سینئر صحافی کا قتل ،حالیہ شہری ہلاکتیں ، وادی میں ہڑتال سے معمولات زندگی مفلوج
سڑکیں ،بازار ویران ،ریل سروس معطل ،گیلانی ،میر واعظ اور صحرائی خانہ نظر بند ،ملک یاسین گرفتار
سری نگر:۲۱،جون:/ سینئر صحافی کا قتل اور حالیہ شہری ہلاکتوں کے سلسلے کے خلاف مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی بھر میں جمعرات کو ہمہ گیر شٹر ڈاؤن وپہیہ جام ہڑتال سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر خاص سمیت وادی بھر کے حساس علاقوں میں دفعہ144کے تحت حکم امتناعی نافذ رہا ۔ سید علی گیلانی ،محمد اشراف صحرائی ،میر واعظ عمر فاروق سمیت کئی مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بندرکھا گیا اور محمد یاسین ملک گرفتار کیا گیا جبکہ ریل سروس سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل رکھی گئی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے بلائی گئی احتجاجی ہڑتال کے نتیجے میں جمعرات کو وادی بھر میں معمول کی زندگی متاثر رہی ۔مزاحمتی قیادت نے یہ کال سینئر صحافی شجاعت بخاری کے قتل اور نوجوانوں کی متواتر بنیا دوں فورسز کے ہاتھوں ہلاکتوں کے سلسلے کے خلاف دی تھی ۔شہر سرینگر سمیت وادی کے طول وعرض میں جمعرات کو دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز ،سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔ہمہ گیر شٹر ڈاؤن وپہیہ جام ہڑتال سے سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی جبکہ عدالتوں میں بھی روزمرہ کے کام کاج پر اثر دیکھنے کو ملا ۔نمائندوں کے مطابق تجارتی مرکز لالچوک سمیت وادی کے تمام چھوٹے بڑے بازار بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہنے سے چار سو سڑکیں اور بازار ویران نظر آرہے تھے ۔ضلع سرینگر کے علاوہ وسطی ضلع بڈگام اور گاندر بل کے ساتھ ساتھ جنوبی اضلاع پلوامہ ،اننت ناگ ،شوپیان اور کولگام میں بھی ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی ۔ادھر شمالی کشمیر کے تین اضلاع کپوارہ ،بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی ہڑتال کا خاصا اثر دیکھنے کو ملا ۔اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر خاص سمیت وادی بھر کے حساس علاقوں میں دفعہ144کے تحت حکم امتناعی نافذ رہا ۔حساس علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پولیس وفورسز کے اضافی دستے تیاری کی حالت میں تعینات رہے جبکہ دن بھر فورسز گاڑیاں گشت کرتی ہوئی نظر آئیں ،اسکے علاوہ کئی چوراہوں پر فورسز گاڑیاں نصب کی گئی تھیں اور کئی علاقوں میں خاردار تاروں سے رکاوٹیں بھی پیدا کی گئی تھیں ،تاکہ لوگ کسی طرح کے جلوس برآمد نہ کرسکیں ۔ادھر سید علی گیلانی ،محمد اشراف صحرائی ،میر واعظ عمر فاروق سمیت کئی مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بندرکھا گیاجبکہ محمد یاسین ملک کو لالچوک میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت سے روکنے کیلئے پولیس جمعرات کی صبح حراست میں لیا اور تھانہ نظر بند رکھا ۔ اس دوران وادی کشمیر میں چلنے والی ریل خدمات جمعرات کی علی الصبح ایک دن کے لئے معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات ظاہری طور پر کشمیری مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے حالیہ شہری ہلاکتوں اور وادی کے سرکردہ صحافی، ادیب اور قلمکار سید شجاعت بخاری کے قتل کے خلاف دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر معطل کی گئی ہیں۔ریلوے حکام کے مطابق ’ہم نے ریاستی پولیس کے مشورے پر جمعرات کو چلنے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کردیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’بارہمولہ اور سری نگر کے درمیان کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بانہال کے درمیان بھی کوئی ٹرین نہیں چلے گی‘۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کشمیر میں گزشتہ کچھ دنوں سے فورسز کے ہاتھوں مسلسل ہلاکتوں اور وادی کے سرکردہ صحافی ادیب اور قلمکار سید شجاعت بخاری کے بہیمانہ قتل کیخلاف پورے جموں وکشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ عید الفطر کے روز سے ہی وادی میں فورسز نے ایک بار پھر ظلم و جبر کا بازار گرم کرکے براہ راست فائرنگ(ٹار گٹ کلنگ) کے ذریعہ تین نہتے کشمیری نوجوانوں شہیدوقاص احمد راتھرولد غلام قادر راتھر سکونت ناؤپورہ پلوامہ، شہید شیراز احمد نائیکو ولد غلام محمد نائیکو ساکنہ براکہ پورہ اسلام آباد،اور شہید اعجاز احمد بٹ ولد بشیر احمد بٹ ساکنہ میربازار اسلام آباد کوپیلٹ اور بلٹ کے ذریعہ جاں بحق کردیا جبکہ ایک اور نوجوان عبدالمجید وار ولد غلام نبی وار ساکنہ آنچار صورہ کو شدید زخمی کردیا جو صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اوریہ ہلاکتیں اُس وقت عمل میں لائی گئیں جب نہتے مظاہرین پرسرکاری فورسز نے بے دریغ گولیاں برسا کر درجنوں افراد کو شدید طور پر زخمی کر دیا ۔قائدین نے کہا کہ سیز فائر کے اختتام کے ساتھ ہی حکمرانوں نے کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کے تحت وادی کے مختلف علاقوں خصوصاً جنوبی کشمیر میں نہتے عوام کو تختہ مشق بنانا شروع کردیا ۔یاد رہے کہ سینئر صحافی شجاعت بخاری کو عید سے دو روز قبل14جون کو اپنے دفتر کے باہر پریس کالونی سرینگر میں نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر دو محافظوں سمیت ابدی نیند سلادیا تھا ۔ادھر پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ وادی میں جمعرات کو صورتحال مجموعی طور پر پُرامن ہی رہی ۔
Comments are closed.