شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر چار سیکٹروں میں گھمسان کی جھڑپ جاری ، اوڑی میں 6، گریز میں ایک جنگجو ں بحق /دفاعی ذرائع
سرینگر؍10؍جون؍شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر دراندازی کرنے والے جنگجوؤں کے خلاف چوتھے روز بھی آپریشن کے دوران ابتک 14جنگجو اور ایک فوجی اہلکار مارے گئے ۔ فوج نے اوڑی اور گریز میں دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ طویل جھڑپ کے دوران 7جنگجوؤں کو مار گرایا گیا او راُن کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن جاری ہے فرار ہوئے جنگجوؤں کو تلاش کرنے کیلئے جنگل کو پوری طرح سے سیل کیا گیا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق شمالی کشمیر میں مزید جنگجوؤں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر جنگلاتی علاقوں میں تلاشی کارروائیوں میں شدت لائی گئی ہے۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو فوج نے مژھل ، نوگام اور اوڑی سیکٹروں میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک گھنے جنگلات میں تلاشی شروع کی جس دوران اوڑی سیکٹر میں دراندازی کرکے اس پار داخل ہونے والے عسکریت پسندوں اور فوج کا آمنا سامنا ہوا۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ اوڑی سیکٹر میں پچھلے دو روز سے 6عسکریت پسندوں کو مار گرایا گیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق سنیچر کے روز گریز سیکٹر میں مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد تلاشی آپریشن شروع کیا گیا جس دوران عسکریت پسندوں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق فوج نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی اور کئی گھنٹوں تک دوبدو لڑائی کے بعد جھڑپ کی جگہ ایک عدم شناخت جنگجوں کی نعش برآمد کی گئی ہے ۔ فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن میں12انفنٹری بریگیڈ اوڑٰی نے حصہ لیا اور آپریشن گوالتہ سیکٹر میں کیا گیا جہاں ایک روز قبل ککر چوکی، دور بہادر چوکی اور انیل چوکیوں پر جنگجوؤں نے شدید فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 2جنگجوؤں کے مارے جانے کی اطلاع تھی لیکن دو پہر بعد ایک بار پھر تصادم آرائی ہوئی جس میں مزید3جنگجو مارے گئے۔ترجمان نے تاہم انکی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔یاد رہے کہ6جون کو مڑھل سیکٹر میں 5اور7جون کونوگاگم سیکٹر میں3جنگجو اور ایک فوجی اہلکار مارے گئے۔ جبکہ اوڑی سیکٹر میں فوج کے2اہلکار زخمی ہوئے۔دریں اثنا وزارت دفاع کے ایک آفیسر نے بتایا کہ امر ناتھ یاترنزدیک آنے کے ساتھ ہی لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر دراندازی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مذکورہ آفیسر کے مطابق پاکستان عسکریت پسندوں کو اس طرف دھکیل کر امن و امان کو درہم برہم کرنے پر تلا ہوا تاہم سرحدوں پر تعینات فوج کو مکمل اختیارات دئے گئے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی عمل لائے ۔ انہوں نے کہاکہ رواں برس کے جنوری مہینے سے فوج نے لائن آف کنٹرول پر 22دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا جس دوران 34عسکریت پسندوں کو مار گرایا گیا ہے۔ مذکورہ آفیسر نے مزید بتایا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے ملی جانکاری میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس کے دوران 25سے 35جنگجوں اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ مژھل ، کیرن، ٹنگڈار میں فوج نے پچھلے ایک ہفتے سے ایک درجن کے قریب جنگجوؤں کو جھڑپ کے دوران مار گرایا ۔ مذکورہ آفیسر کے مطابق پچھلے 48گھنٹوں کے دوران فوج نے کئی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا جس دوران آٹھ عسکریت پسند جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے اور اُن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ وزارت دفاع کے سینئر آفیسر نے مزید بتایا کہ 29جون سے شروع ہونے والی امر ناتھ یاترا کے حوالے سے حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ یاتریوں کو سیکورٹی دینے کیلئے مرکزی وزارت دفاع نے تمام تیاریوں کو آخری شکل دی ہے جبکہ عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
جے کے این ایس
Comments are closed.