طالب علم کی ہلاکت کے خلاف شمال و جنوب میں پُر تشدد مظاہرے ،ٹیر گیس شلنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ
سرینگر؍09؍جون؍ طالب علم کی ہلاکت کے خلاف شمالی ، جنوبی کشمیر میں پُر تشدد مظاہروں کے بیچ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی ۔ شوپیاں ، پلوامہ ، اننت ناگ ، ترال ،حاجن ، سوپور اور سرحدی ضلع کپواڑہ میں لوگوں کی کثیر تعداد نے احتجاجی جلوس نکالا جس دوران طالب علم کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے انتظامیہ نے شہر خاص کے سات پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ اس دوران تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ جے کے این ایس کے مطابق جامع مسجد اننت ناگ میں نماز ادا کرنے کے بعد جب لوگ باہر آئے تو پولیس کی بھاری تعداد دیکھ کر انہوں نے اس پر احتجاج کرنا شروع کیا۔اسی اثناء میں یہاں نوجوان کی ایک بڑی تعداد اپنے ہاتھوں میں پوسٹر لئے آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ان کا تعاقب کرنا شروع کیا جس دوران احتجاجی نوجوانوں نے پتھراوکیا۔پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے ان پر جوابی پتھراوکے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج اور شلنگ کی۔پولیس نے مرچی گیس کے گولے داغے گئے جس کے بعد طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے باعث پورا علاقہ اشک آور گولوں سے لرز اٹھا اور ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیااورشلنگ اور مرچی گیس سے نمازیوں اور علاقہ میں لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران نوجوانوں کی ایک ٹولی نے ریشی بازار کی طرف جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گولے داغے جس کے بعد احتجاجی نوجوانوں نے شدید خشت باری کی۔اشک آور گولوں کی وجہ سے علاقہ دھویں سے بھر گیا جبکہ سڑکوں پر ہر طرف پتھر اور اینٹیں نظر آرہی تھیں۔پلوامہ میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب مشتعل نوجوانوں نے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالا اسی اثنا میں نوجوانوں کی ایک ٹولی نے پولیس پر پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ فورسز نے کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے ۔ پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے شلنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں اور خشت باری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کر نے کیلئے فورسز نے شدید شلنگ کرنے کے علاوہ مرچی گیس کا استعمال کیا احتجاج کررہے نوجوانوں اورفورسز کے مابین کئی گھنٹوں تک پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز نے ایک بار پھر علاقہ میں حد سے زیادہ مرچی گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں مکینوں کو تکلیف دن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی لوگوں کے مطابق فورسز کی طرف سے کئی گئی شلنگ کے نتیجے میں کئی شل مکانوں کے صحنوں میں گر گئے اور مرچی گیس کا دھواں ہر طرف پھیل گیا اور گھروں کے اندر بیٹھے بچوں ،خواتین اور بزرگوں کو شدید تکلیف ہوئی۔ترال اور کولگام میں بھی مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم آرائیاں ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جامع مسجد ترال سے لوگوں کی کثیر تعداد نے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق پولیس وفورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔ ادھرسرحدی ضلع کپواڑہ میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں کی کثیر تعداد نے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران پہلے سے تعینات فورسز نے احتجاج کرنے والوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق پولیس وفورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ اور مرچی گیس کا استعمال کیا جس کی وجہ سے کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔ حاجن بانڈی پورہ میں بھی جامع مسجد سے ایک جلوس نکالا گیا ، اسی اثنا میں چند نوجوانوں نے آرمی گڈ ول اسکول پر پتھراوکیا جس کے جواب میں فوجی اہلکاروں نے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ نمائندے کے مطابق مظاہرین اورفورسز کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اجس بانڈی پورہ میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں نے طالب علم کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ علاوہ ازیں مرکزی جامع مسجد سوپور سے بھی نوجوانوں نے مقامی جنگجوؤں کی یاد میں احتجاجی جلوس نکالا تاہم فورسز نے مظاہرین کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے اُن پر شدید شلنگ کی جس کی وجہ سے سوپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا ۔ نمائندے کے مطابق مظاہرین اور فورسز کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ ادھر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے شہر خاص کے سات پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ نمائندے کے مطابق جامع مسجد کی طرف کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس طرح رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں انتظامیہ نے تاریخی جامع مسجد میں لوگوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا جس پر عوامی حلقوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
Comments are closed.