تصویر وائرل ہوئی ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ شارق نے عسکریت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ محمد شارق لیبارٹری ٹیکنالوجی میں گریجویشن کر رہے ہیں،تاہم یہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر اُس نے عسکریت پسند تنظیم جیش محمد میں شمولیت اختیار کی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔گزشتہ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا ،جس میں شارق کی والدہ غالباً اسپتال میں داخل کی گئی تھی اور اسکے قریبی رشتہ دار شارق کو گھر واپس آنے کی اپیل کررہے تھے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نازنین پورہ ترال میں گزشتہ دونوں ہوئی معرکہ آرائی جاں بحق ہوئے 3جنگجوؤں میں سے2مقامی تھے ۔عادل اکرم اور دانش خالق حال ہی میں عسکری صف میں شامل ہوئے تھے ۔عادل اکرم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جھڑپ سے3گھنٹے عسکری صف میں شامل ہوئے تھے جبکہ اکرم 23دنوں سے سرگرم تھا ۔رواں برس سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے مرتب کردہ ایک رپورٹ منظر عام پر آتی تھی ،جس میں کشمیر وادی میں نوجوانوں کا عسکریت پسندی کی جانب بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق2016میں حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد جنگجوؤں نوجوانوں کا تعلق مہلوک جنگجوؤں یا انکاؤنٹر والے مقامات سے10کلومیٹر دائرے کے اندر بتایا گیا ہے۔رپورٹ میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ نوجوان صرف ہلاک شدہ جنگجوؤں کے40روز بعد ہی عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں جو سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔وادی میں مقامی نوجوانوں کی جنگجوؤں کی صفوں میں بڑھتی تعداد پر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ2016میں 94، 2017میں113جبکہ2018میں یہی تعداد 149تک پہنچ گئی۔اس دوران فوج کے ساتھ خونریز جھڑپوں میں ہلاک شدہ جنگجوؤں کی تعداد سے واقف کراتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016میں 33جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس دوران88نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ رپورٹ کے مطابق سال 2017میں فوج کے ساتھ مختلف انکاؤنٹروں کے دوران80عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس دوران 131نئے نوجوانوں نے جنگجوئیت اختیار کی۔ جنوبی کشمیر میں نوجوانوں کا عسکریت پسندی کی جانب بڑھتے رجحان پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2010سے 461نوجوان جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوئے ہیں جن میں331نوجوانوں کا تعلق جنوبی کشمیر سے ہیں۔
Comments are closed.