منگل کوسیدعلی گیلانی ،میرواعظ محمدعمرفاروق اورمحمدیاسین ملک کی اہم میٹنگ

بدلتی صورتحال پرہوگااہم غوروخوض
مذاکراتی پیشکش کاجائزہ لیاجائیگا،مذاکرات سے متعلق JRLکی حکمت عملی ہوگی طے

سری نگر:۲۷،مئی:کے این این/ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی جانب سے مذاکرات پررضامندی ظاہرکئے جانے کی پیش رفت کاجائزہ لیکرحکمت عملی مرتب کرنے کیلئے 29مئی بروزمنگل وارکومشترکہ مزاحمتی لیڈرشپ کی اہم میٹنگ بزرگ قائدسیدعلی گیلانی کی رہائش گاہ واقع پیرباغ حیدرپورہ میں منعقدہوگی جس میں میرواعظ محمدعمرفاروق اورمحمدیاسین ملک شرکت کریں گے۔حریت(گ)کے ذرائع نے بتایاکہ اتوارکوحیدرپورہ میں حریت(گ)کے زیراہتمام نزول قرآن کانفرنس منعقد ہوئی جس میں حریت(گ) چیئرمین سیدعلی گیلانی ،تحریک حریت کے عبوری چیئرمین محمداشرف صحرائی اورلبریشن فرنٹ چیئرمین محمدیاسین ملک نے بھی شرکت کی تاہم حریت(ع)چیئرمین میرواعظ عمرفاروق اضافی مصروفیات کی بناء پردینی کانفرنس میں شرکت نہیں کرسکے۔ ذرائع نے بتایاکہ کانفرنس کے حاشیے پرمشترکہ مزاحمتی قیادت کی میٹنگ متوقعہ تھی لیکن میرواعظ عمرفاروق کی عدم موجودگی کے باعث ا ب یہ میٹنگ منگل وارکومنعقدہورہی ہے۔ذرائع نے بتایاکہ منگل وارکوحیدرپورہ میں سیدعلی گیلانی ،میرواعظ محمدعمرفاروق اورمحمدیاسین ملک کے درمیان اہم ترین میٹنگ ہوگی ،جسمیں مجموعی صورتحال کاجائزہ لیاجائیگاجبکہ میٹنگ میں حکومت ہندکی جانب سے کشمیرمیں کی گئی جنگ بندی کے محرکات پربھی غوروخوض کیاجائیگاجبکہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اس میٹنگ میں مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی جانب سے مذاکرات پررضامندی ظاہرکئے جانے پربھی تبادلہ خیال کیاجائیگا۔حریت(گ) ذرائع کی مانیں تواس میٹنگ میں تینوں مزاحمتی قائدین باہمی صلاح مشورے کے بعدمذاکرات کے حوالے سے ایک حکمت عملی طے کریں گے تاہم کوئی حتمی فیصلہ لینے سے پہلے ایک مشاورتی اجلاس بلایاجائیگاجس میں سماج کے مختلف طبقو ں وحلقوں کی نمائندگی کرنے والے سرکردہ اشخاص کواپنی راے ظاہرکرنے کاموقعہ فراہم کیاجائیگا۔ خیال رہے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے سنیچرکو کہا تھا کہ اگر علیحدگی پسند لیڈران بات چیت کے لئے میز پر آنے کے لئے تیار ہیں تو مرکزی سرکارکو بھی سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور کشمیری دونوں ہمارے ہیں۔ ایک انٹرویو میں راج ناتھ سنگھ نے کہا ’اگرعلیحدگی پسند بات چیت کے لیے ٹیبل پر آنے کو تیار ہیں تو ہم بھی سامنے آنے کے لیے تیار ہیں تاہم اْن کا اپروچ اس حوالے سے ابھی تک منفی ہی رہا ہے‘۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر پڑوسی ملک پاکستان بات چیت کے لئے سامنے آتا ہے تو نئی دہلی کو بھی مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔موصوف نے کہا کہ جو شخص بات چیت کرنے کے لئے رضامند ہو اْس کو اگر نظر انداز کردیا جائے تو یہ صحیح طریقہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت وادی کے اْن تمام نوجوانوں کے کیسوں کو واپس لینے پر سوچ بچار کررہی ہے جو پہلی دفعہ سنگ باری میں ملوث پائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے ساتھ نرمی کا سلوک اختیار کرنے کے پیچھے ریاستی عوام کے ساتھ گل مل جانا ہے تاکہ اْن کو لگے زخموں کا مداوا کیا جائے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ کشمیر اور کشمیری عوام دونوں ہمارے اپنے ہیں کیوں کہ کچھ شر پسند عناصر کی جانب سے وادی کے نوجوانوں کو ورغلایا جارہا ہے۔ ہم پہلی دفعہ سنگ باری میں ملوث نوجوانوں کو دہشت گردی کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں کیوں کہ انہیں ایک یا دوسرے بہانے سے ورغلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر وادی کے نوجوانوں کو تشدد کی راہ پر دھکیل کر اپنا سیاسی فائدہ سمیٹنا چاہتے ہیں۔ ریاست میں ماہ صیام کے پیش نظر یک طرفہ جنگ بندی پر بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار نے کافی غور وخوض کے بعد ریاست میں ماہ صیام کے پیش نظر یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تمام جنگجو مخالف آپریشنوں کو معطل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یک طرفہ جنگ بندی کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس کے لیے اگر دیگر تمام جماعتیں بھی سرجوڑ کر بیٹھ جاتی پھر بھی ایسا ممکن نہیں ہوپاتا۔

Comments are closed.