شہر سرینگر کے کوٹ روڑ ، بنڈ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں جنگجو مخالف آپریشن
کئی ہوٹلوں کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی ، شہر سرینگر میں سیکورٹی کو الرٹ پر رکھا گیا ہے
سرینگر؍10؍جون؍ شہر سرینگر کے کوٹ روڑ اوراُس کے ملحقہ علاقوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا جس دوران کئی ہوٹلوں کی تلاشی لی گئی تاہم اس دوران کوئی قابل اعتراض شئے برآمد نہیں ہوئی ۔ پولیس ذرائع نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معمول کے مطابق فوج نے تلاش لی ۔ معلوم ہوا ہے کہ ایس او جی اورکوبرا رجمنٹ سے وابستہ اہلکارجدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔ جے کے این ایس کے مطابق شہر سرینگر کے قلب لالچوک ، کوٹ روڑ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں اُس وقت سراسیمگی پھیل گئی جب پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت نے کئی علاقوں کو محاصرے میں لے کر لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کردی ۔ نمائندے کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس ایس او جی اور سی آر پی ایف کے خصوصی اسکارڈ کوبرا رجمنٹ سے وابستہ اہلکاروں نے کوٹ روڑ اور بنڈ پر موجود ہوٹلوں کی تلاشی لی اس دوران ہوٹل مالکان سے پوچھ تاچھ کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق کئی گھنٹوں تک تلاشی لینے کے بعد پولیس وفورسز کو کچھ ہاتھ نہیں لگا جس کے بعد آپریشن کو ختم کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ تلاشی کارروائی کے دوران لالچوک ، ریگل چوک شاہراؤں پر ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو ملے جبکہ جنگجو مخالف آپریشن شروع ہونے کی خبر پھیلتے ہی لوگوں کی کثیر تعداد لالچوک پہنچ گئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس وفورسز کو اطلاع موصول ہوئی ہے کہ شہر سرینگر میں عسکریت پسند موجود ہیں تاہم پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق نہیں کی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق لالچوک اور ریگل چوک میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کرنے کے بارے میں انہیں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق پھیلائی جانے والی افواہوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔دریں اثنا شہر سرینگر میں امکانی حملوں کو ٹالنے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق شہر سرینگر کے حساس علاقوں میں تلاشی کارروائیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے جہاں پر راہگیروں ، مسافروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جار ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر سرینگر کے حدود میں آنے والی گاڑیوں کی بھی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے جبکہ مشتبہ افراد کی نقل وحرکت پر بھی نظر گزر رکھی جار ہی ہے۔
Comments are closed.