سرکاری اسپتالوں میں عارضی ملازمین کی بھرتی پرپابندی عائد

اسپتال ترقیاتی فنڈکے غلط استعمال کااعتراف
خلاف ورزی کے مرتکب افسران کیخلاف کارروائی کی جائیگی:ناظم صحت کشمیر

سری نگر:۲۷،مئی:کے این این/ سرکاری اسپتالوں میں عارضی ملازمین کی بھرمارکااعتراف کرتے ہوئے ریاستی سرکارنے اسپتال ترقیاتی فنڈکے تحت افرادی قوت بڑھانے کے عمل پرپابندی عائدکردی ۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پرجاری کردہ آرڈرمیں ڈائریکٹرہیلتھ سروسزکشمیرنے چیف میڈیکل افسران ، میڈیکل سپرانٹنڈنٹوں،بلاک میڈیکل افسران سے کہاہے کہ وہ آئندہ ایسی بھرتیوں سے اجتناب کریں ۔ناظم صحت کشمیرنے محکمہ صحت کے اعلیٰ افسروں کومتنبیہ کیاہے کہ اس حکمنامہ یاآرڈرکی خلاف ورزی کے مرتکب افسران کیخلاف متعلقہ قواعدوضوابط کے تحت کارروائی کی جائیگی۔کے این این کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں متعلقہ چیف میڈیکل افسروں اورمیڈیکل سپرانٹنڈنٹوں کی جانب سے من مانے طورپرسفارشی اورمنظورنظرافرادکوعارضی بنیادوں پرملازمت فراہم کئے جانے کے نتیجے میں اسپتال ترقیاتی فنڈاوراسپتالوں کی آمدن پرپڑنے والے غیرضروری اخراجات کاسخت نوٹس لیتے ہوئے ریاستی سرکارنے افرادی قوت کی کمی کے بہانے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایسی بھرتیوں پرپابندی عائدکردی۔معلوم ہواکہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی زیرصدارت15مئی 2018کوسری نگرمیں منعقدہ ضلع ترقیاتی بورڈمیٹنگ کے دوران اس معاملے کوخوداُٹھایا،اوراسبات کاسخت نوٹس لیاکہ کس بنیادپرسرکاری اسپتالوں میں محکمہ صحت کے متعلقہ ذمہ دارمن مانے طورپرلوگوں کی بھرتی عمل میں لاتے ہیں ۔انہوں نے میٹنگ کے دوران محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے اسبات کاجواب طلب کیاکہ کیوں اسپتال ڈیولپمنٹ فنڈکایوں غلط استعمال کیاجاتاہے ۔وزیراعلیٰ نے حکام سے کہاکہ اسپتال ترقیاتی فنڈکواسپتال آنے والے مریضوں اوربیماروں کوبہترطبی سہولیات فراہم کرنے پرصرف کیاجائے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پرڈائریکٹرہیلتھ سروسزکشمیرنے 24مئی2018کوباضابطہ طورپرایک آرڈرزیرنمبرDHSK/Acctts/581-606جاری کرتے ہوئے فوری طورپوری وادی میں قائم سبھی سرکاری اسپتالوں میں HDFکی بنیادپرعارضی ملازمتوں پرپابندی عایدکردی ۔ناظم صحت کشمیرنے اپنے جاری کردہ آرڈرمیں کئی متعلقہ سرکیولروں اورآرڈروں کاحوالہ دیتے ہوئے میڈیکل افسران، ڈسٹرکٹ اسپتالوں وسب ڈسٹرکٹ اسپتالوں کی دیکھ ریکھ کرنے والے چیف میڈیکل افسران،میڈیکل سپرانٹنڈنٹوں،بلاک میڈیکل افسران اورمحکمہ صحت کے دیگرسبھی متعلقہ ذمہ داروں کویہ واضح ہدایت دی ہے کہ وہ سرکاری اسپتالوں وصحت مراکزمیں افرادی قوت کی کمی کابہانہ بناکرکسی بھی صورت میں آئندہ کسی بھی شخص کوملازمت فراہم نہ کریں کیونکہ ایساکرنے سے اسپتال ترقیاتی فنڈایسے ملازموں کی تنخواہوں پرخرچ ہوتاہے جبکہ یہ فنڈاصل میں سرکاری اسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے اوربہترطبی سہولیات کی فراہمی پرصرف کرنامقصودہے۔ ڈائریکٹرہیلتھ سروسزکشمیرکے جاری کردہ حکمنامہ میں اسبات کااعتراف کیاگیاہے کہ افرادی قوت کی کمی کے بہانے عارضی ملازمین کی تعیناتی عمل میں لائے جانے سے اسپتال ڈیولپمنٹ فنڈان ہی ملازمین کی تنخواہوں پرخرچ کیاجاتاہے اورسرکاری اسپتالوں کی انتظامیہ کوبعض اوقات معمول کے لازمی اخراجات کی کمی کاسامناکرناپڑتاہے ،اسلئے آئندہ کسی بھی شخص کوسرکاری اسپتالوں اورصحت مراکزمیں کسی بھی نوعیت کی ملازمت فراہم کرنے سے اجتناب کیاجائے ۔اپنے حکمنامہ میں ڈائریکٹرہیلتھ سروسزکشمیرنے وزیراعلیٰ کی جانب سے اس معاملے کوسری نگرضلع ترقیاتی میٹنگ کے دوران اٹھائے جانے کابھی حوالہ دیا۔ناظم صحت کشمیرنے چیف میڈیکل افسران،میڈیکل سپرانٹنڈنٹوں،بلاک میڈیکل افسران اورمحکمہ صحت کے دیگرسبھی متعلقہ ذمہ داروں کومتنبیہ کیاہے کہ اس حکمنامہ یاآرڈرکی خلاف ورزی کے مرتکب افسران کیخلاف متعلقہ قواعدوضوابط کے تحت کارروائی کی جائیگی ۔اُدھرکچھ چیف میڈیکل افسران ، میڈیکل سپرانٹنڈنٹوں،بلاک میڈیکل افسران نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ ہم ازخودکسی کواسپتال میں ملازمت فراہم نہیں کرتے ہیں بلکہ ایسی بھرتیوں میں عمومی طورسیاسی لیڈروں اورممبران اسمبلی کی سفار ش کارفرمارہتی ہے۔

Comments are closed.